افسر نے ایک لمحے کے لئے سر جھکایا ، کچھ سوچا اور پھر چہرہ اوپر کرکے بولا، ’’سر!میری سروس تیس سال ہو گئی ہے میں انتہائی ذمہ دار عہدوں پر رہا ہوں، اب میری ملازمت کے آخری برس گزر رہے ہیں، گزرے ہوئے تیس برسوں میں میرے مشاہدے میں ایک ہی بات آئی ہے کہ پاکستان میں جس کے پاس پیسہ ہے، وہ ہار نہیں سکتا جس کے پاس طاقت ہے جیت اسی کی ہے اور جس کے تعلقات ہیں آپ اسے قابو نہیں کر سکتے۔‘‘ افسر خاموش ہوا تو میں نے عرض کیا کہ قانون بھی تو کوئی چیز ہے، اخلاقیات بھی تو کسی چیز کا نام ہے، ضمیر بھی تو ہوتا ہے میری بات جاری تھی کہ افسر چونک کر بولا ’’سر !ایسا نہیں جس کے پاس پیسہ، طاقت اور تعلقات ہوں اس کے سامنے قانون کی کوئی حیثیت نہیں، اب آ جائیے اخلاقیات کی طرف جو شخص پیسہ دے سکتا ہے اس کا اخلاقیات سے کیا تعلق،وہ اخلاقیات پر مٹی ڈال کر سودے بازی کی وادی میں اترتا ہے ، پیسہ چلاتے وقت اسے یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ اس پر بانیٔ پاکستان کی تصویر بنی ہے۔یہاں تو لوگ کہتے ہیں فائلوں کو پہیے لگا دیئے جائیں تو کام نہیں رُکتے اور یہ سچ ہے واقعی پیسہ لگانے والوں کے کام نہیں رُکتے ، رہ گیا ضمیر تو اگر یہاں لوگوں کے ضمیر زندہ ہوتے تو یہ تماشے لگتے، یہاں اس طرح عزتیں نیلام ہوتیں، یہاں اس طرح بولیاں لگتیں یہاں ہر ایک کو کچل دینے کا رواج ہوتا؟یہاں مظلوم پیاسے پرندوں کی طرح انصاف کے لئے نہ ترستے، یہاں پیسے سے سب کچھ خرید لیا جاتا ہے، طاقت سے زبانوں پر تالے لگا دیئے جاتے، انصاف کے متلاشیوں کو طاقت کے بل بوتے پر چپ کروا دیا جاتا ہے اور اگر کوئی پھر بھی بولنے کی جسارت کرے تو اسے قبرستانوں میں خاک کا رزق بنا دیا جاتا ہے ۔یہاں تعلقات سب کو رام کر دیتے ہیں تعلقات بند دروازے کھول دیتے ہیں، ایسے ماحول میں قانون کا سوال بالکل عجیب بن کے رہ جاتا ہے آپ کو اندازہ نہیں یہاں دولت کی دیوی کی کس قدر پرستش ہوتی ہے۔ یہاں کے مذہبی طبقات نے بھی اپنے اپنے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں اس کا مطلب ہے کہ یہاں کی منڈی میں ہر ایک کی قیمت ہے لوگوں نے اپنا سب کچھ دولت ہی کو سمجھ رکھا ہے‘‘۔
افسر خاموش ہوا تو میں نے دولت کی دیوی کی اہمیت کی وضاحت پوچھی۔ اب تو افسر پھٹ پڑا کہنے لگا’’اگر یہاں دولت کی دیوی کی پوجا نہ ہوتی تو کیا منشیات کا دھندہ ہوتا، اس دھندے کے پیچھے یہاں کے طاقتور لوگ ہوتے، آپ کو کیا پتہ یہاں کے کتنے ممبران اسمبلی ایسے لوگوں پر ہاتھ رکھتے ہیں جو منشیات کا دھندہ کرتے ہیں ،منشیات کی دنیا طاقتور لوگوں کے باعث ہی تو آباد ہے، یہاں اگردولت کی دیوی سے پیار نہ ہوتا تو کوئی کسی کے پلاٹ پر قبضہ کرتا، کبھی تلاش کریں ان قبضہ گروپوں کے پیچھے کون ہیں، ان کے مراسم کہاں کہاں ہیں اور یہ لوگ قبضہ کرتے وقت قبرستانوں کو بھی نہیں بخشتے۔