• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایلکس راڈریگیز ہمیشہ مؤجد بننا چاہتا تھا۔ واٹر لو، کینیڈا میں پرورش پاتے ہوئے، اس نے 19 سال کی عمر میں سیلف ڈرائیونگ گالف کارٹ کی انجینئرنگ کرنے سے پہلے اپنا بچپن روبوٹکس کے مقابلوں میں بڑے بڑے حریفوں کو مات دیتے ہوئے گزارا۔ ہرچندکہ ایلکس کے پروفیسرز نے ہمیشہ اسے سیلف ڈرائیونگ کاروں کی انجینئرنگ کی طرف راغب کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی لیکن اس نوجوان نے اپنی نظریں 18-وہیلر ہیوی ٹرکنگ کی صنعت پر مرکوز کی ہوئی تھیں۔

ایلکس کی خودکار ٹرکنگ سوفٹ ویئر کمپنی ’اِیمبارک‘ کا ناردرن جینیسز ایکویزیشن کارپوریشن کے ساتھ 11 نومبر کو 5 ارب ڈالر کی ویلیوایشن پر SPAC(اسپیشل پَرپَز ایکویزیشن کمپنی) قوانین کے تحت انضمام ہوا ہے۔ اس انضمام کے حوالے سے راڈریگیز کا کہنا ہے کہ، ’’یہ منزل حاصل کرنے کی طرف ایک قدم ہے، مگر منزل نہیں ہے۔ میری منزل یہ ہوگی کہ جب میں بستر میں جاؤں تو ہمارے تیار کیے گئے خود کار ٹرک بغیر انسانی رہنمائی کے امریکا میں سیکڑوں منزلوں کی طرف رواں دواں ہوں اور جب میں صبح میں اُٹھوں تو اس وقت بھی وہ سڑکوں پر دوڑ رہے ہوں‘‘۔

30برس کی عمر تک پہنچنے سے ​​پہلے غیر معمولی کامیابیاں سمیٹنے والے ایلکس راڈریگیز کا بچپن بھی اتنا ہی غیر معمولی تھا۔ راڈریگیز کے والد بھی ایک غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل شخص تھے، جنھوں نے گروسری چیک آؤٹ سیپریٹرز پر اشتہاری یونٹ ایجاد کیے تھے، وہ رات کو سونے کے وقت اپنے بیٹے کو لوریاں سُنانے کے بجائے اس کے ساتھ بزنس پلان (کاروباری منصوبے) اور ان کا مارکیٹنگ، آپریشن اور ٹیکنیکل لائحہ عمل تیار کرتے تھے۔

راڈریگیز نے ’ایمبارک‘ کمپنی کی بنیاد یونیورسٹی آف واٹر لو کے ساتھی مکیٹرانکس انجینئر برانڈن ماؤک سے ملنے کے بعد رکھی، جس کے اشتراک میں ہی اس نے سیلف ڈرائیونگ گالف کارٹ تیار کیا تھا۔ اس کامیابی کے بعد اس نے سیلف ڈرائیونگ ٹرک تیار کرنے کے لیے 2 ملین ڈالر کا سرمایہ اکٹھا کیا، فیلوشپ حاصل کی، کالج سے ڈراپ آؤٹ ہوا اور سان فرانسیسکو منتقل ہوگیا۔ 2019ء میں فوربز نےان دونوں موجدوں کو اپنی معتبر 30 اَنڈر 30 فہرست میں شامل کیا۔ آج 117ملین ڈالر کا پری-آئی پی او سرمایہ رکھنے کے مقابلے میں، فوربز کی فہرست میں جگہ بناتے وقت ان کے سرمایہ کی مالیت صرف 47ملین ڈالر تھی۔

خودکار ٹرک تیار کرنے والی اس کمپنی کے دونوں ساتھی بانیان کا پہلی بار ایک دوسرے سے تعارف یونیورسٹی آف واٹر لو میں مکیٹرانکس انجینئرز کے طور پر ہوا تھا۔ آج 26سالہ ایلکس راڈریگیز غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل بانی اور مؤجد چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ہے، جس کےاثاثہ جات کی مالیت 500 ملین ڈالر ہے۔ وہ مہنگے گھر، آرٹ کلیکشن اور اسپورٹس گاڑیوں پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے ، دو ساتھیوں کے ساتھ رہتا ہے اور اس نے اپنے بیڈ روم کو لیگوز سے سجایا ہوا ہے۔ اس کے پاس اپنی کوئی کار نہیں ہے، وہ بائیک چلانا پسند کرتا ہے۔ 

