انٹربینک مبادلہ مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 176 روپے 92 پیسے ہے۔
صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کا دام 86 روپے کم ہوکر ایک لاکھ 8 ہزار 153 روپے ہے۔
انٹربینک میں آج ڈالر کا بھاؤ 41 پیسے اضافے سے 177 روپے 15 پیسے بھی ہوا لیکن کاروبار بندش پر اضافہ 18 پیسے باقی رہا۔
دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 179 روپے برقرار ہے۔
گزشتہ ہفتے کے آخری روز کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 1 لاکھ 78 ہزار 922 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت میں 1 ڈالر سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔
گزشتہ دنوں عالمی منڈی میں برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتیں معمولی کمی کے ساتھ مستحکم ہوئی تھیں۔
ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 66 روپے 25 پیسے پیٹرولیم لیوی شامل ہے، ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 15روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی شامل ہے، فی لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 72 روپے 97 پیسے کی لیوی شامل ہے۔
اس سے پہلے گڈز ٹرانسپورٹرز کرائے میں 15 فیصد جبکہ منی مزدا گڈذ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن 10 فیصد کمی کا اعلان کرچکی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ ہماری کوششیں رنگ لائیں، خطے میں جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان نے 4 دہائیوں بعد دو حریفوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا۔
جیٹ فیول کی قیمت میں کمی کے بعد فضائی کرایوں میں بھی کمی کا امکان ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 43 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 37 ہزار 993 روپے ہو گئی۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کے بعد آئندہ دنوں سولر پلیٹس کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے۔
تمام این او سیز اور دیگر ضروری رضامندیوں کا حصول بھی مکمل کرلیا گیا،
اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن سائیڈ کو طے شدہ وقت سے 8 گھنٹے 18 منٹ زائد وقت دیا گیا۔
بلوچستان کے حالیہ بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ مختلف آمدنی کے درجات میں ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی گئی ہے، برآمد کنندگان کو لاگت کم کرنے اور مسابقت بڑھانے کے لیے ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے، جبکہ آئی ٹی شعبے کے لیے ٹیکس مراعات میں مزید تین سال کی توسیع کی گئی ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12بجے سے ہوگا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں7 فیصد اضافےکی تجویز ہے جبکہ کم سے کم اجرت 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔ صحت کیلئے 334 ارب اور تعلیم کیلئے 468 ارب مختص کیےگئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے کو وفاقی ٹیکسوں کی مد میں مجموعی طور پر 1584 ارب روپے سے زائد ملنے کا امکان ہے۔