• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیالکوٹ میں درندوں کے ہجوم میں ایک اور انسان سامنے آگیا

سیالکوٹ میں درندوں کے ہجوم میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو بچانے کی جدوجہد کرنے والے دو افراد سامنے آگئے۔

ایک شخص نے ظالم ہجوم سے پریانتھا کی زندگی کے لئے ہاتھ جوڑ کر بھیک مانگی اور دوسرا شخص پریانتھا کو بچانے کی کوششیں کرتا رہا۔

دونوں افراد پریانتھا کو بچانے کی بھرپور کوشش کرتے رہے، مگر افسوس کہ دونوں ہی ناکام رہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کے تشدد سے ہلاک ہوگیا تھا، مشتعل افراد نے لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگادی گئی تھی۔

مشتعل افراد کا دعویٰ ہے کہ مقتول نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے تھے، مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

سانحہ سیالکوٹ کی پولیس تحقیقات جاری ہیں، دوران تحقیقات اب تک 110افراد کی شناخت ہوگئی ہے، جن میں 13 مرکزی ملزمان ہیں، ملزمان طلحہ اور فرحان نے پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔

160 سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو حاصل کرلی گئیں ،موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کیا جارہا ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق مرکزی ملزم فرحان ادریس گرفتار ہے،گرفتار ملزم جنید جلتی لاش کے ساتھ سیلفی لیتے دیکھا گیا۔

قومی خبریں سے مزید