• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مالی مشکلات: عماد شکیل بٹ اور مبشر علی قومی ہاکی ٹیم سے الگ

مبشر علی اور عماد شکیل بٹ—فائل فوٹو
مبشر علی اور عماد شکیل بٹ—فائل فوٹو

عماد شکیل بٹ اور مبشر علی پاکستان ہاکی ٹیم سے الگ ہو گئے۔

دونوں کھلاڑیوں نے استعفیٰ ہاکی فیڈریشن کو بھیج دیا، دونوں کھلاڑی اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے کیمپ سے بھی دستبردار ہو گئے۔

استفعیٰ دینا آسان فیصلہ نہیں: عماد شکیل بٹ

عماد شکیل بٹ نے کہا ہے کہ 2013ء سے قومی ہاکی ٹیم کا حصہ رہا ہوں جو میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے، میں نے اپنے سینئر کھلاڑیوں اور کوچز سے بہت کچھ سیکھا، موقع دینے پر شکر گزار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 10 برس میں پاکستان کی 145 میچز میں نمائندگی کی، میری بدقسمتی ہے کہ میں نے فوری طور پر پاکستان ہاکی ٹیم سے استعفیٰ دینے کے لیے لکھا ہے۔

عماد شکیل بٹ کا کہنا ہے کہ یہ ایک آسان فیصلہ نہیں بدلتے حالات میں فیملی کی صورتِ حال کی وجہ سے قدم اٹھانا پڑا، میں نے اب مستقبل کی منصوبہ بندی اور ترجیحات طے کرنی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ مجھے اپنی فیملی کو بہترین سپورٹ کرنا ہے اس کے لیے مواقع تلاش کروں گا، کھلاڑیوں کو کچھ عرصے سے مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے، اب فیملی کی سپورٹ کے لیے دوسرے راستے دیکھنے ہیں۔

عماد بٹ نے یہ بھی کہا کہ میں نے بین الاقوامی کمٹمنٹس کی ہیں، اب میں انہیں پورا کروں گا۔

استفعے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا: مبشر علی

دوسری جانب مبشر علی کا کہنا ہے کہ میں فوری طور پر پاکستان ٹیم سے استعفیٰ دے رہا ہوں، فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے،  2017ء سے قومی ٹیم کی طرف سے کھیلنا اعزاز ہے۔

مبشر علی نے مزید کہا کہ فیصلے کی وجہ فیملی اور اپنے مستقبل کی طرف دیکھنا ہے، مالی طور سیکیورٹی چاہیے جو موجودہ حالات میں ممکن نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بیرونِ ملک سے کئی آفرز ملتی رہیں، مگر ملک کو ترجیح دی، لیکن حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اب میں اور میری فیملی پہلی ترجیح ہیں اور صورتِ حال بدل چکی ہے۔

دوسری جانب قومی کھلاڑیوں نے اذلان شاہ کپ کے لیے لگائے جانے والے کیمپ کے لیے آج کراچی میں رپورٹ کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق معین شکیل سمیت دیگر کھلاڑیوں کی بھی کیمپ میں عدم شرکت کا امکان ہے۔

کھلاڑی کا کہنا ہے کہ ہاکی کی بدولت سب کچھ ملا، اب معاشی مشکلات بڑھ گئی ہیں، دیگر آپشنز دیکھنا چاہتے ہیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید