• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب قائداعظم کے سیاسی حریف نے مزارِ قائد پر حاضری دی

فوٹو، ٹوئٹر
فوٹو، ٹوئٹر

بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے سیاسی حریف بھی ان کی ذہانت کا کھل کر اعتراف کرتے تھے۔

دو مرتبہ کانگریس کے صدر منتخب ہونے والے مولانا ابوالکلام آزاد نے 1951ء میں کراچی کے دورے کے دوران اپنے سیاسی حریف قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

مولانا ابوالکلام آزاد جب 1940ء میں کانگریس کے صدر منتخب ہوئے تو محمد علی جناحؒ نے اُنہیں کانگریس کے ’شو بوائے‘ کا خطاب دیا تھا

خیال رہے کہ تحریک پاکستان کے دوران ہندوؤں کی سیاسی جماعت کانگریس کے علاوہ مسلمانوں کے بعض حلقے بھی دو قومی نظریہ یعنی قیام پاکستان سے متفق نہ تھے، ان میں ایک بلند پایہ شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد کی بھی تھی۔ 

اُنہیں دو قومی نظریے پر بننے والی مسلم ریاست کے بارے میں بہت سے تحفظات اور خدشات لاحق تھے۔

مولانا ابوالکلام آزاد اپنے وقت کے جید عالم دین، مدبّر، مفکر، مفسرِ قرآن، بے باک مقرر و صحافی اور صاحب طرزِ ادیب تھے، مولانا ابوالکلام آزاد کا شمار برصغیر کے صف اوّل کے سیاستدانوں میں ہوتا تھا۔

انہوں نے 1948ء میں جناح کی ذہانت کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ محمد علی جناحؒ کا مجھ سے نظریات میں لاکھ اختلاف صحیح لیکن یہ بات ماننے والی ہے کہ جناح ایک ذہین آدمی تھے۔

مولانا ابوالکلام آزاد کا کہنا تھا کہ ’مسٹر جناح خود ہندو مسلم اتحاد کے سفیر تھے لیکن جب کانگریس نے سات ریاستوں میں حکومتیں قائم کیں اور مسلم لیگ کو نظر انداز کر دیا تو اُنہیں دکھ ہوا۔‘

کانگریس لیڈر کا کہنا تھا کہ 1940ء میں انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی زوال کو روکنے کے لیے تقسیم کے مطالبے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ مسٹر جناح کو میرے بارے میں اپنی رائے کا پورا حق ہے لیکن مجھے ان کی ذہانت پر کوئی شک نہیں ہے۔

بعد ازاں نامور شاعر رئیس امروہوی نے مولانا ابوالکلام آزاد کے قائد اعظم کے مزار پر حاضری کے منفرد واقعے پر ’حادثے‘ کے عنوان سے ایک قطعہ لکھا تھا۔

جو حادثہ بھی نہ ہو جائے آج کل کم ہے

ہمارا عہد ہے اک عہد انقلاب ایجاد

بھلا یہ کس کو توقع تھی قبل ازیں اے دوست

مزار قائداعظم، ابوالکلام آزاد؟

خاص رپورٹ سے مزید