• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان میں گزشتہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات آنیوالے زلزلے کے نتیجے میں اب تک لگ بھگ1500سے زائد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلےکی شدت6.1سے زائد تھی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے، زلزلے کے بعد بارش کے باعث امدادی کاررائیوں میں مشکلات پیش آئیں اور کئی لوگ ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جس سے جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ہے۔ زلزلہ خوست سے تقریباً 44 کلومیٹر دور 51 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا،جس کے جھٹکے کابل، غزنی، پکتیکا،خوست، ننگرہار، لغمان اورپاکستان کے کئی شہروں میں بھی محسوس کیےگئے۔افغان حکومت نے بین الاقوامی اداروں سے بھی مدد کی اپیل کردی ہے۔ہنستے بستے دلکش و دلفریب افغانستان پردسمبر1979میں سوویت یلغار کی صورت ایسی نحوست اتری کہ پورا ملک کھنڈر بن گیا اور رزق روٹی بھی اٹھ گئی۔المیہ یہ رہا کہ امریکہ نے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان کے 9ارب ڈالر منجمد کر کے اسے اتنا بے دست وپا کردیا کہ اسکےلیے ملکی امور چلانابھی ممکن نہ رہا اور وہ موسم سرما میں انسانی المیے کا شکارہونے لگا ،ابھی صورتحال میں بہتری کے کوئی آثار نہ تھے کہ ہولناک زلزلے نے اس کے متعدد شہر ادھیڑ کر رکھ دیئے ہیں ۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے ’عالمی ایجنسی مدد کیلئے پوری طرح فعال ہے۔ زلزلہ زدہ علاقے میں طبی امداد کی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں جبکہ ادویات، خوراک، ٹراما کٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر افغان زلزلہ متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیج دیا گیاہے ۔افغانستان پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہے اور زلزلے کے بعد اس کیلئے نئے مسائل سے نبرد آزما ہونا ممکن نہ ہو گا ۔عالمی برادری کو اس ستم رسیدہ ملک کی مدد کیلئے آگے آنا ہوگا کہ ابھی تو نقصانات کی ابتدائی اطلاعات آئی ہیں ،نقصان کا احتمال کہیں زیادہ ہے۔

تازہ ترین