• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی وبا،حکومت کو کووڈ لون اسکیموں سے 20 بلین پونڈ کا نقصان ہوگا

لندن (پی اے) حکومت کو کووڈ لون اسکیموں سے تقریباً 20 بلین پونڈ کا نقصان ہوگا۔ نئے اعدادوشمار کے مطابق جس خدشے کا پہلے اظہار کیا گیا تھا تجارتی اداروں کے اس سے بڑھ کر ڈیفالٹ یا فراڈ کے ارتکاب سے حکومت کو کووڈ لون اسکیموں سے نقصان کا سامنا ہوگا۔ ڈپارٹمنٹ فار بزنس، انرجی اور انڈسٹریل سٹریٹجی (BEIS) کے ایک اندازے کے مطابق تین اسکیموں کے تحت لئے گئے ساڑھے 66 بلین پونڈ میں سے 19 اعشاریہ 8 بلین پونڈ کا نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ ڈیٹا اس سال مارچ تک کا ہے اور اسکیموں کے بند ہونے سے قبل مزید 10 بلین پونڈ سے زائد ادھار لئے گئے اس لئے نقصان کے تھوڑے سے زائد ہونے کا امکان ہے۔ یہ رقم بڑی ہے تاہم نقصان کے 35 سے 60 فیصد کے درمیان یا 23 بلین اور 40 بلین پونڈ کے درمیان ہونے کے ایک پہلے کے اندازے سے کہیں کم ہے جو مارچ میں لگایا گیا تھا۔ کچھ نقصانات فراڈ یا غلط ادائیگیوں کے باعث ہوں گے، بائونس بیک لون اسکیم کے بارے میں خدشات زیادہ ہیں جس سے مارچ تک چھوٹی کمپنیوں کو 46 بلین پونڈ فراہم کئے گئے۔ اسکیم سے ادائیگی کو تیز کرنے کے لئے لینڈرز کو کمپنیوں کو رقم حوالے کرنے سے قبل سب سے زیادہ بنیادی چیکنگ کے سوا کچھ نہیں کرنا پڑا۔ آخر میں ایک ملین سے زائد تجارتی اداروں نے ایک بائونس بیک لون لیا۔ دوسری چیکنگس سے بہت سارے افراد فکر مند ہو گئے کہ فراڈ کرنے والے بڑی تعداد میں اسکیم کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ فراڈ یا غلطی کے باعث 3 اعشاریہ 6 اعشاریہ 3 بلین پونڈ کے درمیان قرضوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ زیادہ تر متوقع نقصان کا سبب قرضہ لینے والوں کے جائز وجوہات پر قرض کی ادائیگی میں ڈیفالٹ ہے تاہم ڈپارٹمنٹ نے بی بی ایل ایس میں فراڈ کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس نے اسکیم کے ڈیزائن اور اس اسکیم کے ذریعے جس تیزی سے قرضے جاری کئے گئے غور کرتے ہوئے کہا ہے کہ فراڈ کا خطرہ دوسری قرضوں کی دوسری دو اسکیموں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ڈپارٹمنٹ نے سکیمرز کا پتہ لگانے کے لئے انسوولنس سروس، کمپنینر ہائوس، دوسرے محکموں ، بنکوں اور مقامی اتھارٹیز کے ساتھ کام کیا ہے اور یہ کام کئی برسوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ اتھارٹیز نے کام کے نتیجے میں پہلے ہی 65 گرفتاریاں کی ہیں اور ساڑھے 3 ملین پونڈ برآمد کئے ہیں تقریباً 4 فیصد بائونس بیک لونز پورے واپس کئے گئے ہیں، 2 فیصد ڈیفالٹ ہوئے ہیں یہ تعداد برٹش بزنس بنک کی ہے جس نے اسکیم کا انتظام سنبھالا ہے۔ 20 فیصد سے زائد تجارتی اداروں نے ایک آپشن کا انتخاب کیا ہے جس کے تحت وہ اپنے قرضے کم تر شرح پر واپس کر سکتے ہیں سی بی آئی ایل ایس اور سی ایل بی آئی ایل ایس نامی دو دیگر اسکیموں کے تقریباً نصف فیصد قرضوں پر ڈیفالٹ کیا گیا۔ برٹش بزنس بنک نے کہا ہے کہ ا گرچہ ڈیفالٹس کی حتمی سطح کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا یہ تازہ ترین اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ قرضوں کی واپسی میں ناکامی کی سطح قرضوں کی ادائیگی سے قبل پیش کردہ سطح سے کم ہے اور یہ سطحیں بہرحال مارکیٹ کے یا انفرادی حالات میں تبدیلیوں کے تابع ہیں اور مستقبل میں تبدیلیوں کی حامل ہو سکتی ہیں۔
یورپ سے سے مزید