کراچی، جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے، پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کا سب سے زیادہ ریوینیو اِسی شہر سے حاصل ہوتا ہے۔ 1کروڑ 65 لاکھ سے زائد آبادی والے اِس شہر میں معاشی سرگرمیاں زیادہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف اندرون سندھ بلکہ ملک بھر سے لوگ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ اِس نقل مکانی سے جہاں یہ شہر بےہنگم طریقے سے پھیل رہا ہے وہیں جرائم کی روک تھام کے حوالے سے بھی انتظامیہ کو بےپناہ مشکلات کا سامنا ہے جس کا اندازہ کراچی پولیس کے 2021 کے ریکارڈ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اِس ریکارڈ کے مطابق رواں برس اب تک مختلف واقعات میں قتل کے 438، اقدامِ قتل کے 558،اغوا برائے تاوان کے 39،اغوا کے 2 ہزار 586 اور بچوں کے اغواکے 415 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔کراچی پولیس کے ریکارڈ کے مطابق رواں سال میں اب تک اقدامِ خودکشی کے 21 اور زنا آرڈیننس کے تحت246کیسز رپورٹ ہوئےہیں۔ریکارڈ کے مطابق کار چوری کے 1202،کار چھیننے کے 120،موٹر سائیکل چوری کے 25469،موٹر سائیکل چھیننے کے 3204،دیگر گاڑیوں کی چوری کے 707،دیگر گاڑیوں کے چھیننے کے 116اور سائیکل چوری کے 2 واقعات رپورٹ ہوئے۔رپورٹ کے مطابق مختلف نوعیت کی ڈکیتیوں، راہزنی اورچوری کےبھی سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ رپورٹ ہونے والے کیسوں میں سے بیشتر مناسب کارروائی کے بعد بند بھی ہو چکے ہیں۔ اصل المیہ مگر یہ ہے کہ یہ صرف پولیس کو رپورٹ ہونے والے کیسوں کی تفصیل ہے، لاتعداد کیس تو قانونی پیچیدگیوں کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے ۔شہر کراچی کے مسائل کو حل کرنے اور اُسے پُر امن اور محفوظ بنانے کیلئے وفاقی وصوبائی حکومتوں اور شہری انتظامیہ کو سیاست کو پس پشت ڈال کر جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے ۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998