• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زمین کو تباہی سے بچانے کی کوشش، ناسا کا نیا خلائی جہاز روانہ

واشنگٹن (جنگ نیوز )ناسا کے سائنسدانوں نے ایک ایسی ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے ایک خلائی جہاز خلا میں بھیج دیا ہے جو مستقبل میں کسی خطرناک سیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے روک سکے گا۔ناسا کے اس مشن کا نام ’ڈارٹ مشن‘ ہے جس کی بنیاد پر وہ زمین کی طرف آنے والی کسی بڑی خلائی چٹان کو ناکارہ بنانے کی طویل مدتی تجویز کا جائزہ لے گا۔یہ خلائی جہاز ڈیمورفس نامی شہابیے سے ٹکرائے گا۔ناسا نے سیارچے یا خلائی چٹانوں کو کسی جوہری بم سے روکنے کی بجائے براہ راست کسی اسپیس کرافٹ سے ٹکرانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیارچے کے حجم کے مقابلے میں یہ خلائی جہاز ایک چھوٹے پتھر (چار فٹ) جیسا ہوگا تاہم ٹکرانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قوت اتنی ہوگی جس سے یہ سیارچہ اپنی سمت تبدیل کر سکتا ہے۔ اس تجربے کے ذریعے ناسا یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ مستقبل میں اگر کبھی کوئی بڑا سیارچہ زمین کی طرف بڑھے تو اس کی سمت تبدیل کی جا سکتی ہے یا نہیں۔امریکی خلائی ادارے نے بتایا کہ اس مشن سے یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ کسی اسپیس کرافٹ کو کسی سیارچے سے دانستہ طور پر ٹکرانا اس کے راستے کو بدلنے میں کس حد تک مؤثر ہے۔ ناسا کے سائنسدان یہ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ڈیمورفس کی رفتار اور راستے کو کس حد تک بدلا جا سکتا ہے۔سائنس دان جو کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر چند سو میٹر کے کائناتی ملبے کا کوئی حصہ زمین سے ٹکرائے تو پورے براعظم میں تباہی مچا سکتا ہے۔
یورپ سے سے مزید