پاکستانی منی ایچر آرٹسٹ ماہین الہٰی کے فن پاروں کی ری امیجنڈ رئیلٹیز کے عنوان سے نمائش سینٹرل لندن کی گرین اینڈ اسٹون گیلری میں جاری ہے۔
جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے ماہین الہٰی کا کہنا تھا کہ میرا فن ایشیا کے قدیم ترین مصوری کی روایت کا گہرا عکاس ہے۔ یہ فن پارے تنہائی کے ذریعے امن، سکون اور قلبی اطمینان پر توجہ دلاتے ہیں۔
ماہین الہٰی کا کہنا تھا کہ میرا کام منی ایچر روایات کی نقل نہیں بلکہ اسے نئی شکل میں متعارف کرنا ہے۔ درخت، بادل اور پرندے دیکھنے والوں کو تصاویر کے ساتھ وقت گزارنے کی دعوت دیتے ہیں۔
ماہین الہٰی معروف پاکستانی مصور سعید اختر کی پوتی ہیں، ان کی نیشنل کالج آف آرٹس سے گریجویشن کے بعد یہ پہلی بڑی نمائش تھی۔ صرف 24 برس کی عمر میں اپنے کام کے سبب فنون لطیفہ کے حلقوں میں انہیں زبردست پزیرائی مل رہی ہے۔
گیلری کی منیجنگ ڈائریکٹر ہیسٹر بالڈون کا کہنا ہے کہ ماہین الہٰی کے کام کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ غیر معمولی آرٹسٹ ہیں۔ ان کے فن پارے دیکھنے والوں کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔
ماہین الہٰی رواں برس نیو یارک اور دبئی میں بھی اپنے فن پاروں کی نمائش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