• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آج صبح، نماز، ناشتہ اور تلاوت کے بعد بھوپال جنت مقام کی یاد ستانے لگی، یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ لاہوری کبھی لاہور کو نہیں بھول سکتا۔ بھوپال کو قدرت نے نہ صرف قدرتی خوبصورتی، مناظر، پہاڑ، دریا، بلکہ نہایت ہی اچھے مسلمان عطا کئے تھے۔ نہایت سادے، بھولے بھالے، سُنّی مسلمان، مذہبی فرقہ پرستی سے پاک، نہ بے روزگاری اور نہ فقیر۔ تہذیب و تمدن کا گہوارہ، اعلیٰ دینی اور جدید تعلیم۔ تصور میں اپنے اسکول کے دن یاد کرنے لگا تو تمام اساتذہ کی یاد آئی، محمد وَکی صدیقی، محمد ذکی، عظیم اللہ خان، سید احمد، محمد احسن، پربھو دیال، پرکاش نارائن اور مولوی مظہر احمد اَدہمی وغیرہ وغیرہ۔ میں یہاں مولوی مظہر احمد اَدہمی کے بارے میں سوچ رہا تھا، تصور میں ان کا چہرہ سامنے گھوم گیا۔ دراز قد، نہ دُبلے نہ موٹے، چھوٹی سی داڑھی، ہمیشہ پاجامہ ،کرتا اور شیروانی پہنتے تھے۔ ترکی ٹوپی ان پر بہت اچھی لگتی تھی۔ ہمیں وہ دینیات بمعہ ترجمہ قرآن، اور عربی پڑھاتے تھے۔ ان کی تیار کردہ پورے سال کی ’’اوقات نماز‘‘ آج بھی بھوپال کی مساجد کی زینت ہیں۔ الحمدللہ۔ میں نے عربی کے بجائے فارسی لے لی تھی جو بعد میں بہت کام آئی۔ جب جناب مولوی مظہر احمد اَدہمیؒ مرحوم کے بارے میں سوچ رہا تھا تو فوراً خیال ایک اور ولی اللہ ابراہیم ابن اَدہمؒ کی جانب چلا گیا۔ ان کا تذکرہ ہمارے دوسرے وَلی اللہ، عالمی شہرت کے مالک اور ’’اِلہامی‘‘ کتاب بلکہ مثنوی کے مصنف مولانا جلال الدین رومیؒ کی جانب لے گیا۔ مولانا جلال الدین رومیؒ کے بارے میں اسی ہر دلعزیز روزنامہ جنگ میں چند کالم لکھ چکا ہوں۔ اس فقید المثال ہستی پر جتنا لکھا جائے وہ کم ہے۔ انکی مثنوی کو ایک طرح کا الہامی درجہ حاصل ہے۔ ’’مثنوی مولانا رومؒ تصوف کی دنیا کی سب کتابوں کی سرتاج ہے۔ اس شہرہ آفاق مثنوی کو جو بلند و بالا مقام و مرتبہ حاصل ہوا وہ آج تک ایران کی (یعنی فارسی زبان کی) کسی تصنیف کو نصیب نہیں ہوا‘‘ (حفیظ گوہر۔ حکایات رومیؒ)۔ حضرت مولانا جلال الدین رومی نے اپنی مثنوی میں حضرت ابراہیم ابن ادہم ؒ کا واقعہ یوں بیان کیا ہے۔
’’حضرت ابراہیم ابن ادہمؒ ایک بادشاہ تھے۔ وہ عادل اور منصف تھے۔ ایک رات آپ تخت پر سو رہے تھے کہ چھت پر کسی کے چلنے کی آواز آئی۔ انھوں نے سوچا کہ انسان کی تو مجال نہیں کہ شاہی بالا خانے پر رات کو چڑھ آئے یہ کوئی بھوت پریت ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے پوچھا کیا ڈھونڈھتے ہو؟ اوپر سے جواب ملا کہ ہم اپنے اونٹ کی تلاش میں ہیں۔ آپ نے کہا کہ آج تک محل کی چھت پر کسی نے اونٹ تلاش نہیں کیا ۔ وہ بولے کہ اگر اونٹ چھت پر تلاش کرنا غلط ہے تو خدا کو تخت و تاج پر تلاش کرنا کون سی درست بات ہے۔ اس واقعہ کے بعد ان کے دل کی حالت بدل گئی اور وہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگئے۔
