• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیس نے حراست میں لیا اور فلائٹ جانے پر چھوڑ دیا، اسد قیصر

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اپوزیشن رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پولیس نے مجھے حراست میں لیا اور فلائٹ جانے کے بعد چھوڑ دیا۔

جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران اسد قیصر نے کہا کہ صرف میری وجہ سے پوری فلائٹ متاثر کی گئی اور لوگوں کو تکلیف دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے کس قانون کے تحت مجھے روکا؟ پولیس افسران میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ کو جانے کی اجازت نہیں آپ تھانے چلیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ پولیس نے مجھے 40 منٹ تک اپنی حراست میں رکھا اور فلائٹ جانے کے بعد چھوڑدیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی بھی اپنے آئینی اور قانونی حق سے نہیں روک سکتا، ایسے الیکشن کو کون مانے گا؟ ایسے الیکشن سے بہتر ہے کہ سلیکشن کرلیں۔

اسد قیصر نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے کہ تمام جماعتوں کو لیول پلینگ فیلڈ دے، سابق اسپیکر اور رکن قومی اسمبلی ہوں، اس معاملے کو ایوان میں اٹھاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سے بجٹ پاس نہیں ہوگا، ہم حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے، ہماری بھرپور تیاری ہے، جمہوریت پر یقین رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملانا ہے، پاکستان میں نیا میثاق جمہوریت ہونا چاہیے۔

قومی خبریں سے مزید