مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی آباد کاروں نے قبر کیلئے بھی فلسطینیوں پر زمین تنگ کردی اور قبریں کھودنے کی دھمکیاں دے ڈالیں جس کے باعث ایک فلسطینی شہری اپنے والد کی میت ایک قبر سے نکال کر دوسری جگہ لے کر دفنانے پر مجبور ہوگیا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی خاندان نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں نے انہیں مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں اساسہ میں ان کے والد کی تازہ قبر دوبارہ کھولنے پر مجبور کیا۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے علاقے میں پیش آیا جسے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو غیرقانونی طور پر آباد کر رہے ہیں۔
فلسطینی خاندان کا کہنا ہے کہ 80 سالہ حسین اساسہ جمعے کو انتقال کے بعد گاؤں کے قبرستان میں دفنائے گئے تھے۔
بیٹے محمد نے بتایا کہ تدفین اسرائیلی فوج کی موجودگی اور اجازت کے ساتھ ہوئی۔ تاہم کچھ دیر بعد گاؤں والوں نے اطلاع دی کہ اسرائیلی آبادکار قبر پر پہنچے اور اسے دوبارہ کھودنے کی دھمکیاں دینے لگے۔
محمد اساسہ نے کہا، ’’ان لوگوں نے کہا ’یہ زمین آبادکاری کے لیے ہے اور یہاں تدفین کی اجازت نہیں۔‘ ہم نے بتایا کہ ’یہ گاؤں کا قبرستان ہے، کسی بستی کا حصہ نہیں‘۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ آبادکاروں نے دھمکی دی کہ وہ قبر کو بلڈوزر سے کھود دیں گے، جس پر خاندان نے خود ہی والد کی میت نکال کر دوسرے قبرستان میں دفن کر دی۔
عالمی ردعمل
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا، ’یہ انتہائی افسوسناک ہے اور فلسطینیوں کی انسانیت سے محرومی کی علامت ہے۔‘
پس منظر
مقبوضہ مغربی کنارہ وہ علاقہ ہے جسے فلسطینی اپنی آزاد ریاست کے لیے چاہتے ہیں اور اسرائیل وہاں غیر قانونی آبادکاری کو جائز قرار دیتا ہے۔
اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