دنیا بھر میں روزانہ لاکھوں افراد ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے ہیں۔ جنہیں سرحدی گزرگاہوں پر طویل قطاروں، سخت سیکیورٹی چیکنگ اور امیگریشن کے پیچیدہ مراحل اور گھنٹوں انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے خصوصاً ایسے مقامات پر جہاں روزانہ ہزاروں افراد ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخل ہوتے ہیں۔
دنیا کے کئی مصروف بارڈرز پر بڑھتی ہوئی آبادی، تجارت اور سفری ضروریات کے باعث روایتی سرحدی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے جس کے باعث جدید اور تیز رفتار سفری حل کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ خصوصاً امریکہ۔میکسیکو بارڈر پر امیگریشن کے دوران لمبی قطاریں اور انتظار عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج تصور کیا جاتا ہے۔
اسی مسئلے کے حل کے لیے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر ایک منفرد اور جدید منصوبہ کراس بارڈر ایکسپریس (سی بی ایکس) کے نام سے متعارف کروایا گیا ہے جو سرحدی سفر کو تیز اور آسان بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
کراس بارڈر ایکسپریس (سی بی ایکس) ایک خصوصی پیدل چلنے والا بند پل اور ٹرمینل سسٹم ہے جو سان ڈیاگو کیلیفورنیا (امریکہ) کو براہ راست تیخوانا انٹرنیشنل ایئرپورٹ (Tijuana International Airport – TIJ) میکسیکو سے جوڑتا ہے جس سے میکسیکو اور جنوبی کیلیفورنیا کے درمیان سفر تیز اور آسان ہو جاتا ہے اور مسافر سرحد پر لگنے والی لمبی قطاروں سے بھی بچ جاتے ہیں۔
یہ کوئی الگ ایئرپورٹ نہیں بلکہ ایک خصوصی راستہ ہے جس کے ذریعے مسافر عام بارڈر ٹریفک سے ہٹ کر براہ راست ایئرپورٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ پل تقریباً 390 فٹ طویل ہے جو امریکی سرحد سے سیدھا تیخوانا ایئرپورٹ کے اندر تک جاتا ہے۔
اس نظام کے تحت مسافر سان ڈیاگو کی طرف واقع سی بی ایکس ٹرمینل پر پہنچتے ہیں جہاں وہ اپنا پاسپورٹ، بورڈنگ پاس اور سی بی ایکس ٹکٹ دکھا کر ابتدائی کارروائی مکمل کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ امریکی امیگریشن اور سیکیورٹی چیک سے گزرتے ہوئے پیدل پل عبور کر کے میکسیکو کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔ وہاں میکسیکن امیگریشن اور ایئرپورٹ سیکیورٹی کے مراحل مکمل کر کے اپنی پرواز کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔
واپسی کے سفر میں مسافر تیخوانا ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد اسی پل کے ذریعے امریکی ٹرمینل میں داخل ہوتے ہیں۔ امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن سے گزرتے ہیں اور سان ڈیاگو کی طرف باہر نکل آتے ہیں۔ سی بی ایکس کے ذریعے مسافروں کو بارڈر پر گھنٹوں انتظار سے نجات ملتی ہے اور وہ عام حالات میں چند منٹ سے ایک گھنٹے کے اندر سرحد عبور کر لیتے ہیں۔
اس سہولت نے خاص طور پر جنوبی کیلیفورنیا کے رہائشیوں کے لیے بین الاقوامی سفر کو زیادہ آسان اور سستا بنا دیا ہے کیونکہ وہ تیخوانا ایئرپورٹ سے لاطینی امریکہ اور میکسیکو کے مختلف شہروں کے لیے نسبتاً کم قیمت پر پروازیں حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ نظام دونوں ممالک کے درمیان سفر کو ایک کنٹرولڈ اور منظم طریقے سے ممکن بناتا ہے جس میں سیکیورٹی اور امیگریشن کے تمام تقاضے مکمل کیے جاتے ہیں۔
اس منصوبے کی تعمیر کا آغاز 2013 اور 2014 کے دوران ہوا جبکہ امریکی جانب اس کا بنیادی ڈھانچہ جون 2014 میں مکمل کیا گیا۔ اسے باقاعدہ طور پر 9 دسمبر 2015 کو مسافروں کے لیے کھولا گیا۔
بعدازاں یہ منصوبہ تیزی سے مقبول ہوا۔ یہ براہ راست ایئر پورٹ سے ایئر پورٹ کا کنکشن ہے جس کی وجہ سے مصروف زمینی راستوں سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
سال 2025 تک اندازاً 2 کروڑ سے زائد افراد سی بی ایکس کے ذریعے سفر کر چکے ہیں جبکہ ہر سال اس کے استعمال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ سان ڈیاگو اور تیخوانا بارڈر دنیا کے مصروف ترین بارڈرز میں سے ایک ہے جہاں طویل قطاریں اور انتظار معمول کی بات ہے۔
اس کے علاوہ جنوبی کیلیفورنیا سے لاطینی امریکہ جانے والے مسافروں کے لیے سستے اور متبادل سفری راستوں کی بھی ضرورت تھی۔ سی بی ایکس نے ان دونوں مسائل کا حل فراہم کیا اور مسافروں کو ایک تیز، محفوظ اور آسان سفری راستہ دیا۔
یہ نظام ناصرف سفری سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیتا ہے۔ تیخوانا ایئرپورٹ پر مسافروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ سان ڈیاگو اور تیخوانا کے درمیان معاشی اور سفری روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ سی بی ایکس استعمال کرنے کے لیے مسافروں کو فلائٹ ٹکٹ کے ساتھ ایک اضافی سی بی ایکس ٹکٹ فیس بھی ادا کرنا ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک خصوصی اور کنٹرولڈ کراسنگ سہولت ہے۔
عالمی سطح پر سی بی ایکس کو ایک منفرد اور جدید بارڈر کراسنگ ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
سی بی ایکس کے ڈائریکٹر آف پبلک ریلیشنز اینڈ پبلک افیرز یوان کارلوس ریواس کے مطابق اس وقت سالانہ 40 لاکھ مسافر اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور سال 2036 تک ہمارا ہدف سالانہ 80 لاکھ مسافروں کا ہے جو اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ تیخوانا ایئرپورٹ پر مسافروں کی تعداد میں ہر سال اوسطاً 14 فیصد اضافہ ہوا ہے جو ایک بڑا اضافہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون میں امریکہ اور میکسیکو میں ہونے والے فٹ بال ورلڈکپ کے دوران اس تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔
یہ منصوبہ بہت سے ملکوں کے لیے بھی ایک ماڈل ہے، خاص طور پر سرحد کے دونوں جانب رہنے والے شہریوں کے لیے اس طرح کے منصوبے ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں اور ان کا قیمتی وقت بھی بچتا ہے۔ اگر سیاسی اور سفارتی حالات سازگار ہوں تو دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اسی طرز کے منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