یہاں کے ہسپتال اور تعلیمی ادارے پیسہ بنانے کی مشینیں بن چکے ہیں، یہاں کی جیلوں میں صرف غریب آدمی پڑے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کوئی پیسے والا، کوئی طاقتور یا کوئی تعلقات والا کہیں جیلوں میں پڑا ہے۔ یہاں ہر طرف لوٹ مار کا بازار ہے اور یاد رکھیئے کہ لوٹ مار دولت کے حصول کے لئے کی جاتی ہے،یہاں قاتل دندناتے پھر رہے ہیں اور مظلوموں کے ورثا کی زندگیاں سسکیوں میں گزر رہی ہیں، اس اندھیر نگری کے ہر موڑ پر کوئی طاقتور، کوئی پیسے والا یا مراسم والا کھڑا ہے، عجیب دکھ بھری کہانی ہے، کہاں تک سنو گے ؟‘‘
یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں آپ نے حالات کی تصویر کشی ضرور کی ہے مگر آپ کی بند مٹھی میں سے کوئی مثال تو سامنے آنہیں سکی۔میری اس بات پر افسر اور جذباتی ہو گیا، کہنے لگا ’’ہزاروں مثالیں ہیں ماضی کو چھوڑ دیجئے ، میں حالیہ چند سال کی مثالیں دیتا ہوں اور ان مقدمات کی مثالیں دیتا ہوں جو مشہور ہوئے، ہزاروں گمنام مقدمات کی مثالیں دینے کا کوئی فائدہ نہیں ،کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ کس طرح شاہ زیب کو قتل کیا گیا اور پھر مقتول کے خاندان نے کیسے جتوئی خاندان کو معاف کر دیا، شاہ رخ جتوئی نے جو دن گرفتاری میں بھی دیکھے تو پورے نظام نے اس کا ساتھ دیا ،آپ کی نظروں کے سامنے ناظم جوکھیو کے خاندان نے پیپلز پارٹی کے ایک ایم این اے کو قتل معاف کر دیا، اسی طرح کوئٹہ کے ٹریفک کانسٹیبل کے خاندان نے اچکزئی کو معاف کردیا، ان تمام معافیوں کے پیچھے کہیں طاقت بول رہی ہے تو کہیں پیسہ، سرکاری ملازمین بھی کیا کریں آپ نے دیکھا نہیں کہ ایک ماڈل کو پکڑنے والا انسپکٹر منوں مٹی تلے چلا گیا۔کیا آپ کو یاد نہیں کہ ایف آئی اے کے ایک ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان موت کی وادی میں سو گئے اور ملزمان بڑے عہدوں پر پہنچ گئے ،یہاں پاپڑ والے اور چپراسی مر جاتے ہیں مگر لوٹنے والے سلامت رہتے ہیں ۔ سانحہ ماڈل ٹائون میں آخرکسی نے تو گولیاں چلائی تھیں؟ کوئی تو قاتل ہے مگر مقتولین کے ورثا انصاف کے دروازے کی طرف آس لگائے دیکھ رہے ہیں، اسی آس میں کئی برس بیت چکے ہیں پھر آپ کو یہ بھی پتہ ہے کہ کتنے پاکستانیوں کی جائیدادیں بیرونی دنیا میں ملکی دولت سے بن گئیں؟اسی لئے میں کہتا ہوں کہ پیسہ، طاقت اور تعلقات سب کو رگڑ کے رکھ دیتے ہیں۔‘‘
افسر کی بات ختم ہوئی تو مجھے فرحت عباس شاہ کا شعر بہت یاد آیا کہ ؎
یہ جو ہر موڑ پہ آ ملتی ہے مجھ سے فرحت
بدنصیبی بھی کہیں میری دیوانی تو نہیں
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس
ایپ رائےدیں00923004647998)