وہ انسٹاگرام پر نہیں ہے، جہاں اس کی عمر کے دیگر نوجوان اپنے مہنگے اثاثوں جیسے محلّات اور اسپورٹس گاڑیوں کی تصاویر شیئر کرتے ہیں۔ وہ ایک فولڈنگ ٹیبل سے کام کرتا ہے، جسے اس نے ایمیزون پر خریدا تھا۔ وہ بتاتا ہے کہ اس کے پاس جو سب سے اچھی چیزیں ہیں، ان میں توجہ کو تقویت دینے کے لیے خریدی گئی پیلوٹن اور کمپنی کی سیریز B کے بعد سرمایہ کار سیکویا کی جانب سے اسے تحفے میں ملنے والی لیدر جیکٹ شامل ہے۔

’’میری توجہ ایمبارک کو بلندیوں پر لے جانے پر ہے‘‘، وہ کہتا ہے، ’’شروع میں ہم پانچ افراد پر مشتمل ایک اسٹارٹ-اَپ تھے، اور مجھے اس میں کبھی کوئی غلط چیز نظر نہیں آئی، اس لیے میں اب بھی اسی طرح زندگی گزارتا ہوں اور ناں ہی خود کو بدلنے کی خواہش رکھتا ہوں‘‘۔

ایمبارک کا بزنس ماڈل بھی اپنے آغاز سے زیادہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔ یہ ابتدا سے ابھی تک بڑی حد تک سوفٹ ویئر ایز اے سروس (SaaS)کمپنی رہی ہے۔ یہ ایمیزون سمیت کئی کمپنیوں کی اندورنِ امریکا شپنگ آپریشنز کو خودکار بناتی ہے، جس کے لیے فی میل انتہائی معمولی سبسکرپشن چارجز وصول کرتی ہے۔ سبسکرپشن چارجز اور آپریٹنگ سسٹم کی فروخت اس کمپنی کا ذریعہ آمدنی ہے۔

راڈریگیز کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی سب سے پرانی خود مختار ٹرکنگ کمپنی ہے اور اس نے2016ء کے بعد سے سالانہ بنیاد پر سرمایہ ​​اور افرادی قوت میں کم از کم دوگنا اضافہ کیا ہے۔ کمپنی کے حصص کی اسٹاک مارکیٹ پر اولین عوامی فروخت (آئی پی او) کے بعد وہ اس میں بڑے پیمانے پر مزید اضافے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ 2024ء تک تقریباً 15 ہزار ٹرکوں کو ایمبارک کے خودکار نظام کے ساتھ منسلک کیا جاسکے۔

خود کار ٹرک اصولی طور پر بغیر ڈرائیور کے چلتے ہیں، تاہم دنیا میں ابھی بغیر ڈرائیور گاڑیوں کے چلنے کے حوالے سے قانون سازی نہیں ہوسکی، جس کے باعث ان ٹرکوں کے ساتھ بھی ڈرائیور حضرات حفاظت کے طور پر ساتھ ہوتے ہیں۔ امریکا اور کینیڈا میں ہزاروں کلو میٹرز تک ٹرک چلانے والے تھکے ہوئے ٹرک ڈرائیورز ہی اس کمپنی کے پرستار نہیں ہیں، بلکہ ماحولیات کے لیے کام کرنے والے کارکن بھی ان ٹرکوں کو پسند کرتے ہیں کیوں کہ یہ خود کار ٹرک، روایتی ٹرکوں کے مقابلے میں کم ایندھن خرچ کرتے ہیں۔ 

مزید برآں، ماہرینِ معاشیات ان ٹرکوں کو اس شعبہ میں ڈرائیور حضرات کی قلت کے حل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق، امریکا میں بھاری ٹرک چلانے کے لیے 80 ڈرائیورز کی قلت ہے، جس کی وجہ سے اشیائے خورونوش کی ترسیل میں تاخیر ہوتی ہے اور نتیجتاً مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