• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دہلی شراب پالیسی کیس: اروند کیجریوال اور منیش سسودیا بری، عدالت کی سی بی آئی پر سخت تنقید

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

دہلی کی ایک مقامی عدالت نے دہلی شراب پالیسی کیس میں سابق وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیرِ اعلیٰ منیش سسودیا کو بری کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایکسائز پالیسی میں کسی بڑی سازش یا مجرمانہ نیت کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج جیتندر سنگھ نے کہا کہ 23 ملزمان میں سے کسی کے خلاف بھی بادی النظر میں قابلِ اعتماد مقدمہ ثابت نہیں ہوتا۔

عدالت نے تفتیشی ایجنسی سینٹرل بیورو انویسٹیگیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات کے طریقۂ کار پر سخت سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

عدالت نے کہا ہے کہ سی بی آئی نے زیادہ تر ملزمان کو سرکاری گواہ بنا کر ان کے بیانات پر انحصار کیا جو کہ آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ عوامی ملازم کلدیپ سنگھ کو ملزم نمبر ایک بنانے پر متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

یہ مقدمہ 22-2021ء کی دہلی ایکسائز پالیسی سے جڑا تھا جسے عام آدمی پارٹی کی حکومت نے نافذ کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس سے سرکاری آمدنی میں اضافہ ہو گا، بعد میں حکومت نے یہ پالیسی واپس لے لی تھی۔

سی بی آئی نے اگست 2022ء میں اس وقت کے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینا کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی تھی، الزام تھا کہ پالیسی کے تحت کچھ نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا اور کک بیکس وصول کیے گئے۔

عدالت نے تحقیقات کے دوران ’ساؤتھ گروپ‘ کی اصطلاح کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اس طرح کی اصطلاحات استعمال نہیں ہونی چاہئیں۔

فیصلے کے بعد اروند کیجریوال نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے، ایک منتخب وزیرِ اعلیٰ کو گھر سے گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا اور الزامات لگائے گئے، مگر آج سچ سامنے آ گیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید