• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کے دور میں اکثر لوگ اداس، مایوس اور تھکے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بہت سے لوگ روزمرہ کام کرنے میں ہی تھک جاتے ہیں، ان کا کچھ بھی کرنے کا دل نہیں کرتا۔ چھوٹے موٹے کام بھی تھکا دینے والے اور بورنگ لگتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے جسم میں جان ہی نہ ہو، ایک بوجھ محسوس ہوتا رہتا ہے۔ برطانیہ کی اینا کیتھرینا شوفنر کو ہی لیجیے، وہ ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتی تھیں ۔ 

انھیں یوں لگتا تھا کہ جیسے جسم میں طاقت ہی نہ ہو۔ اینا گھریلو کام میں ہی اتنا تھک جاتی تھیں کہ ان کے لیے دفتر کا کام نمٹانا بہت بھاری پڑتا تھا۔ مگر اینا کہتی ہیں کہ تھکاوٹ ختم کرنے کے لیے وہ جب بھی بیٹھتی تھیں تو اپنا فون چیک کرنا نہیں بھولتی تھیں۔ جیسا کہ ای میل پر ان کی تھکاوٹ مٹانے کا کوئی نسخہ آنے والا ہو۔ اینا کہتی ہیں کہ انہیں بیزاری محسوس ہوتی تھی۔

آج دنیا میں بے شمار لوگوں کی حالت اینا جیسی ہے ان میں سے کئی تو مشہور شخصیات ہیں جیسا کہ گلوکارہ ماریا کیرے۔ اینا شوفنر برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی میں میڈیکل کی مؤرخ ہیں، اسی لیے انہوں نے خود ہی اس تھکاوٹ کی وجہ تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا نتیجہ Exhaustion: A History نامی کتاب کی شکل میں سامنے آیا۔ یہ انتہائی دلچسپ کتاب ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی تھکاوٹ، جسم میں طاقت کی کمی اور دماغی تھکاوٹ کو ڈاکٹروں یا ماہرین نفسیات نے کس طرح سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے دور میں تھکاوٹ ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہ تھکاوٹ آپ کی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ مسلسل تھکاوٹ کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یہ مضمون آپ کے بہت کام آ سکتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

دباؤ: جولی نامی لڑکی جس کی عمر 21 سال ہے، کہتی ہے، ’’ہم پر اکثر اس بات کا دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ ہم ہر کام اچھے سے اچھے طریقے سے کریں، خود کو مزید بہتر بنائیں، اپنے لیے بڑے بڑے منصوبے تیار کریں اور کامیابی کی چوٹیوں کو چھوئیں۔ ہر وقت اس دباؤ میں رہنا آسان نہیں۔‘‘

ٹیکنالوجی: موبائل فون، ٹیبلٹ وغیرہ کی وجہ سے آج لوگ 24 گھنٹے ہم سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ یہ بات کبھی کبھار ٹینشن کا باعث بن سکتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک شخص کو مسلسل تھکاوٹ میں مبتلا کر سکتی ہے۔

نیند کی کمی: اسکول، کام اور تفریح کی وجہ سے بہت سے نوجوان صبح سویرے اٹھتے ہیں اور رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں جو کہ ان کے لیے کافی نقصان دہ ہے۔ نیند کا پورا نہ ہونا اکثر مسلسل تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔

یہ معاملہ اتنا اہم کیوں ہے؟

محنتی بننے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کام میں اس قدر مگن ہو جائیں کہ اس کا اثر ہماری زندگی، یہاں تک کہ ہماری صحت پر پڑنے لگے۔ 30سال کی ایشلی کہتی ہیں کہ،’’ایک بار تو مجھے احساس ہوا کہ میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں اتنی گم ہو گئی تھی کہ میں نے پورا دن کھانا ہی نہیں کھایا۔ میں نے سیکھا کہ اپنی صحت کو نظرانداز کر کے ہر کام کرنے کی ہامی بھرنا اچھا نہیں ہوتا۔‘‘

شاید آپ کو لگے کہ آپ میں شیروں جیسی طاقت ہے اور آپ ہر اس کام کو کر لیں گے جو آپ کو دیا جائے گا۔ لیکن اگر آپ خود کو تھکن سے چُور کر لیں گے تو آپ کی صحت پر بہت بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔

میں کیا کر سکتا ہوں؟

نہ کہنا سیکھیں: عام طور پر وہی شخص مسلسل تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے جسے نہ کہنا نہیں آتا اور جو ہر کام کو قبول کر لیتا ہے۔ ایسا شخص خاکساری سے کام نہیں لے رہا ہوتا اور کبھی نہ کبھی تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔

آرام کریں: نیند کو ’’دماغ کی غذا‘‘ کہا جاتا ہے لیکن زیادہ تر نوجوان رات کو پوری نیند نہیں لیتے جو اُن کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ جوشوا نامی ایک نوجوان کہتا ہے،’’جب مجھے بہت سے کام نپٹانے ہوتے ہیں تو میں پوری نیند نہیں لیتا۔ لیکن ایک دو گھنٹے زیادہ سو جانے سے اگلے دن میں اکثر اور اچھی طرح سے کاموں کو کر پاتا ہوں اور میرا موڈ اچھا رہتا ہے۔‘‘

منصوبے بنائیں: محنتی شخص کے منصوبے منافع بخش ہوتے ہیں۔ پہلے سے یہ طے کرنا سیکھیں کہ آپ ایک دن میں کتنے کام کریں گے اور انہیں کب کریں گے۔ یہ بات سیکھنے سے آپ کو زندگی بھر فائدہ ہوگا۔

شیڈول بنائیں: اگر آپ ایک شیڈول بنائیں گے تو آپ بلاوجہ کی ٹینشن سے بچ جائیں گے۔ جب آپ اپنے شیڈول کو سامنے رکھ کر کوئی کام کریں گے تو آپ کے لیے اندازہ لگانا آسان ہوگا کہ کن کاموں میں ردوبدل کیا جاسکتا ہے تاکہ آپ مسلسل تھکاوٹ کا شکار نہ ہوجائیں۔