• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مری میں گاڑیوں میں پھنسے 22 افراد جاں بحق ہو گئے


سیاحتی مقام ملکہ کوہسار مری میں 7 جنوری کی رات کو آنے والے برفانی طوفان نے 22 زندگیاں نگل لیں وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ رات سے 1 ہزار گاڑیاں مری میں پھنسی ہوئی ہیں، ان پھنسی ہوئی گاڑیوں میں لوگوں کی اموات ہوئی ہیں، تاہم ریسکیو ذرائع نے 21 اموات کی تصدیق کی ہے۔

پولیس کے مطابق مری میں ہونے والی اموات میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے پولیس کے اے ایس آئی سمیت ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل ہیں، جبکہ نتھیا گلی میں بھی 3 اموات ہوئی ہیں۔

وزیرِ داخلہ شیخ رشید مری اور گلیات میں پھنسے مسافروں کی امداد کی مانیٹرنگ کے لیے مری پہنچ گئے، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مری میں امدادی کارروائیوں کے لیے پاک فوج کی 5 پیدل پلاٹون ہنگامی بنیاد پر منگوائی گئی ہیں، ہنگامی بنیادوں پر ایف سی اور رینجرز کو بھی طلب کر لیا ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ سیاح بڑی تعداد میں مری کی طرف گئے، جس کی وجہ سے اب مری جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، پیدل جانے والوں کا داخلہ بھی بند کر رہے ہیں، صرف خوراک اور کمبل لے جانے والی گاڑیوں کو وہاں جانے کی اجازت دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی ساری انتظامیہ ریسکیو میں لگی ہوئی ہے، مری میں پھنسی ہوئی ایک ہزار گاڑیوں کو شام تک نکال لیں گے، خوراک، کمبل اور امدادی سامان لے جانے والوں کو پیدل مری جانے کی اجازت دیں گے۔

وزیرِ داخلہ نے مزید کہا کہ 15، 20 سال میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں نے مری کا رخ کیا ہے، اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کی مری آمد کی وجہ سے بحران پیدا ہوا۔

جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی نوید اقبال کی آخری گفتگو

سانحہ مری میں گاڑی میں اپنی فیملی کے ساتھ جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی نوید اقبال کی اپنے کزن طیب گوندل سے گزشتہ رات ہونے والی گفتگو سامنے آگئی۔

مرحوم اے ایس آئی نوید اقبال نے اپنی آخری گفتگو میں کہا کہ 20 گھنٹے سے ہم پھنسے ہوئے ہیں، کوئی کرین بھجوادیں، ہمیں مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا۔

اے ایس آئی نوید اقبال کا کہنا تھا کہ سب نکلنے کا انتظار کررہے ہیں، مزہ تو تب ہے جب ہم صبح تک نکل جائیں، کرین آجائے کام تو شروع کردے۔

نوید اقبال کا کہنا تھا کہ اللّٰہ کرے کوئی سسٹم بن جائے اور ہم یہاں سے نکل جائیں۔


فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس بحران کی وجہ سے مری جانے والے ٹریفک کو بند کرنا پڑا، مری میں پھنسی کچھ گاڑیوں کو نکال لیا ہے، کچھ کو واپس بھیج دیا ہے، پھنسے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ مری میں پھنسے سیاحوں کو نکالنے کے لیے سول آرمڈ فورسز کی مدد طلب کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ بڑی تعداد میں مری اور گلیات آ چکے ہیں، پچھلے 12 گھنٹوں میں مری کے بند ہونے والے راستے کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں، تاہم سیاحوں کی بہت بڑی تعداد اب بھی مری میں موجود ہے۔

وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے اپیل کی کہ مری کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے لوگ سیاحوں کو خوراک اور کمبل فراہم کریں، مری میں کل (اتوار) رات 9 بجے تک جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔

فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

دوسری جانب مری، گلیات اور آزاد کشمیر کے لیے آج رات شدید موسمی صورتِ حال کاا نتباہ جاری کیا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ نے مری اور گرد و نواح میں بارش، برف باری اور طوفان کی پیش گوئی کی ہے، 50 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہواؤں کے ساتھ طوفان آ سکتا ہے، جس کے دوران شدید برف باری کا امکان ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے ہدایات جاری کی ہیں کہ مقامی افراد رات گھروں سے نہ نکلیں، ایمبولینس سروسز، سیکیورٹی گاڑیوں اور فائر فائٹرز کو الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔

برف باری ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد نے گزشتہ روز مری کا رخ کیا تھا، برف باری کی وجہ سے متعدد گاڑیاں سڑکوں پر پھنس گئیں اور ہزاروں سیاحوں نے گزشتہ رات سڑکوں پر گزاری۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بارش کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔

‏اسلام آباد میں موسلا دھار بارش کے پیشِ نظر نالوں میں سیلابی صورتِ حال کا خدشہ ہے، اس حوالے سے بھی ریسکیو ٹیموں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید