• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پریانتھا کمارا کی میت پوسٹ مارٹم کے بعد لاہور روانہ کردی گئی

پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں فیکٹری ملازم کے ہاتھوں تشدد کے بعد قتل ہونے والے سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کی میت پوسٹ مارٹم کے بعد ایمبولینس سے لاہور روانہ کردی گئی۔

ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ پریانتھا کی لاش ایمبولینس کے ذریعے لاہور روانہ کردی گئی، ایمبولینس کے ہمراہ ایلیٹ فورس کی دو گاڑیاں بھی روانہ کی گئی ہیں۔

ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ  پریانتھا کی لاش لاہور میں سری لنکن قونصلیٹ کے حوالے کی جائے گی، جبکہ  قانونی کارروائی کے بعد خصوصی پرواز کے ذریعے پریانتھا کی لاش سری لنکا روانہ کی جائے گی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ  پریا نتھا کی لاش پیر کی صبح کولمبو روانہ کی جائے گی۔

پولیس تحقیقات میں کئی بڑے انکشافات

سیالکوٹ میں غیر ملکی فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کے قتل کی پولیس تحقیقات میں کئی بڑے انکشافات سامنے آگئے۔

پولیس تحقیقات کے مطابق پریانتھا کمارا فیکٹری میں بطور جنرل منیجر پروڈکشن ایمانداری سے کام کرتا تھا، ورکرز اور دوسرا عملہ غیرملکی منیجر کو سخت ناپسند کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق پریانتھا اور فیکٹری کے دوسرے عملے میں اکثر تکرار ہوتی رہتی تھی، پریانتھا کے خلاف ورکرز اور سپروائزر نے مالکان سے کئی بار شکایت بھی کی تھی۔

تحقیقات کے مطابق واقعہ کے روز پریانتھا کمارا نے پروڈکشن یونٹ کا اچانک دورہ کیا تھا اور صفائی کی ناقص صورتحال پر ورکرز اور سپروائزر کی سرزنش کی تھی۔

پولیس کے مطابق فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا نے ورکرز کو دیواروں پر رنگ کے لیے تمام اشیاء ہٹانے کا کہا تھا اور خود بھی دیواروں سے چیزیں ہٹاتا رہا، اسی دوران مذہبی پوسٹر بھی اتارا۔

تحقیقات کے مطابق پوسٹر اتارنے پر ورکرز نے شور مچایا تو مالکان کے کہنے پر پریانتھا کمارا نے معذرت کرلی تھی، جس سپروائزر کی پریانتھا نے سرزنش کی اسی نے بعد میں ورکرز کو اشتعال دلایا تھا۔

پولیس کے مطابق پریانتھا کمارا فیکٹری میں بطور جنرل منیجر پروڈکشن ایمانداری سے کام کرتا تھا اور قوانین پر سختی سے عمل درآمدر کراتا تھا، فیکٹری مالکان اس کےکام سے خوش تھے۔

قومی خبریں سے مزید