• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’اینڈریو نے انٹرویو کو شہرت کا موقع سمجھا تھا‘، سابق شاہی عملے کی تنقید

اینڈریو ماؤنٹبیٹن ونڈسر---فائل فوٹو
اینڈریو ماؤنٹبیٹن ونڈسر---فائل فوٹو 

برطانیہ کے سابق شہزادے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے متنازع بی بی سی انٹرویو پر شاہی محل کے سابق عملے نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

ملکہ الزبتھ دوم کی سابق پریس سیکریٹری ایلسا اینڈرسن نے کہا ہے کہ پرنس اینڈریو کا 2019ء میں پروگرام ’بی بی سی نیوز نائٹ‘ کو دیا گیا انٹرویو دیکھ کر ’میں سُن ہو گئی تھی۔‘

اُنہوں نے برطانوی اخبار ’دی سن‘ کو بتایا ہے کہ ڈیوک آف یارک اپنے مؤقف کو پیش کرنے کے لیے بے تاب تھے اور اُنہوں نے اسے ’شہرت حاصل کرنے کا وقت‘ سمجھا تھا مگر ایسا نہ ہوا۔

انٹرویو کے دوران پسینہ نہ آنے سے متعلق بیان پر اُنہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی عجیب اور غیر مناسب تھی، یہ ایک بڑا موقع تھا کہ وہ متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ اینڈریو نے انٹرویو کے دوران ڈھٹائی سے کام لیا۔

واضح رہے کہ شہزادہ اینڈریو اس وقت جنسی ہراسانی کے الزامات کے سبب سخت تنقید کی زد میں ہیں۔

چند روز قبل انہیں پولیس نے مبینہ طور پر ’عہدے کے غلط استعمال‘ کے شبے میں 11 گھنٹے تک پوچھ گچھ کے لیے حراست میں بھی لیا تھا۔

ایپسٹین فائلز منظرِ عام پر آنے کے بعد مختلف ادارے الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

شہزادہ اینڈریو اس وقت شاہی ذمے داریوں سے الگ ہو کر سینڈرنگھم میں مقیم ہیں جبکہ اس معاملے پر برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سوئم نے کہا ہے کہ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید