• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ساتھی مردوں کا رویہ، بیوہ خاتون ویکسی نیٹر مستعفی

کراچی (بابر علی اعوان / اسٹاف رپورٹر) دو یتیم بچوں کی ماں، پڑھی لکھی اور غریب بیوہ خاتون ویکسی نیٹر نے ساتھی مرد ویکسی نیٹرز کے رویوں سے تنگ آکر ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔اپنے استعفیٰ میں انہوں نے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام سندھ میں شریف عورتوں کے لئے ویکسی نیٹر کی ملازمت کو غیر مناسب قرار دیا۔ جنگ کے رابطہ کرنے پر خاتون ویکسی نیٹر’ص‘ کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر کھل کر بات نہیں کر سکتیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ کہیں ان کے بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے اس لئے وہ اپنے والد اور بھائی سے مشورہ کرکے اس معاملے پر جنگ سے کھل کر بات کریں گی لیکن بعد ازاں انہوں نے بات نہیں کی۔ ویکسی نیٹر’ص‘ کے تحریری استعفیٰ کے مطابق وہ ایم اے پاس ہیں اور 2018 میں این ٹی ایس ٹیسٹ میں 72 نمبر حاصل کرکے میرٹ پر ملازمت میں آئیں لیکن انہیں علم نہیں تھا کہ ویکسی نیٹر کیا کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ۔ ایم اے میں فرسٹ ڈویژن ہونے کے باوجود انہوں نے ملازمت ملنے پر بلدیہ ٹاؤن کی گلیوں میں ہاتھ میں ویکسین کیئرئر اٹھا کر ڈیڑھ سال کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے اور موذی بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے لیکن جلد ہی انہیں محسوس ہوگیا کہ یہاں کام سے زیادہ کسی اور چیز کی مانگ ہے جس پر 30 دسمبر کو انہوں نے اپنا تبادلہ ضلع کیماڑی میں کرادیا ۔ انہوں نے تحریر کیا کہ ان کے شوہر انہیں کام پر چھوڑتے اور واپس لے جاتے تھے لیکن 7ماہ قبل ان کا انتقال ہوگیا جس کے بعد وہ نیول کالونی سے بسوں میں سفر کرکے یوسی 5 کیماڑی مچھر کالونی میں کام پر آتی ہیں جہاں ساتھی ویکسی نیٹر غضنفر اور طارق ذہنی ٹارچر کے ساتھ ان کے بارے میں غلط باتیں بھی کرتے ہیںاور مجبور کرتے ہیں کہ ماہانہ 15 ہزار روپے دے کر گھر بیٹھ کر تنخواہ حاصل کریں ۔ اس صورتحال میںدو یتیم بچوں کے ہوتے ہوئے اور ملازمت کی ضرورت ہوتے ہوئے بھی وہ ملازمت سے مستعفی ہو رہی ہیں۔ انہوں نےمذید تحریر کیا کہ ان کی رائے میں محکمہ صحت سندھ کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں ویکسی نیٹر کی جاب کسی شریف عورت کے کرنے کے لئے بالکل مناسب نہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کیماڑی نے ابتدائی طور پر خاتون ویکسی نیٹر کا استعفیٰ وصول کرکے منظوری کے لئے بھیج دیا تاہم حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشار احمد میمن نے تحقیقات کے ساتھ پولیس کے ذریعے ان دونوں مرد ویکسی نیٹرز کے خلاف قانونی کاروائی اور خاتون ویکسی نیٹر کو ان کی سہولت کے مطابقذمہ داریاں سونپنے کا حکم دیا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیماڑی ڈاکٹر عتیق قریشی کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جلد کاروائی کریں گے ۔

اہم خبریں سے مزید