• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بنیادی غذائی و اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس اور ڈیوٹیز کی وصولی جاری، دستاویز

بنیادی غذائی اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس اور ڈیوٹیز کی وصولی جاری ہے۔ 

اس سلسلے میں موصول دستاویز کے مطابق سفید کرسٹلائن چینی پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور 4 فیصد اضافی ڈیوٹی وصولی نافذ کردی گئی ہے۔ 

دستاویز کے مطابق ویجیٹبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی اور چینی پر 18 فیصد سیلز ٹیکس نافذ ہے جبکہ خشک دودھ، تیار شدہ خوراک، بجلی، گیس پر بھی 18 فیصدسیلز ٹیکس لاگو ہے۔

مختلف اقسام کی ادویات پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس لیا جارہا ہے۔ چکن پر 20 فیصد کسٹمز، 4 فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی نافذ ہے۔ انڈوں پر 3 فیصد سے لے کر 16 فیصد تک کسٹمز ڈیوٹی وصولی جاری ہے۔ انڈوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی ان ٹیکسز کے علاوہ ہے۔

دستاویز کے مطابق آلو پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی، ٹماٹر پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ہے جبکہ پیاز پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی، گندم پر 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی لی جارہی ہے۔

چاول پر 10 فیصد، گندم کے آٹے پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی نافذ ہے جبکہ خام سویابین آئل پر ساڑھے 10 ہزار روپے فی میٹرک ٹن کسٹمز ڈیوٹی نافذ ہے۔ سویا بین پر 2 فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی لگائی گئی ہے۔

ویجیٹیبل آئل پر 10 ہزار 800 روپے فی میٹرک ٹن کسٹمز ڈیوٹی، 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے۔ خام کوکنگ آئل پر 8000 روپے فی میٹرک ٹن کسٹمز ڈیوٹی لاگو ہے، خام کوکنگ آئل پر 2 فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی نافذ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے بجٹ میں ان ٹیکسز میں کمی ہوگی یا نہیں، اس سلسلے میں حکومت فیصلہ نہ کرسکی۔

قومی خبریں سے مزید