• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہائپر ٹینشن سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

ہائیپر ٹینشن ہائی بلڈ پریشر کا دوسرا نام ہے۔ یہ صحت کی شدید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے اور دل کی بیماری، فالج اور بعض اوقات موت کا باعث بن جاتاہے۔ بلڈ پریشر وہ قوت ہے جو انسان کے خون کی شریانوں کی دیواروں کے خلاف کام کرتی ہے۔ اس دباؤ کا انحصار خون کی رگوں کی مزاحمت اور دل کو کتنی سختی سے کام کرنا پڑتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر دل کی بیماری کیلئے ایک بنیادی خطرہ ہے، جس میں فالج ، دل کا دورہ ،ہارٹ فیلئر اور شریانوں کا پھیلاؤ( Aneurysm (شامل ہیں۔ صحت مند طرز زندگی گزارنے اور ان خطرات کو کم کرنے کے لئے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا ناگزیر ہے۔

اس مضمون میں، ہم یہ بتاتے ہیں کہ بلڈ پریشر کیوں بڑھ سکتا ہے، اس کی نگرانی کیسے کی جاسکتی ہے، اور اسے معمول کی حد میں رکھنے کے کیا طریقے ہیں:

انتظام اور علاج

اپنے طرز زندگی میں ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھیں گے تو ہائپر ٹینشن سے بھی محفوظ رہیں گے، جس کیلئے ہم یہاں کچھ سفارشات پیش کرتے ہیں۔

باقاعدہ جسمانی ورزش کریں

ماہرین و معالج مشورہ دیتے ہیں کہ ہائپر ٹینشن میں مبتلا افراد سمیت تمام لوگ کم سے کم 150 منٹ کی درمیانے درجے کی یا 75 منٹ پر مشتمل محنت و مشقت والی ایروبک ورزش ہفتے میں ایک بار ضرور کریں۔ جبکہ دیگر لوگوں کو ہفتے کے کم از کم 5 دن ورزش کرنا چاہئے۔

اس ضمن میں چلنا، ٹہلنا، سائیکل چلانایا تیراکی کرنا، ورزش کی مناسب سرگرمیوں میں شامل ہیں۔

تناؤ میں کمی

اگر آپ کو تناؤ یا اسٹریس سے بچنا یا اسٹریس کو مینیج کرنا آتا ہے تو اس سے بلڈپریشر کو کنٹرول کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ مراقبہ، نیم گرم پانی سے غسل، یوگا، اور لمبی سیر پر چلنا، خود کو آرام دہ حالت میں لانے کی تکنیک ہیں جو تناؤ کو دور کرنے میں مدد فراہم کرسکتی ہیں۔

لوگوں کو تناؤ سے نمٹنے کے لئے نشہ ور اشیا، تفریحی دوائیں، تمباکو اور جنک فوڈ کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے، کیونکہ یہ ہائی بلڈ پریشر اور اس کی وجہ سے ہائپر ٹینشن کی پیچیدگیوں کو بڑھاتے ہیں۔

تمباکو نوشی سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔ ویسے بھی سگریٹ نوشی سے پرہیز ہائی بلڈ پریشر سمیت دل کی دیگر بیماریوں اور پھیپھڑوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے۔

ادویات کا استعمال

ہائی بلڈ پریشر کے علاج کیلئے لوگ مخصوص دوائیں استعمال کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر اکثر اوقات کم خوراک کی سفارش کرتے ہیں۔ اینٹی ہائپرسینٹو (Antihypertensive ) دوائیں عام طور پر صرف معمولی ضمنی اثرات مرتب کرتی ہیں تاہم، ہائپر ٹینشن والے لوگوں کو اپنے بلڈ پریشر کو سنبھالنے کے لئے دو یا دو سے زیادہ دوائیں ایک ساتھ کھانے کی ضرورت ہو تی ہے۔

دوا کا انتخاب انفرادی اور کسی بھی بنیادی طبی حالت پر منحصر ہوتا ہے، تاہم یہ دوائیں بھی انہیں ڈاکٹر تجویز کرتا ہے، اور انہیں کسی بھی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں۔

اینٹی ہائپرٹینسو دوائیں لینے والے ہر شخص کو احتیاط کا اور بھی مظاہرہ کرنا چاہئے اور کسی بھی میڈیکل اسٹور سے خریداری کے بعد اس کا لیبل پڑھنا چاہئے۔ استعمال سے پہلے خاص طور پر اس کی مدت معیاد پر ضرور دھیان دینا چاہئیے۔

نمک کی مقدار کو کم کرنا

دنیا کے بیشتر ممالک میں لوگوں کی اوسطاََ نمک کی مقدار 9 سے 12 گرام کے درمیان ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) سفارش کرتا ہے کہ ہائپر ٹینشن اور متعلقہ صحت سے متعلقہ پریشانیوں کے خطرے کو کم کرنے کیلئے روزانہ 5 گرام سے کم نمک استعمال کیا جائے۔

زیادہ پھل اور سبزیاں اور چکنائی کم 

جن لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر یا ہائی بلڈ پریشر ہونے کا زیادہ خطرہ ہو، ان کیلئے ماہرین تجویز کرتے ہیں:

* ثابت اناج، ہائی فائبر والی غذائی

* مختلف اقسام کے پھل اور سبزیاں

* پھلیاں، دالیں، اور گری دار میوے

* ہفتے میں دو بارا ومیگا 3 والی مچھلی

* ٹھنڈی تاثیر والے تیل مثال کے طور پر ، زیتون کا تیل

* بغیرکھال کے مرغی اور مچھلی

* کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات

ٹرانس فیٹ، ہائیڈرو جنیٹیڈ ویجیٹیبل آئلز اور جانوروں کی چربی سے بنے آئلز سے اجتناب کرنا چاہئے۔

وزن او ر ڈائٹ کا خیال رکھنا

زائدجسمانی وزن ہائپر ٹینش میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ بلڈ پریشر میں کمی عام طور پر وزن میں کمی کی پیروی کرتی ہے، کیونکہ دل کو جسم کے اندر خون پمپ کرنے کے لئے اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی ہے۔ کیلوری کی مقدار کے ساتھ متوازن غذا، فرد کے سائز، صنف اور سرگرمیوں کے حوالے سے اثر انداز ہوتی ہے۔

صحت سے مزید