پاکستان میں ہی نہیں جس ملک میں بھی مہنگائی، غربت، امن و امان کی ابتر صورتحال، سیاسی غیر یقینی جیسی صورتحال ہو، وہاں کے افراد مختلف طرح کے ذہنی عارضوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور اگر تشخیص اور علاج و معالجے کی سہل سہولیات و خدمات حاصل نہ ہوں تو یہ صورتحال اور بھی گمبھیر ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نفسیاتی امراض اور ان کے علامات پوشیدہ ہیں، جو بیماری کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ اس وقت ملک میں 2 کروڑ سے زائد افراد نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں، جن میں 34فیصد افراد ذہنی مرض انافیلکس کا شکار ہیں، جن کے علاج کیلئے جدید تحقیق اور طریقہ کار پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔ ہمارے ملک میں دماغی امراض زیادہ ہونے کی وجہ کزن میرج بھی ہے۔
ذہنی صحت سے کیا مراد ہے ؟
ذہنی صحت سے مراد آپ کی جذباتی اور نفسیاتی صحت یا اچھائی ہے۔ اچھی ذہنی صحت رکھنے سے آپ نسبتاََ خوشحال اور صحتمند زندگی گزار سکتے ہیں۔ یہ آپ کو خود انحصاری اور زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد کرتی ہے۔ بہت ساری حکمت عملی ہیں جو آپ کو اچھی ذہنی صحت کو قائم کرنے اور برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرسکتی ہیں۔ جیسے کہ
اگر آپ کو ضرورت ہو تو اپنی ذہنی صحت کے لئے پیشہ ورانہ مدد طلب کریں، ان لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں جن کے ساتھ آپ وقت گزارنے میں لطف اندوز ہوتے ہیں، اپنی پریشانیوں سے نمٹنے کے لئے مؤثر طریقے سے نمٹنے کی مہارتیں تشکیل اور استعمال کرنا
ذہنی بیماری کیا ہے؟
ذہنی بیماری ایک وسیع اصطلاح ہے جو بہت ساری صورتحال پر مشتمل ہے، جو آپ کے محسوس کرنے اور سوچنے کے انداز کو متاثر کرتی ہے۔ یہ آپ کی روز مرہ زندگی گزارنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
ذہنی بیماریاں مختلف عوامل جیسے جینیات، ماحول، روز مرہ کی عادتیں، پیدائش، بچپن میں ہونے والے حادثات وغیرہ کی وجہ سے سامنے آتی ہیں۔
دماغی صحت کے اعدادوشمار
ریاستہائے متحدہ میں دماغی صحت کے مسائل عام ہیں۔ ہر پانچ امریکی بالغوں میں سے ایک کو ہر سال کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ پاکستان میں ہر تیسرا فرد ذہنی عارضے کا شکار ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ افراد دماغی طورپر سنگین بیماری میں مبتلا ہیں، دراصل ذہنی بیماریاں عام ہوتی ہیں لیکن وہ شدت میں مختلف ہوتی ہیں۔ ہر 25 میں سے ہر ایک بالغ افراد کو ایک سنگین ذہنی بیماری (SMI(Serious Mental Illness)) کا سامنا ہے۔ ایک ایس ایم آئی بیماری آپ کی روز مرہ زندگی گزارنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر کم کرسکتی ہے۔
دماغی صحت کے قومی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، مردوں کے مقابلے میں خواتین کو ایس ایم آئی کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ 18 سے 25 سال کی عمر میں زیادہ تر ایس ایم آئی کا تجربہ ہوتا ہے۔ مخلوط نسل کے پس منظر رکھنے والے افراد کو بھی دوسری نسل کے لوگوں کے مقابلے میں ایس ایم آئی کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔
دماغی امراض کا سد باب وعلاج
دماغی امراض کی کئی اشکال ہیں، جیسے بائی پولر ڈس آرڈر، انزائیٹی ڈس آرڈر، شیزو فینیاوغیرہ لیکن ان دماغی امراض کا مخصوص علاج نہیں تاہم ان کی علامات کو کم کرنے، بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور موافق حالات پیدا کرنے سے دماغی امراض میں کمی لائی جاسکتی ہے۔
ذہنی صحت کے امراض کے علاج کے لئے جو چار اہم قسمیں استعمال کی جاتی ہیں وہ ہیں اینٹی ڈپریسنٹ، اینٹی انزائٹی، اینٹی سائکوٹک اور موڈ اسٹیبلائزنگ دوائیں؛ آپ کے لئے کون سی دوا سب سے بہتر ہے اس کا انحصار ان علامات پر ہوگا جس سے آپ گزرتے ہیں۔
سائیکو تھراپی
اسے ٹاک تھیراپی بھی کہہ سکتے ہیں، جس میں آپ کو اپنے ڈاکٹر سے اپنی ذہنی صحت سے متعلق اپنے تجربات، احساسات، خیالات اور نظریات کے بارے میں بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔
معالج بنیادی طور پر ساؤنڈنگ بورڈ اور غیر جانبدار ثالث کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، علامات کو کم کرنے کیلئے آپ کو مقابلہ کرنے کی تکنیک اور حکمت عملی سیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
دماغی صحت کی مشقیں
جسمانی ورزش آپ کے جسم کے لئے بہت اچھی ہے۔ جاگنگ ، تیراکی ، چہل قدمی وغیرہ سے دل کی صحت بہتر رہتی ہے اور جسم کو طاقت ملتی ہے۔ ساتھ ہی یہ آپ کے دماغ کیلئے بھی زبردست مشقیں ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ افسردگی اور اضطراب کی علامات کو کم کرنے کیلئے ان مشقوں سے مدد ملتی ہے۔ تاہم ، آپ کے دماغ کیلئے بھی "مشقیں" ہیں جیسے کہ
* پاور پوز اپنانا: اس پوز یا آسن میں آپ اپنے ہاتھوں کو اپنے کولہوں پر رکھ کر سیدھے کھڑے ہو کر زور زاور سے سانس لیتے ہیں۔ اس سے سوشل انزائٹی کے احساسات میں آپ عارضی کمی محسوس کرسکتے ہیں۔
* لائٹ میوزک سننا: 2013 ء میں 60 خواتین کےمطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ جو لوگ پرسکون یا ٹھہرائو والی موسیقی سنتے ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں اسٹریس کو تیزی سے دور کرپاتے ہیں جو آرام تو کرتے ہیں لیکن موسیقی نہیں سنتے ہیں۔
* مسلز کو آرام دینا: اس عمل میں پٹھوں یعنی مسلز کو سخت کرتے ہیں پھر آہستہ آہستہ مسلز کو چھوڑتے ہیں ۔ اس عمل کو دیگر تکنیکوں کے ساتھ ملایا جاسکتا ہے جیسے لائٹ موسیقی سننا یا سانس لینے کی مشقوں کےساتھ اس عمل کو کرنا۔
* یوگا پوز ا ختیار کرنا: 2017ءایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ صرف دو منٹ کا یوگا کرنے سے خود اعتمادی بڑھ سکتی ہے اور جسمانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے۔