• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2030 تک چین میں کس مذہب کی پیروی کی جائے گی؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

2030 تک چین دنیا کی سب سے بڑی مسیحی آبادی رکھنے والا ملک بننے جائے گا۔ یہ پیش گوئی ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق چین 2030 تک دنیا کا سب سے بڑا مسیحی ملک بن سکتا ہے۔

اس حوالے سے چین میں مذہب پر تحقیق کرنے والے معروف ماہر فینگ گانگ یانگ کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ایک نسل سے بھی کم وقت میں رونما ہو سکتی ہے، اور بہت کم لوگ اس تیز رفتار تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔

چین کی آبادی اس وقت 1.4 ارب سے زائد ہے، جو بھارت کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت چین میں تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ پروٹسٹنٹ مسیحی موجود ہیں۔

سی بی این کے مطابق کیتھولک مسیحیوں کو بھی شامل کیا جائے تو 2030 تک چین میں مسیحیوں کی مجموعی تعداد 24 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جس کے بعد چین، امریکا، میکسیکو اور برازیل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا مسیحی ملک بن جائے گا۔

اگرچہ چین سرکاری طور پر ایک ملحد ریاست ہے، تاہم تیزی سے تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔

خیال رہے کہ 1976 میں ماؤ زے کی وفات اور ثقافتی انقلاب کے خاتمے کے بعد گرجا گھروں کے دوبارہ کھلنے سے چین میں مسیحیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

خاص رپورٹ سے مزید