ایک دن اِبراہیم ابن ادہمؒ ایک دریا کے کنارے بیٹھے تھے۔ وہ پہلے بادشاہ ہوتے تھے اور اگرچہ بعد میں درویشی اختیار کرلی تھی۔ ان کے امیروں میں سے ایک نے انہیں پہچان لیا اور ان کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ بزرگ لوگوں کے دل کے وسوسوں کو تاڑ لیتے ہیں۔ بزرگوں کے سامنے بُرے وسوسے نہیں لانے چاہئیں۔ شیخ اس امیر کے وسوسے کو تاڑ گئے اور اپنی سوئی جس سے گدڑی سی رہے تھے دریا میں پھینک دی اور پھر سوئی دریا سے واپس مانگی۔ مچھلیاں سونے کی لاکھوں سوئیاں ہونٹوں میں لئے نمودار ہوئیں۔ اِبن ادہم رحمتہ اللہ علیہ نے کہا اے خدا مجھے تو صرف اَپنی سوئی چاہئے۔ ایک اور مچھلی ان کی سوئی منہ میں لئے حاضر ہوئی۔ ابراہیم ادہم رحمتہ اللہ علیہ نے سردار سے کہا دنیا کی شاہی کا طلب گار نہ بن روحانی شاہی طلب کر۔ عالم غیب ایک باغ ہے جس کا تھوڑا سا حصہ اس دنیا میں رکھ دیا گیا ہے۔ عالم غیب ایک مغز ہے اور یہ دنیا اس کا ادنیٰ چھلکا ہے۔ اگر عالم غیب کے باغ میں قدم نہیں پہنچتا تو اس کی خوشبو حاصل کرنے کی کوشش کر۔ خواہشات نفسانی کے زکان کو دفع کر۔ عاشقوں کی صحبت میں جا جب عالمِ غیب کی خوشبوسونگھے گا روح عالمِ غیب کی طرف کھینچے گی اور آخر کار سینے میں تجلیات رب کا ظہور ہوگا۔
جب مرید کے حواس شیخ کے حواس کے تابع ہوگئے تو آسمان و زمین تک شیخ کے تابع ہوجائینگے۔ چھلکا بھی اس کی ملکیت ہوتا ہے جو مغز کا مالک ہو۔ جسم اور روح کی وہی نسبت ہے جو کہ آستین اور ہاتھ کی۔ عقل اور روح کے مخفی ہونے میں فرق ہے۔ عقل روح کے اعتبار سے زیادہ مخفی ہے۔ روح دوسرے کی روح کو جلدی پہچان لیتی ہے اور عقل دیر میں۔ ہر انسان نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عقل کو جان لیا اور ان کو عقل مند کہا لیکن بہت سارے آپؐ کی قبول وحی کی استعداد کو نہ پہچان سکے۔ وحی کی استعداد کی بھی کچھ علامتیں ہیں لیکن چونکہ وہ نادر ہوتی ہیں اسلئے عقل ان کو نہیں پہچانتی اور ان علامتوں کو جنون کا اثر سمجھتی ہے کبھی حیران ہوجاتی ہے۔
تحقیقی علم والاخاموشی سے اللہ کیساتھ خرید و فروخت میں لگا رہتا ہے، اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور مال جنت کے عوض خرید لئے ہیں۔ ہر علم کا خریدار اس کے مطابق ہوتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کے علوم کے خریدار فرشتے تھے نہ کہ دیو پری۔ جن لوگوں کا تعلق صرف عالمِ سفلی سے ہے انکا تعلق چوہے کے علم کی طرح صرف خوراک سے ہے۔ لہٰذا ان کو اتنی ہی عقل عطا ہوئی۔
