• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملیر کنٹونمنٹ بورڈ کو سوسائٹی کی زمین پر مویشی منڈی لگانے سے روک دیا گیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ظفر احمد راجپوت کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ملیر کنٹونمنٹ بورڈ کو سرسید کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین پر مویشی منڈی لگانے سے روک دیا، درخواست کی سماعت کے موقع پر جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ملیر کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا کاروبار کرنا آپ کے مینڈیٹ میں شامل ہے؟ جس پر ملیر کنٹوئمنٹ بورڈ کے وکیل کا کہنا تھا کہ نہیں ہم تو صرف سروس فراہم کرتے ہیں، عدالت نے استفسار کیاکہ جہاں منڈی لگتی ہے کیا وہ زمین آپ کی ہے، جس پر کیل کا کہنا تھا کہ زمین ہماری نہیں ہے ہم صرف سروس دیتے ہیں، عدالت کا کہناتھا کہ آپ ریاست ہیں آپ کا کام کاروبار کرنا نہیں ہے، اسٹیشن کمانڈر کا کام منڈیاں لگوانا نہیں ہے ، وکیل کا کہنا تھا کہ مجھے حکام سے ہدایت لینے کے لئے مہلت دی جائے، اس موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع کا اس منڈی سے کوئی تعلق نہیں ہے ہمیں جواب جمع کرانے کے لئے مہلت دی جائے، عدالت کا کہنا تھا کہ 2015ءمیں درخواست دائر ہوئی ہے آپ نے 6 سال تک جواب کیوں نہیں جمع کروایا، وکیل کاکہناتھا کہ لیز لائسنس ایگریمنٹ کے ذریعے منڈی لگائی جاتی ہے، عدالت کاکہناتھا کہ دکھائیں کہاں ہے لیز لائسنس ایگریمنٹ؟ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ سرسید کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین پر زبردستی دیواریں گرا کر منڈی لگادی جاتی ہے، سارا ترقیاتی کام تباہ ہوجاتا ہے۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید