• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رابطہ…مریم فیصل
کورونا کی کیا ضرورت، یہی وہ ڈر ہے جس کا اظہار اکثر ہم کرتے رہتے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا میں نام بنانے کے چکر میں سیلفیاں اور ویڈیو بنانے کا ایسا جنون سوار ہوا ہے کہ ہزاروں کا ہجوم ایک شخص کو جلا کر مار رہا ہو اور وہاں کھڑے لوگ تماشہ دیکھ بھی رہے ہو اور ویڈیو بھی بنا رہے ہو،یہ معاشرے میں پھیلی اس بے حسی کی وہ عکاسی ہے جس میں مارنے والا صرف اور صرف اپنے بارے میں حس رکھتا ہو اس کی نظر میں دوسرے کی جان کی کوئی قیمت نہیں ،مجھ سے اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ ارے برطانیہ میں تو کورونا نے برا حال کر دیا اتنا امیر ملک، صحت کا بہترین نظام اور کورونا پر قابو نہیں پا سکا تو میں سوچتی ہوں پاکستان کو کورونا جیسی وبا کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں ہے وہاں تو لسانی ، نسلی ، معاشی اور سب سے اوپر مذہبی تعصب اور تفریق ہی ایسی وبا ہے جس نے پاکستانی عوام کے دل، دماغ اور جسموں کو بیمار کر دیا ہے، وہاں پر کسی سے نٖفرت کا اظہار کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے، مذہبی تعصب کا الزام لگادو اور اپنے ساتھ ہزار یا دو ہزار لوگوں کو ملا کر بالکل وہ کرو جو سری لنکن شہری کے ساتھ کیا گیا ہے ، یہ پاکستان میں ہونے والا پہلا واقعہ نہیں ہے اور نہ ہوگا ایسے واقعات ابھی اور ہوں گے اور جو قصور وار ہیں ان پر لمبے لمبے مقدمات چلیں گے، ان کی خود کی زندگیاں بھی خراب اور ان کے گھر والے بھی ان کے گناہوں کی سزا بھگتیں گے اور عدالتوں کے چکر لگائیں گے ۔ جب یہاں برطانیہ میں کوئی مسلمان دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے ہم تب بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ اس وقت ہماری سمجھ یہ بتاتی ہے کہ یہ صحیح نہیں ہوا، یہ تعصب اس معاشرے کے سکون کے لئے بالکل ٹھیک نہیں ہے اور جب مادر وطن میں بھی ایسے واقعات سنائے جاتے ہیں تب بھی اس کے خلاف ہم آواز بلند کر رہے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مذہب سے محبت نہیں بلکہ یہ مذہب کی آڑ میں اپنے مقاصد پورا کرنے کا ایک طریقہ ہے، ہاں یہ بالکل درست ہے کہ ہمارے مذہب کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں جن کے خلاف احتجاج بالکل کرنا چاہئے جیسے کہ فرانس کا واقعہ تھا لیکن جہاں یہ ثابت ہو جائے کہ مذہب کا صرف نام استعمال کیا گیا ہے اس کے پیچھے مقصد کچھ اور تھا تب ان واقعات کے خلاف نہ صرف احتجاج کرنا چاہیے بلکہ ذمے داران کو سزا بھی دینی چاہیے ، ایسے کام چور اور نکمے لوگ جو ذرا سختی اور نظم و ضبط کے قاعدے قوانین پر عمل نہیں کرنا چاہتے، ان کے خلاف تو اور بھی سخت سزائیں ہونی چاہیے، مزید اس بارے میں کچھ بھی لکھتے ہوئے ہاتھ رک رہے ہیں کہ نہ جانے کون سے پڑھنے والی آنکھ کی نظر میں ہم بھی گناہ گار ٹھہرائے جائیں لیکن یہ ضرور ہے کہ عقل، سمجھ کسی کے سمجھانے سے کبھی نہیں آتی ،خاص کر ان معاشروں میں تو بالکل نہیں جہاں ہمیشہ سے قانون اور اصول صرف کاغذوں میں لکھنے کے لئے ہوں، ان پر عمل کرناکوئی ضروری نہیں سمجھتا ہو۔