دنیا کو اگر زمین کی ضرورت نہ ہوتی تو زمین نہ بنتی اگر دنیا کو آسمانوں کی ضروت نہ ہوتی تو وہ پیدا نہ کئے جاتے۔ سورج چاند ستارے سب ضرورت کے تحت ہی پیدا کئے گئے ہیں۔ اشیاء کا وجود ان کی ضرورت کی شدت کی وجہ سے ہے۔ تو اپنی احتیاج اور ضرورت کو بڑھا تاکہ دریائے کرم جوش میں آئے۔ دنیا کا یہی دستور ہے کہ جب تک فقیر اپنی مجبوری اور ضرورت کا اظہار نہیں کرتا اس کو کوئی کچھ نہیں دیتا۔ عالمِ ناسوت میں پھنسے ہوئے اگر ضرورت محسوس کریں تو خدا انکو نورِبصیرت عطا فرما دے۔ جب ان کو نورِ بصیرت عطا ہو جائے تو ان کی عالمِ لاہوت کی طرف پرواز شروع ہوجائے گی۔ پھر ان پر اسرارِ خداوندی کھلیں گے اور وہ بُلبل کی طرح نغمہ سرائی کرنے لگیں گے۔
جسم اور روح کی نسبت اگر مفہوم سے ہوتی ہے تو صرف اس قدر جیسا کہ پانی کی نہر سے یا پرندے کے گھونسلے سے ان کا تعلق درحقیقت غیرمعلوم ہے۔ روح کی قوت فکریہ میں ہمیشہ اچھے برے خیالات آتے جاتے رہتے ہیں۔ جیسے پانی بظاہر ٹھہرا ہوا نظر آتا ہے لیکن رواں ہوتا ہے اسی طرح سے روح ملاء اعلیٰ کی طرف سے رواں ہے لیکن اس کا احساس نہیں ہوتا۔ سطح آب کی روانی خس و خاشاک کے گزرنے سے معلوم ہوجاتی ہے اس طرح روح کی قوت فکریہ میں مختلف خیالات کے آنے سے اس کی روانی معلوم کی جاسکتی ہے۔ روح کی قوت فکریہ کی سطح پر جو چھلکے ہیں وہ غیبی پھلوں کے چھلکے ہیں۔ ان پھلوں کا مغز، غیبستان میں تلاش کر۔ لامحالہ اسکا کوئی منبع ہے۔ عام عارفوں کی روح کی روانی تیز ہے اسلئے اس پر غم و غصہ کے خس و خاشاک زیادہ دیر نہیں ٹھہر تے۔
جب اس امیر نے مچھلیوں کو حضرت ابراہیم ادہم رحمتہ اللہ علیہ کے تابع فرمان دیکھا تو اس پر وجد طاری ہوگیا، اس نے اپنی لاعلمی پر افسوس کیا کیونکہ پہلے اس کے دل میں وسوسہ آگیا کہ شاہی چھوڑ کر فقر اختیار کرلینے پر تعجب تھا۔ اس پر اسرار کا دروازہ کھل گیا اور وہ ان کے عشق میں دیوانہ ہوگیا۔اگر مرید فیض حاصل نہ کرسکے تو اس میں شیخ کو کوئی نقصان نہیں ہوتا شیخ ازلی دریا ہوتا ہے۔ کوئی پیاسا رہے تو اس میں کوئی کمی نہیں آتی۔ بد ایک آگ کی صورت اور شیخ آب کوثر ہے آگ کو پانی ختم کردیتا ہے آگ پانی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ شیخ میں عیب تلاش کرنے والا بہشت میں کانٹا تلاش کرتا ہے حالانکہ کانٹا تو وہ خود ہے۔
شیخ میں عیب تلاش کرنے والا خود عیب دار ہوتا ہے۔ جس ہنر کو شیخ نہ سمجھیں وہ ہنر نہیں ہے اور جس یقین کو شیخ یقین نہ سمجھے وہ یقین نہیں ہے۔ پیر قبلہ کی مانند ہوتا ہے اس کی طرف دور سے بھی رخ کرنے سے فیض حاصل ہوجاتا ہے۔ گدھا دلدل میں پھنسا ہو تو نکلنے کی تگ و دو کرتا ہے۔ یہ دنیا بھی دلدل ہے اس سے بھی نکلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر کوئی بداعمالی سے نکلنے کی کوشش نہ کرے تو گدھے سے بدتر ہے۔‘‘
اللہ رب العزت حضرت ابراہیم بن اَدہم ؒ اور مولانا مظہر احمد اَدہمیؒ پر اپنی خاص عنایات قائم رکھے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام پر فائز رکھے۔ آمین
تازہ ترین