• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈزنی پر بچوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر ایک کروڑ ڈالر جرمانہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکی تفریحی ادارہ والٹ ڈزنی کمپنی بچوں کی پرائیویسی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے باعث ایک بڑے قانونی معاملے میں پھنس گئی، جس پر کمپنی کو ایک کروڑ ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

امریکی ریگولیٹرز کے مطابق ڈزنی نے یوٹیوب پر بچوں کے لیے بنائے گئے مواد کو درست طور پر لیبل نہیں کیا، جس کے نتیجے میں کم عمر بچوں کو ہدف بنا کر اشتہارات دکھائے گئے اور ان کی ذاتی معلومات والدین کی اجازت یا علم کے بغیر جمع کی گئیں۔

یہ تصفیہ ابتدائی طور پر ستمبر میں امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کے ساتھ طے پایا تھا، تاہم منگل کے روز اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی۔

کیس کی بنیاد ڈزنی کی مبینہ غفلت پر تھی، جس کے باعث بچوں کے لیے مخصوص ویڈیوز کو درست زمرے میں شامل نہیں کیا گیا، اس غلط درجہ بندی کے نتیجے میں بچوں کو ٹارگٹڈ اشتہارات دکھائے گئے اور ان کا ڈیٹا جمع کیا گیا، جو بچوں کے ڈیٹا تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

معاہدے کے تحت ڈزنی ورلڈ وائیڈ سروسز انکارپوریٹڈ اور ڈزنی انٹرٹینمنٹ آپریشنز ایل ایل سی کو بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق قوانین پر مکمل عملدرآمد کے لیے ایک جامع پروگرام تشکیل دینا ہوگا۔

اس کیس کی جڑیں 2019 تک جاتی ہیں، جب فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور یوٹیوب کی مالک کمپنی گوگل کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد بچوں کے لیے ٹارگٹڈ اشتہارات اور ذاتی معلومات کے جمع کیے جانے کو روکنا تھا۔

خاص رپورٹ سے مزید