• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

82 سالہ کوہ پیما بلند ترین پہاڑ کی چوٹی سرکرنے کیلئے پرجوش

لندن (پی اے) 82سالہ کوہ پیما نک گارڈنر اسکاٹ لینڈ کے 282بلند ترین پہاڑ وں میں سے ایک منرو کی چوٹی سرکرنے کیلئے پرجوش اور تیار ہیں جبکہ ان کی 84سالہ اہلیہ جینٹ کو الزائمر اور آسٹوپروسس کی وجہ سے ایک کیئر ہوم میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ 4بچوں کے دادا کا تعلق اسکاٹ لینڈ کے پہاڑی علاقے Gairloch سے ہے، انھوں نے جولائی 2020ء سے اپنی اس مہم کی تیاری شروع کی تھی اور اب 2سال بعد وہ حتمی طور پر منرو کیرن گورم کی چوٹی سر کرنے کو تیار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں منرو کی چوٹی سرکرنے کے حوالے سے بہت پرجوش اور پرامید ہوں، ایمانداری کیبات یہ ہے کہ ا س وقت میری حالت ویسی ہے جیسی کرسمس کے موقع پر بچوں کی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے بہت سے دوست اور فیملی کے لوگ میرے ساتھ ہوں گے، یہ میرے لئے ایک بڑا دن ہوگا۔ منرو کی چوٹی ابھی تک کسی نے سر نہیں کی ہے، یہ کم از کم 3,000فٹ اونچی ہے فزکس کے سابق ٹیچر نک گارڈنر اب تک 500,000 فٹ سے زیادہ بلندیاں سر کرچکے ہیں جوکہ مائونٹ ایورسٹ کو 17مرتبہ سرکرنے کے مساوی ہے، اس کے علاوہ وہ 2,000میل تک پیدل چل چکے، یہ ایڈنبرا سے پیدل یونان جانے کے مساوی ہے۔ وہ اب تک الزائمر اسکاٹ لینڈ اور رائل آسٹو پروسس سوسائٹی کیلئے 50,000پونڈ کے عطیات جمع کرچکے ہیں، اس چوٹی کو سر کرنے کی ان کی حتمی مہم میں ان دونوں اداروں کا عملہ اور والنٹیئر ان کے ساتھ ہوں گے، اس کے علاوہ ان کی 2بیٹیاں اور ان کے 4بچے بھی ان کے ساتھ ہوں گے، اس موقع پر ایک سازینے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ ان کی ایک بیٹی سیلی مک کنزی نے سب سے زیادہ عمر کے کوہ پیما کی حیثیت سے ان کا نام گینز ورلڈ بک میں ان کا درج کرانے کی درخواست کی ہے۔ وہ گزشتہ 10دنوں کے دوران منرو کی 7چوٹیاں سر کرچکے ہیں۔ گارڈنر کا کہنا ہے کہ یہ آخری چوٹی سر کرنے کے بعد میں اپنے گھٹنوں کو آرام دینا چاہوں گا انھوں نے کہا کہ Knoydart میں میں نے جو آخری 3چوٹیاں سر کیں، وہ بہت مشکل تھیں۔ لڈھار بہینن میں ہمیں خراب موسم کا سامنا کرنا جو کسی حد تک چیلنجنگ تھا کیونکہ میں اس فائنل کا فیصلہ کرچکا تھا اور ان لوگوں کو مدعو کرچکا تھا، جو میرے ساتھ ہوں گے انھوں نے کہا کہ مجھے کوئی زخم نہیں لگا لیکن میرے گھٹنے تھک گئے اس لئے اب ان کو آرام دینا اچھا ہوگا۔