آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
غیر ملکی جارحیت پر فکر مند وطن پرستوں کے لیے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا یہ بیان باعث افتخار و اطمینان ہے ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستانی حدود میں امریکی ڈرون حملے کے لیے مذمت کا لفظ بہت چھوٹا ہے ۔ یہ حملہ ہماری خود مختاری کی خلاف ورزی ہے ۔ اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ بیان 2 جون 2016 کے تقریباً تمام قومی اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوا ہے ۔ 2 جون کا دن تاریخی اہمیت کا حامل ہے ۔ 2 جون کا دن ’’ سقوط ملتان ‘‘ اور نواب مظفر خان شہید کی عظیم قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے ۔ نواب مظفر خان بیرونی جارحیت کے خلاف مزاحمت اور دھرتی کی حفاظت کے لیے سب کچھ قربان کردینے کا تاریخی استعارہ ہیں ۔ آج سے 198 سال قبل تخت لاہور کے حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجوں نے ملتان پر حملہ کیا تھا ۔ اس حملے کا مقصد یہ تھا کہ نواب مظفر خان سکھ دربار کی حاکمیت قبول کر لیں لیکن والی ملتان نواب مظفر خان نے یہ حاکمیت قبول نہیں کی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجوں کا مقابلہ کیا ۔ تاریخ میں اسے ’’ جنگ ملتان ‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ یہ جنگ مارچ 1818 ء میں شروع ہوئی اور 2 جون 1818 ء کو ختم ہوئی ۔ رنجیت سنگھ کی فوجوں نے قلعہ ملتان پر قبضہ کر لیا ۔ نواب مظفر خان اپنے 7 بیٹوں اور دیگر عزیز و اقارب کے ساتھ شہید ہو گئے ۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ آج کل پنجابی قوم پرستوں کے ہیرو ہیں اور نواب مظفر خان سرائیکی قوم پرستوں کے لیے وطن پرستی اور دھرتی سے محبت کی علامت ہیں ۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے ہیں کہ کون ’’ ہیرو ‘‘ ہے اور کون ’’ ولن ‘‘ ہے لیکن اپنے گھر کی حفاظت کے لیے اگر کوئی اپنی جان قربان کر دیتا ہے تو تاریخ اسے کبھی بھی مطعون اور ملعون قرار نہیں دیتا۔ تاریخ میں اخلاقی معیارات تبدیل ہوتے رہے ہیں ۔ اقدار میں یکسانیت نہیں رہی ہے ۔ ایک عہد کا حق دوسرے عہد میں باطل قرار پایا اور دوسرے عہد کا باطل تیسرے عہد میں حق قرار پایا لیکن اپنی دھرتی کے لیے لڑنے والوں کو تاریخ نے کبھی ولن قرار نہیں دیا حالانکہ تاریخ حملہ آوروں ، نو آبادیوں اور سامراجیوں نے مرتب کی ہے ۔ انہوں نے ’’ حق ‘‘ رائج کرنے کے لیے دنیا کو تاراج کیا اور مزاحمت کرنے والے مقامی باشندوں کو بدبخت اور گمراہ قرار دیا ، اس کے باوجود تاریخ کے اصل ہیروز حملہ آور نہیں بلکہ مزاحمت کاراور دھرتی پرقربان ہونے والے لوگ ہی ہیں ۔ممتاز دانشور ڈاکٹر محمد سمیع پنجابی کو اپنی یہ رائے دینے کا حق حاصل ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ ’’ دھرتی کا بیٹا ‘‘ ( Son of Soil ) مقامی جٹ تھے جبکہ نواب مظفر خان افغان سدوزئی اور غیر مقامی تھے لیکن اس تاریخی حقیقت کو نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ نواب مظفر خان نے ملتان کا اپنے خون سے دفاع کیا ۔ انہوں نے اپنے 7 بیٹے اور اپنا پورا خاندان قربان کیا ۔ دھرتی کی مٹی کو اپنے اور اپنے خاندان کے خون سے سینچا ۔ ملتان کے لوگوں نے اس جنگ میں نواب مظفر کا ہی ساتھ دیا ۔ نواب مظفر سے زیادہ ’’ دھرتی جایا ‘‘ ( سن آف سوائل ) کون ہو گا ۔ سلطنت ملتان کے لوگ تو آج تک تخت دہلی کے حکمران سلطان غیاث بلبن کے بیٹے شہزادہ محمد کے احسان مند ہیں ۔ شہزادہ محمد بھی مقامی نہیں تھے اور وہ 13 ویں صدی میں کچھ عرصے کے لیے ملتان کے گورنر بن کر آئے تھے ۔ ان کے والد نے انہیں ملتان پر تاتاریوں ( منگولوں ) کے حملے روکنے کے لیے گورنر بنا کر بھیجا تھا ۔ تاتاری ملتان اور ارد گرد کے علاقوں پر حملہ آور ہو کر وحشیانہ انداز میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے تھے اور یہاں سے سب کچھ لوٹ کر چلے جاتے تھے ۔ شہزادہ محمد تاتاریوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے تھے اور آج تک وہ اس علاقے کی شاعری اور ادب میں وطن پرستی اور مزاحمت کا استعارہ ہیں ۔ رنجیت سنگھ کی فوجیں پہلے بھی حملہ آور ہوئی تھیں اور انہوں نے ملتان میں لوگوں کا قتل عام کیا تھا ۔ اس غارت گری کو روکنے کے لیے نواب مظفر نے تخت لاہور کی اطاعت قبول کرنے اور تاوان دینے سے انکار کیا تھا ۔ کوئی دھرتی جایا غارت گری سے حق حکمرانی تسلیم نہیں کراتا ۔ غارت گری دراصل غیریت اور فسطائیت کا بنیادی جوہر ہے ۔اس بحث میں بھی نہیں الجھنا چاہئے کہ جنگ ملتان مسلمانوں اور سکھوں و ہندؤوں کے درمیان تھی یا مقامی یا غیر مقامی لوگوں کے درمیان تھی لیکن یہ حقیقت ہے کہ نواب مظفر کی شہادت کے بعد لاہور اور ملتان کے درمیان محبت کا رشتہ ختم ہو گیا اور آج ملتان پھر 2 جون 1818 کے سقوط ملتان کو چیلنج کر رہا ہے ۔ہم اس بحث میں بھی نہیں الجھنا چاہتے کہ رنجیت سنگھ سے پہلے ملتان کبھی لاہور کی عمل داری میں رہا یا نہیں ۔ اس بات کے قطع نظرکہ ابوالفضل نے ’’ آئین اکبری ‘‘ میں ملتان کو ایک بہت بڑی اقلیم اور ایک الگ جغرافیائی وحدت قرار دیا ۔ تاریخ میں اس کی الگ سلطنت ہونے کے بارے میں اور بھی کئی ثبوت موجود ہیں ۔ ایک طرف ٹھٹھہ ، دوسری طرف فیروز پور ، جیسلمیر اور کیچ مکران تک کے علاقے اس میں شامل تھے ۔ ہم تو صرف نواب مظفر خان کی بات کر رہے ہیں ، جنہوں نے بیرونی جارحیت کو للکارا اور اپنی اور اپنے 7 بیٹوں کی زندگیاں قربان کر دیں ۔ 2 جون اور پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے ڈرون حملوں کے بارے میں شائع ہونے والے بیان کے حوالے سے نواب مظفر خان کی یاد آئی ہے ۔ جب بھی کسی قوم کو بیرونی جارحیت کے خلاف دو ٹوک اور جرأت مندانہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا ، اسے لازمی طور پر نواب مظفر خان شہید جیسے لوگوں کی ہی ضرورت محسوس ہو گی ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں