• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوان صحت کے معاملے میں رُبہ زوال کیوں؟

اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ادھیڑ عمر والدین اور گھر کے بعض دیگر بزرگ افراد اپنے بچوں اور نوجوان نسل کے مقابلے میں زیادہ تندرست و توانا اور چاق و چوبند نظر آتے ہیں۔ وہ دن بھر کام کرکے اور مصروف دن گزار کر اتنا نہیں تھکتے جتنا نوجوان نسل تھوڑے سے کام یا پڑھائی کرکے تھک جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ ہمارے بزرگوں کی بہتر صحت کی بنیادی وجہ ان کا بچپن اور جوانی میں خالص اشیا کھانا، پیدل چلنا اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینا تھا۔ 

آج کے زمانے میں بالخصوص شہروں میں ملاوٹ والی اشیائے خوردونوش کا استعمال عام ہے اور خالص اشیا نایاب ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نہ صرف کھیلوں کی سرگرمیاں محدود ہوگئی ہیں بلکہ نوجوان ورزش کرنے اور پیدل چلنے سے بھی کتراتے ہیں۔ ان کا زیادہ تر فارغ وقت موبائل میں گزر جاتا ہے۔ یہ سارے عوامل مل کر نئی نسل کے لیے صحت کے مسائل پیدا کررہے ہیں۔ اہل مغرب نے بھی یہ بات جان لی ہے کہ تمام تر ترقی کے باوجو د نئی نسل یعنی جنریشن Y، جنریشن Xکے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بیماریوں کا شکار ہورہی ہے۔

اس موضوع پر آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو جنریشن کی اصطلاحات بیان کردیں تاکہ آپ کو مضمون سمجھنے میں آسانی ہو۔

2025ء تک ، عمر کے لحاظ سے نسلوں یا جنریشن کوبلحاظ ترتیب یوں تقسیم کیا گیاہے:

بے بی بومرز: وہ لوگ جو 1944 ءسے 1964ء کے درمیان پیدا ہوئے تھے۔ ان کی عمر 57سے 77سال کے درمیان ہے۔

جنریشن X : وہ لوگ جو 1965 ء سے 1980ءکے درمیان پیدا ہو ئے اور اس وقت ان کی عمر 41سے 56سال کے درمیان ہے۔

جنریشنY : وہ لوگ جو 1981ء اور1995ءکے درمیان پیدا ہوئے۔ ان کی عمر اس وقت 26سے40سال کے درمیان ہے۔ انہیں ملینیئلز (Millennials ) بھی کہا جاتاہے۔

جنریشن Z : اس میں 1996ء اور 2010ءکے درمیان پیدا ہونے والے افراد کو شامل کیا جاتاہے۔ ان کی عمر اس وقت11سے 25 سال کے درمیان ہے ۔

جنریشن الفا: اس میں وہ بچے شامل ہوں گے جو 2010ء سے 2025ء کے درمیان پیدا ہوں گے۔

اس ضمن میں تجربات اور واقعات کو دیکھتے ہوئے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جنریشن Xکے مقابلے میں جنریشن Yزیادہ تیزی سے صحت کی زبوں حالی کا شکا رہے۔ کووِڈ-19سے قبل Moodys کے تجزیات پر مشتمل ایک رپورٹ میں متنبہ کیا گیا تھا کہ جنریشن X کے مقابلے میں ملینئلز یعنی جنریشن Yکی اموات کی شرح میں 40فیصد اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔

اس جنریشن کی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجوہات میں بہت سے عوامل ہیں، جن کے بارے میںرپورٹ کے مصنفین نے متنبہ کیا کہ ملینیئلز کی صحت جنریشن X کی نسبت تیزی سے گر رہی ہے۔ صحت کا یہ مسئلہ جسمانی اور ذہنی حالتوں تک پھیلا ہوا ہے ، جیسے ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول، میجر ڈپریشن، ہائپرایکٹیویٹی اور نشہ آور ادویات کا استعمال وغیرہ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملینیئلز اپنی صحت کی پریشانیوں کی وجہ سے خاص طور پر امریکی معیشت میں اپنا حصہ اداکرنے سے قاصر ہوں گے، جس سے بیروزگاری میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوگا اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔ اس سے ایک 'کبھی نہ ختم ہونے والا چکر جنم لے سکتا ہے ، یعنی خراب صحت کی وجہ سے معاشی کشمکش کا سامنا کرنا پڑسکتاہے اور معاشی کسمپرسی سے صحت خراب ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ 

یہ سخت انتباہ نومبر 2019ء میں شائع ہونے والی ’’ ملینئلز کی صحت کےاقتصادی نتائج ‘‘نامی ایک رپورٹ میں جاری کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جبکہ اموات میں پچھلے اضافے کا تعلق ویتنام کی جنگ اور ایچ آئی وی / ایڈز کے پھیلنے جیسے مخصوص واقعات سے تھا ، لیکن ملینیئلز کو درپیش خطرات کے مواقع زیادہ وسیع ہیں اوررپورٹ کے مطابق ، جنریشن X کے افراد کے مقابلے میں ملینیئلز کے حادثات یا خودکشی کے باعث جان سے ہاتھ دھونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خاص طور پر ، 2010ءکے بعد سے نشہ آ ور اشیایا ڈرگز کی زیادتی کی وجہ سے اموات میں ہزار فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین نے متنبہ کیا کہ مجموعی طور پر اس نسل کی صحت کی مخدوشی کاپہلا نتیجہ علاج کی مدت بڑھنے یعنی اخراجات میں اضافہ کی صورت میں نکلے گا۔ لاگت کا اضافی دباؤ نہ صرف مریض اور کاروباری ادارے برداشت کریں گے ، بلکہ اس کا بوجھ ریاستوں اور حکومتوں پر بھی پڑے گا جو پہلے ہی اخراجات کے انبار تلے دبی ہوئی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کا طرزِ زندگی کوئی مثالی نہیں ہے۔ حفظانِ صحت کے فقدان، صحت عامہ کی سہولتوں کی عدم دستیابی ، غیریقینی سیاسی اور اقتصادی حالات نے ہمارے ذہن و جسم کو جکڑ رکھاہے۔ اس کے علاوہ جو لوگ کسی طور پر اچھی آمدنی کے حصول میں کامیاب ہیں ان میں سے بھی بہت سے اپنی ملازمت سے ناخوش ہیں، وہ بھاری کام کا بوجھ یا بہت زیادہ ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں، طویل اوقات تک کام کرتے ہیں، اپنی ترقی نہ ہونے یا نوکری ختم ہونے کے خطرے کے امکان کے بارے میں غیر محفوظ رہتے ہیں یا پھر دفاتر میں امتیازی سلوک یا ہراسانی کا سامنا کر تے ہیں۔ 

کووِڈ-19 نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایسے میں ملینیئلز کی اپنی اور اپنے خاندان کی بقا کی سوچ ان کے پورے طرز زندگی پر حاوی ہوتی ہے۔ نہ ہی انہیں ورز ش کاخیال رہتاہے ، نہ ہی ویک اینڈز پرتفریح طبع کی کوئی سوچ ان کو متاثر کرپاتی ہے۔ اس مخدوش صورتحال نے ہمارے ملینیئلز کو بلڈ پریشر اور دل کا مریض بنا دیاہے۔ پھر لوگ یہی کہتے رہ جاتے ہیں کہ ’’یہ عمر تو نہیں تھی دنیا سے جانے کی‘‘۔