• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا: بھارتی ڈاکٹر نے 4 سالہ بیٹی کا قتل کر کے لاش کو پول میں پھینک دیا

ڈاکٹر نیہا گپتا—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا
ڈاکٹر نیہا گپتا—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا 

امریکی ریاست فلوریڈا کی رہائشی ایک بھارتی نژاد ڈاکٹر نے اپنی 4 سالہ بچی کا قتل کرنے کے بعد پولیس کو کال کر کے قتل کو ایک حادثہ ثابت کرنے کی کو شش کی۔

میامی پولیس نے بتایا کہ اوکلاہاما سے اپنی بیٹی کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے فلوریڈا آنے والی 37 سالہ ماہرِ امراضِ اطفال نیہا گپتا نے اپنی بیٹی کا قتل کرنے کے بعد ہمیں کال کر کے قتل کو ایک حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔

ڈاکٹر نیہا گپتا نے رات کے وقت پولیس کو کال کر کے کہا کہ میری بیٹی پول میں گر گئی ہے، میں اسے بچانے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن مجھے سوئمنگ کرنی نہیں آتی۔

ڈاکٹر نیہا گپتا نے پولیس کو مزید بتایا کہ اس وقت یہاں پر صرف میں اور میری بیٹی ہی ہیں اور کوئی بھی نہیں ہے، میں نے بہت کوشش کی لیکن میں اسے پول سے باہر نہیں نکال سکی۔

ڈاکٹر نیہا گپتا نے بتایا کہ میری بیٹی پول کی گہرائی میں چلی گئی ہے اور بالکل حرکت نہیں کر رہی ہے، اسے ریسکیو کرنے کے لیے ٹیم کب تک یہاں پہنچے گی؟

جس پر ڈاکٹر نیہا گپتا کو بتایا گیا کہ ریسکیو کے لیے ٹیم کچھ دیر میں پہنچ جائے گی تب تک وہ خود اپنی بیٹی کو پول سے نکالنے کی کوشش کرتی رہیں۔

چند لمحوں بعد جب پولیس افسران پہنچے تو ڈاکٹر نیہا گپتا نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور افسران نے اس کی بیٹی کو پانی سے نکالا۔

پولیس بچی کو پول سے نکالنے کے بعد اسپتال لے کر گئی جہاں ڈاکٹر نیہا گپتا نے پیرامیڈیکس کو بتایا کہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ میری بیٹی تالاب میں کتنی دیر رہی، اندازاََ شاید 20 منٹ رہی ہو گی۔

جب بچی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو اس کے پھیپھڑوں یا پیٹ میں پانی نہیں ملا جس سے یہ طے پایا کہ وہ پول میں پھینکے جانے سے پہلے ہی مر چکی تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کو پول میں پھینکنے سے پہلے اس کا گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

یہ حقیقت سامنے آنے کے بعد پولیس نے ڈاکٹر نیہا گپتا کو بیٹی کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت بچی آریہ کے والد نے ڈاکٹر نیہا گپتا کی ذہنی حالت کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے بیٹی کی مکمل تحویل کے حصول کے لے درخواست دائر کی ہوئی تھی۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا اہم ہے کہ یہ واقعہ گزشتہ سال جون میں پیش آیا تھا جس کی مکمل تفصیلات امریکی پولیس نے اب جاری کی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید