• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قائمہ کمیٹی قانون، صوبے بنانے کے بل پر سینیٹ سے باہر عوامی سماعت کی تجویز

اسلام آباد (خبر نگار) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے سینیٹ میں منظور ہونیوالے مختلف بلوں کے متن کے حوالے سے میڈیا کی غلط تشریحات کو دور کرنے کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی، چیئرمین نے کہا کہ ذیلی کمیٹی میں پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی نمائندگی شامل ہو گی ،انہوں نے صوبے بنانے کے بل پر سینیٹ سے باہر عوامی سماعت کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ عوامی سماعت کا آغاز جنوبی پنجاب سے ہو گا، کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سید علی ظفر کی زیر صدارت ہوا ،چیئرمین نے وزارت قانون کے فراہم کردہ کام پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں بلوں پر تاخیر ہوئی اور وزارت کو ہدایت کی کہ جلد از جلد مطلوبہ بریفنگ جمع کرانے کو یقینی بنائے تاکہ بلوں کو حتمی شکل دی جا سکے، کمیٹی نے زیادہ تر بل آئندہ اجلاس تک موخر کر دیئے، آئینی ترمیمی بل 2021 (آرٹیکل 59 کی ترمیم) مزید غور کیلئے موخر کر دیا گیا، سینیٹر سیمی ایزدی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 1998 میں ہونیوالی پانچویں مردم شماری میںپاکستان میں معذور افراد کی آبادی کی نشاندہی کی گئی جو پوری آبادی کے 2.38افراد ہیں لیکن اسکے بعد کوئی مستند سروے نہیں کیا گیا،چیئرمین نے بل کی جانچ کرتے ہوئے معذور شخص کی تعریف مانگ لی، سینیٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ ترمیم میں مزید وضاحت لانے کیلئے اقلیت کی تعریف کو بھی از سر نو بیان کیا جا سکتا ہے، چیئرمین نے وزارت کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے ڈیٹا حاصل کرنے کے عمل کو تیز کرے ، انہوں نے تاریخی ڈیٹا اور دنیا بھر میں پریکٹس فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی، آئینی ترمیمی بل 2021(آرٹیکلز 111,140,260اور 275کی ترمیم) کو بھی سفارشات کیساتھ موخر کر دیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید