• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر آپ ٹیکنالوجی کی دنیا میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو آپ نے ابھی تک غالباً ’’میٹاورس‘‘ کا لفظ ضرور سُن لیا ہوگا۔ اس اصطلاح کی گونج گزشتہ ماہ کے اواخر میں اس وقت عروج پر پہنچ گئی، جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے اپنے بزنسز کو میٹاورس بنانے کے عزائم کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کے لیے اپنی کمپنیوں کے پورٹ فولیو کا نام ’’میٹا‘‘ رکھنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

میٹاوَرس کیا ہے؟

کم از کم تادمِ تحریر ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس کی قانوناً میٹاوَرس کے طور پر شناخت کی جا سکے۔ اس کی پختگی کو سمجھنے کے لیے ایک مفید متوازی - حوالہ کے طور پر ٹیکنالوجی سیکٹر کے تجزیہ کار بینیڈکٹ ایونز کی وہ رپورٹ کارآمد ثابت ہوسکتی ہے، جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ ٹیلی کام سیکٹر کے بڑے سرمایہ کار کریگ میک کاؤ نے جب انٹرنیٹ کے بارے میں پہلی بار سُنا تھا تو ان کا ردِ عمل کیا تھا۔

معروف طور پر، یہ ایپل کے چیف ایگزیکٹو اسٹیو جابز تھے جنہوں نے ان مضمرات کو بیان کیا جو عالمی سطح پر ایک دوسرے سے منسلک کمپیوٹرز کے نیٹ ورک کے مواصلات، تجارت اور معلومات پر پڑ سکتے ہیں۔ جب اسٹیوجابز نے اپنی بات پوری کی تو میک کاؤ کا برجستہ ردِعمل تھا، ’’آئیے اسے خریدتے ہیں‘‘!

جس طرح آپ انٹرنیٹ میں سرمایہ کاری نہیں کر سکتے، اسی طرح آپ میٹاوَرس کی شناخت ایک منفرد پراڈکٹ، ٹیکنالوجی یا سروس کے طور پر نہیں کر سکتے۔ ایک بہتر سوال یہ ہو سکتا ہے: میٹاوَرس کیا بن سکتا ہے؟ ڈکشنری میں میٹاوَرس کے معنیٰ ’’ایک تھری ڈی ورچوئل دنیا، خصوصاً آن لائن گیمنگ میں رول پلیئنگ‘‘ بتاتی ہے، جبکہ ارب پتی امریکی انٹرپرینیور مارک زکربرگ اسے انٹرنیٹ کا مستقبل کا ورژن قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’میٹاوَرس اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے متعلق نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد اس وقت کو بہتر طور پر گزارنا ہے جو ہم پہلے ہی وہاں گزار رہے ہیں‘‘۔

انٹرنیٹ کے بعد کیا ہوسکتا ہے؟

اس حوالے سے ورچوئل ریالٹی کے شعبہ میں کام کرنے والے انٹرپرینیور اینڈریو باس ورتھ کہتے ہیں، ’’انٹرنیٹ کے بعد کیا آسکتا ہے؟ یہ کہ اسکرین پر دیکھنے کے بجائےآپ خود اس دنیا کا حصہ بن جاتے ہیں، جو پہلے آپ صرف اسکرین پر دیکھا کرتے تھے۔ میٹاوَرس کو آپ ورچوئل ریالٹی ٹیکنالوجی کے ذریعے نہیں دیکھ سکتے۔ ابتدائی مرحلے میں لوگ اسے اپنی اسکرینوں پر دیکھ سکیں گےاور اس کے اگلے مراحل میں ترقی پانے کے بعد آپ میٹا وَرس دنیا میں رہ سکیں گےاور اس کے ساتھ ابلاغ کرسکیں گے‘‘۔

مستقبل کا بڑا کمپیوٹنگ پلیٹ فارم

ٹیکنالوجی ماہرین کا جواب ہوگا کہ انٹرنیٹ بالآخر میٹاوَرس میں تبدیل ہو جائے گا، جو اگلے بڑے کمپیوٹنگ پلیٹ فارم کی نمائندگی کرے گا۔ اگر اس تصور کو عملی جامہ پہنایا جا سکا، تو توقع کی جاتی ہے کہ یہ موبائل فون کی طرح معاشرے اور صنعت میں تبدیلی کا باعث بنے گا۔

آج ہم میں سے اکثر لوگوں کے لیے معلومات اور خدمات تک رسائی ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت اور سماجی تعلقات، اشیا فروخت کرنے اور تفریح ​فراہم​​​کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ میٹاوَرس اس کا جدید ورژن ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ تاہم، سب سے اہم فرق یہ ہوگا کہ آف لائن اور آن لائن ہونے کے درمیان فرق کو بیان کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر، اس وقت لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کے لیے آن لائن ویب سائٹس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا میسیجنگ ایپلی کیشنز استعمال کرتے ہیں۔ تاہم میٹاوَرس اس سے بہت آگے کا تصور ہے۔

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اس میں ’’توسیع شدہ حقیقت‘‘ (ایکسٹینڈیڈ رِیالٹی۔XR) ، جوکہ آگمنٹڈ، ورچوئل اور مسکڈ رِیالٹی کا امتزاج ہوگی، کا اہم کردار ہوگا۔ میٹاوَرس کے تصور کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ورچوئل اور 3D انوائرنمنٹ، جو ریئل ٹائم میں قابلِ رسائی اور اِنٹرایکٹو ہیں، سماجی اور کاروباری مشغولیت کے لیے تبدیلی کا ذریعہ بن جائیں گے اور ان کے عملی بننے کے لیے ضروری ہے کہ ایکسٹینڈیڈ رِیالٹی کووسیع پیمانے پر اپنایا جائے۔

ابھی تک، XR ٹیکنالوجیز زیادہ تر ویڈیو گیمز اور مخصوص انٹرپرائز ایپلی کیشنز میں ذیلی استعمال تک محدود رہی ہیں۔ تاہم، جیسے جیسے گیمز تیزی سے سماجی تجربات کے لیے پلیٹ فارم بنتے جا رہے ہیں، اس بات کا امکان بڑھ رہا ہے کہ اپنی قابلِ دریافت اور مسلسل ورچوئل دُنیائیں، اپنے اوپن اور تخلیقی اظہار کے ذرائع، اور پاپ کلچر کی راہ کے طور پر، دیگر زاویوں میں لاگو ہوسکتے ہیں اور ہوں گے۔

ڈیجیٹل اثاثہ جات حقیقی دنیا سے جوڑنا

میٹاوَرس سے حقیقی دنیا کی معیشت کے ساتھ مضبوط تعلق کی بھی توقع کی جاتی ہے – اور آخر کار وہ ہماری دنیا کی ایکسٹینشن بن جائے گی۔ بہ الفاظِ دیگر، میٹاوَرس میں کمپنیوں اور افراد کے لیے معاشی سرگرمیوں میں اسی طرح حصہ لینے کی صلاحیت ہونی چاہیے جس طرح وہ آج کرتے ہیں۔ سیدھے الفاظ میں، اس کا مطلب ہے مصنوعات، اشیا اور خدمات کی تعمیر، تجارت اور سرمایہ کاری کے قابل ہونا۔ ایک حد تک، یہ قدر پیدا کرنے کے لیے میٹاوَرس کا انحصار نان فنگیبل ٹوکنز (NFTs) پر ہو سکتا ہے۔ 

این ایف ٹی ایک منفرد، غیر قابل تبادلہ ڈیجیٹل اثاثہ کی ملکیت کا دعویٰ ہے جو بلاک چین پر محفوظ ہوتا ہے۔ اگر ایسے سامان کی تجارت کے لیے این ایف ٹیز ایک عام طور پر اپنایا جانے والا ٹول بن جاتا ہے، تو وہ ایکسٹینڈیڈ رِیالٹی (XR) کے ماحولی نظام کے استعمال کو تیزی سے عام کرنے میں مدد کر سکتے ہیں، جہاں لوگ ڈیجیٹل اکانومی کے عناصر کو اپنی آف لائن زندگی کے ساتھ جوڑنے کے لیے جائیں گے۔

اس سے متعلق سوچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کس طرح ایپ اسٹور نے بزنسز کو ڈیجیٹائز کرنے کی ترغیب دی، تاکہ صارفین کسی بھی جگہ سے ان کی مصنوعات اور خدمات کا تجربہ اور ادائیگی کر سکیں۔ اس نے اس خیال کو جائز قرار دیا کہ ریٹیل اور ڈیجیٹل کو الگ الگ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، جس سے استعمال کے ایسے کئی کیسز کی راہ ہموار ہو گی جو شاید ابتدائی طور پر سمجھ میں نہ آئے ہوں۔ مثال کے طور پر، یہ قابل فہم ہے کہ ایک کمپنی جو ورزش کے آلات اور فٹنس کلاسز کی ویڈیوز اسٹریم کرتی ہے، ایپ اسٹور کے بغیر وجود ہی نہ رکھ پائے۔

میٹاوَرس کی خصوصیات اور چیلنجز

ہرچندکہ یہ سب میٹاوَرس کی بنیادوں کی وضاحت تو کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ وہ کیسا نظر آئے گا۔ درحقیقت، ہم ابھی بھی میٹاوَرس کے تصوراتی مرحلے میں ہیں۔ تاہم، سرمایہ کار میتھیو بال، میٹا وَرس کے سات بنیادی اوصاف کی نشاندہی کرتے ہیں جو متجسس ذہنوں کو یہ تصور کرنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ یہ کیسی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ان میں اس کی استقامت (رسائی کے لیے کوئی واضح 'آن یا 'آف نہیں)، ہم آہنگی (حقیقی زندگی میں وجود) اور اِنٹرآپریبلٹی، نیز افراد اور کاروبار، دونوں کے مواد اور تجربات سے آباد ہونا شامل ہے۔

یقیناً اس بارے میں سوالات موجود ہیں کہ پرائیویسی کے لیے میٹاوَرس کا مطلب کیا ہوگا، اور آیا یہ اس جامع اور نقصان دہ مواد اور ماحول کو کم کرپائے گا، جو ورچوئل دنیا میں تخلیق کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ میٹاوَرس ابھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہے، اس لیے یہی وقت ہے کہ ان تشویش کا باعث بننے والے پہلوؤں پر ابھی سے بحث کی جائے اور اس کا حل پیش کیا جائے۔

میٹاوَرس کا خیال امید افزا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کئی معروف ٹیکنالوجی کمپنیاں اس میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اگر یہ نتیجہ خیز ثابت ہوا، تو ایک بات قابل فہم ہے کہ یہ تصور صارف اور انٹرپرائز روّیوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کا باعث بنے گا۔