• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عید الاضحی کو مذہبی جوش و جذبے سے منانے کے لیے کئی روز قبل ہی اس کی گہما گہمی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ بچے، بڑے سب ہی قربانی کے جانور کی خریداری کے لیے مویشی منڈی کا رُخ کرتے ہیں۔ گلی محلّوں میں جگہ جگہ اونٹ، گائے، بکرے اور مینڈھے نظر آتے ہیں۔ 

عیدِ قرباں میں جب ایک دو دن رہ جاتے ہیں تو لوگ گوشت کاٹنے کے لیے چھریاں تیز کراتے، باربی کیو کا سامان اور مسالہ جات خریدتے نظر آتے ہیں۔ ان تمام مصروفیات کے درمیان اور تہوار کی خوشی میں اپنی صحت کے حوالے سے لاپرواہی نہ کریں اور کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے عید سے قبل اور بعد میں اپنی صحت برقرار رکھیں۔

جانور کی خریداری اور دیکھ بھال 

ہر عمر کے افراد کو مویشی منڈی جانے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ مویشی منڈی جانے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہاں جاتے ہوئے ماسک کا استعمال کریں اور اگر ماسک نہ ہو تو اپنے منہ کو رومال یا کسی کپڑے سے ڈھانپ لیں۔ اس طرح وہ گردوغبار اور جانوروں میں پائے جانے والے جراثیم سے کافی حد تک خود کو بچاسکیں گے۔ 

شام کے اوقات میں مویشی منڈی کا رُخ کرنے والے اپنے جسم کے کھلے حصوں (چہرہ، ہاتھ اور پیر) پر مچھر بھگاؤ لوشن لگالیں تاکہ ملیریا اور ڈینگی والے مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رہ سکیں۔ اسی طرح، جانور کی خریداری کے بعد جب آپ اسے پیار کریں تو گھر آکر ہاتھ دھوئیں اور کپڑے گندے ہوجائیں تو انھیں فوری تبدیل کرلیں۔

قربانی کے بعد احتیاطی تدابیر

شہریوں کا فرض ہے کہ جگہ جگہ سڑکوں پر آلائشیں نہ پھینکیں۔ آلائشیں ایسی جگہ پھینکیں جہاں سے بلدیاتی ادارے کا عملہ بآسانی انھیں لے جائے۔ اپنی اور دیگر شہریوں کی صحت کے پیش نظر صفائی یقینی بنائیں۔ گوشت کی کٹائی کے بعد عموماً وہ دن بھر باہر کھلا پڑا رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں مخصوص بُو پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور ایسے گوشت کو کھانا صحت کے لیے شدید نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ 

قربانی کے بعد گوشت زیادہ دیر باہر مت چھوڑیں اور تقسیم کے بعد بچ جانے والے گوشت کو صحیح طور پر محفوظ کریں۔ ماہرین غذائیت کہتے ہیں کہ قربانی کا گوشت فریز کرنے سے پہلے اس کے پارچوں کو اچھی طر ح دھوئیں اور چھلنی میں رکھ کر اس کا پانی نکلنے دیں، پھر اسے ٹرانسپیرنٹ تھیلیوں میں ڈال کر فریزر میں رکھیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت کو20دن سے زیادہ فریج اور فریزر میں نہ رکھیں۔ بار بار فریج کھلنے سے گوشت کی تازگی اور غذائیت متاثر ہوتی ہے، جو انسانی صحت کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

کھانے میں اعتدال

ماہرین کے مطابق پروٹین کے حصول کے لیے گوشت بہترین ذریعہ ہے۔ قربانی کا گوشت تازہ اور غذائیت سے بھرپور ہونے کے باعث زیادہ کیلوریز پر مشتمل ہوتا ہے، اسے زائد مقدار میں کھانے سے ڈائریا اور قبض کے علاوہ مضرصحت اثرات کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک صحت مند انسان کے لیے گوشت کی مناسب مقدار 100گرام ہے۔ ہمارے یہاں قربانی ہوتے ہی کلیجی، مغز، چانپیں اور دیگر چٹ پٹے کھانے تیار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

تاہم، پکانے سے پہلے گوشت کی صفائی یقینی بنائیں اور کم مسالوں میں صحیح سے پکا ہوا کھانا کھائیں۔ بسیار خوری سے گریز کریں کیونکہ اس سے بلڈ پریشر، ذیابطیس اور دل کے مریضوں کو زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق گوشت کے پکوانوں میں مسالوں کا زائد استعمال امراض قلب اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ 

امراض قلب میں مبتلا افراد گوشت کی کم مقدار کھائیں جبکہ سبزیوں اور دالوں کا استعمال زیادہ کریں۔ اس کے علاوہ امراض قلب اور ذیابطیس کے مریض کلیجی، گردے اور مغز کا استعمال بالکل نہ کریں کیونکہ ان میں عام گوشت کے مقابلے میں کولیسٹرول کی مقدار کئی گنازائد ہوتی ہے اور یہ ان کی صحت کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

عید قرباں پر عموماً اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں زیادہ گوشت کھانا، بے احتیاطی، پانی کی کمی اور ورزش نہ کرنا قابل ذکر ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ قربانی کا گوشت اعتدال سے کھائیں۔ زیادہ کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اعصابی بیماریاں، دماغی کمزوری، ذیابطیس، بلند فشار خون اور پیٹ کے متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ زیادہ باربی کیو کھانے میں بھی احتیاط سے کام لیں۔ 

طبی ماہرین کے مطابق چونکہ بار بی کیو کے دوران گوشت مکمل طور پر نہیں پک پاتا، اس لیے اسے ہضم ہونے میں بھی وقت لگتا ہے۔ کم مسالوں میں پوری طرح گلا ہوا گوشت قدرے آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے۔ چونکہ اکثر لوگ عید قرباں پر دوپہر اور رات کے کھانے میں گوشت ہی استعمال کرتے ہیں، تو ایسے میں صبح ناشتے میں پھلوں اور غذائیت سے بھرپور خوراک استعمال کرنے پر توجہ دیں۔ کھانے کے بعد بغیر چینی کے گرین ٹی پئیں، یہ انسان میں میٹابولزم کی شرح کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

کھانے کے بعد چہل قدمی

چہل قدمی کو کھانا ہضم کرنے کا بہترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، کھانے کے فوراً بعد چہل قدمی کرنے سے جسم میں تیزابیت پیدا ہوتی ہے۔ کھانے اور چہل قدمی کے درمیان کم از کم 30 منٹ کا وقفہ ہونا چاہیے۔