• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شازیہ منظور سے لاعلمی، اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ دینے کا مطالبہ

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)شازیہ منظورکا نام پاکستان میوزک انڈسٹری میں کسی تعارف کا محتاج نہیں،پاکستان میں 90 کی دہائی میں چن میرا مکھنا، گھر آجا سوہنیا، مترا، بتیاں بجھائی رکھدی جیسے سدا بہار گانے گھر گھر سنائی دیتے تھے ۔ان گیتوں کو گانے والی شازیہ منظور کا نام ٹوئٹرٹاپ ٹرینڈ پرہے اور اس کی وجہ امریکہ میں مقیم ‘اسد انکل’ نے اپنی شادی کے موقع پردلہن کو گھرلے جانے سے قبل بنائی جانے والی ایک ویڈیو ٹوئٹرپرڈالی اورکیپشن میں گلوکارہ کو شازیہ آنٹی کہہ کرپکارا۔اسد انکل نامی صارف کی شیئرکردہ ویڈیو میں شازیہ منظور کو سُرخ رنگ کی لیمبرگنی میں سے باہر نکلتے ہوئے مقبول بھارتی گانا’ لیمبرگنی چلائی جاندے او’ گاتے دیکھا جاسکتا ہے، لیکن کیپشن میں صارف نے لکھ دیا کہ تصورکریں کہ آپ اپنی رخصتی کروانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن باہرنکل کردیکھیں تو کوئی آنٹی آپ کی گاڑی میں ایسا کررہی ہیں ‘۔یہ ویڈیو شیئرکرتے ہی اسد انکل کی ٹائم لائن پرردعمل میں غصے اور قہقہوں کا طوفان آگیا۔ شازیہ منظورکے فنی سفر سے آگہی رکھنے والوں نے صارف کی لاعلمی پرغم وغصے کا اظہارکیا۔اسد انکل کے بیرون ملک مقیم ہونے کے باعث ایک انوکھا مطالبہ بھی سامنے آیا، کئی صارفین کو لگتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ دینے کیلئے بس یہی ایک وجہ کافی ہے کہ وہ شازیہ منظور کونہیں جانتے۔کئی ایک نے لکھا کہ شازیہ منظوراگر ان کی شادی میں گانا گاتیں تو وہ ایک لفظ بھی کہنے کے بجائے شکرگزارہوتے۔کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے درخواست کی کہ اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ نہ کریں۔چند ایک نے ایک عرصے بعد شازیہ منظورکا نام پھرسے دہرانےاورٹوئٹرٹاپ ٹرینڈ بنانے کیلئے اسد انکل کا شکریہ ادا کیا۔اسد انکل نے لکھا کہ ‘ میں شازیہ منظور کے بارے میں نہ جاننے پر پاکستانی ٹوئٹرسے باضابطہ معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ تلافی کے طورپر میں اورمیری بیوی (جو مجھ سے مایوس بھی تھی) شازیہ منظورکے گانے بار بار سنیں گے۔اورتمام گانوں کے بارے میں جاننے کے بعد میں آپ سب سے دوبارہ رابطہ کروں گا‘۔

دل لگی سے مزید