• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایم پیز کو کامنز چیمبر میں بچے ساتھ لانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے، کراس پارٹی کمیٹی

لندن ( پی اے ) ایک کراس پارٹی کمیٹی نے کہا ہے کہ ایم پیز کو اپنے بچوں کو کامنز چیمبر میں لانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ کامنز سپیکر سر لنزے ہوئل نے پروسیجر کمیٹی سے قواعد پر نظرثانی کرنے کیلئے کہا تھا جب نومبر 2021 میں لیبر ایم پی سٹیلا کریسی کو بتایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ کامنز چیمبر میں نہیں لا سکتیں ۔ ریویو نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کامنز مباحثوں میں بچوں کو باہر رکھنے کی طویل مدتی پریکٹس کو برقرار رہنا چاہئے لیکن ریویو میں کہا گیا کہ اگرچہ تھوڑی سی صوابدید کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مس سٹیلا کریسی نے اس ریویو کے نتیجے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید تھی کہ اس سے والدین اور سیاست کا اختلاط ممکن ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کراس پارٹی کمیٹی نے پارلیمنٹ سے باہر کسی ایک فرد سے بھی بات نہیں کی اس کے باوجود کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ایسا کرنے کی ترغیب دی تھی ۔ سٹیلا کریسی نے کہا کہ میں حیرت زدہ نہیں ہوں کہ وہ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ پارلیمنٹ میں اس کے پرانے رولز کو کس طرح ختم کر دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی تب آتی ہے جب ہم سیٹس کو کو توڑنے کیلئے باہر والوں کی آوازوں کو سننا شروع کر دیں گے۔ یہ مسئلہ گزشتہ سال نومبر میں اس وقت اٹھایا گیا تھا جب مس سٹیلا کریسی جو اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ ویسٹ منسٹر ہال میں مباحثے کے دوران لائی تھیں جو کہ پارلیمنٹ کے ایوانوں کا حصہ ہے۔ لیبر کی سٹیلا کریسی نے کہا کہ وہ اپنے اس بیٹے سے پہلے بھی اپنی بیٹی کو کامنز چیمبر میں لے کر گئی تھیں ۔ لیکن اس بار جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ویسٹ منسٹر ہال میں گئی تھیں تو انہیں کامنز کے حکام کی جانب سے ای میل موصول ہوئی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ کامنز رولز کے مطابق بچوں کو مباحثوں میں ساتھ لانے کی ممانعت ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے کامنز سپیکر سر لنزے ہوئل نے پروسیجر کمیٹی سے کہا کہ وہ رولز کے بارے میں نظرثانی کرے ۔ لیکن اس ریویو میں کراس پارٹی کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر کوئی ایم پی کامنز کی پروسیڈنگز کے مشاہدے ‘ کاروائی میں شرکت ‘ تقریر کرنے یا ماخلت کرنے میں شامل ہونا چاہتا ہے تو طویل مدت سے جاری اس پریکٹس کو تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے ۔ پروسیجر کمیٹی نے نوٹ کیا کہ کئی ایسے مواقع بھی آئے جب ایم پیز بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے بچوں کو مباحثوں میں لائے۔ تھے۔ لیکن ریویو کمیٹی نے کہا کہ اس صورت حال نے پریکٹس اور رولز کے درمیان کچھ کنفیوژن اور گیپ پیدا کرنے میں کردار ادا کیا تھا ۔ تاہم کمیٹی نے مزید کہا کہ چیئرز کا ڈی فیکٹو ڈسکریشن کو استعمال کرنے کا حق برقرار ہے جسے تھوڑا سا استعمال کیا جانا چاہئے ۔ تاہم یہ کڑی توقع کی جاتی ہے کہ اپنے بچے کی کیئرنگ کرتے ہوئے ایم پیز کامنز پروسیڈنگز میں شرکت نہ کریں ۔ جب ابتدائی طور پر رولز پر نظرثانی کا حکم دیا گیا تھا تو اس وقت ڈپٹی پرائم منسٹر ڈرمینک راب نے کہا تھا کہ انہیں مس سٹیلا کریسی سے بہت زیادہ ہمدردی ہے اور وہ کسی بچے کی وجہ سے پریشان نہیں ہوں گے۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ درست توازن کا فیصلہ کرنا ہائوس اتھارٹیز کا کام ہے۔ کنزرویٹو ایم پی ایلیسیا کیرنز نے دلیل دی کہ کامنز میں بچے کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی ایسی پروفیشنل ورک پلیس نہیں جہاں اپنے چیف ایگزیکٹیو کے ساتھ میٹنگ کے دوران آپ اپنے بچے کو فیڈ کریں ۔ یا نئے کلائنٹس کے سامنے یا سٹیج پر شیئر ہولڈرز کے سامنے ۔ رٹلینڈ اور ملٹن ایم پی جنہوں نے جنوری 2021 میں اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کا اعلان کیا تھا نے مزید کہا کہ میں نے اپنے بچے کی فیڈنگ کیلئے کچھ مرتبہ مباحثہ چھوڑنے کیلئے کہا تھا اور ان کو درخواست کو کبھی رد نہیں کیا گیا ۔ سابق لبرل ڈیموکریٹ لیڈر جو سوئنسن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو بحث کے دوران چیمبر میں لانے والی پہلی رکن پارلیمنٹ تھیں جب انہوں نے 2018 میں کامنز میں اپنے بیٹے کو لائی تھیں ۔ پروسیجر کمیٹی چیئر کنزرویٹو ایم پی کیرن براڈلے نے ایک الگ ایشو کے حوالے سے کہا کہ آئندہ ہفتوں میں پراکسی ووٹنگ توسیع پر بحث کی جانی چاہیے اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مثال کے طور پراگر ایم پیز طویل مدت سے بیمار ہونے کی وجہ سے ویسٹ منسٹر نہیں جا سکتےہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ووٹ ڈالنے کے قابل ہونا چاہے ۔