• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر ہم کرکٹ میں بھی برابری پر آسکتے ہیں

چیئرمین پی سی بی رمیز راجا
چیئرمین پی سی بی رمیز راجا

پاکستانی کرکٹ ٹیم اس وقت آسٹریلیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مصروف ہےاور ہرکوئی پاکستانی ٹیم اور اس کے کھلاڑیوں کے بارے میں بحث کررہا ہے۔یہی کرکٹ کی مقبولیت ہے کہ ہر آفس ،ہرمحفل اور ہر گھر میں کرکٹ کی باتیں ہوتی ہیں۔ ورلڈ کپ کے آغاز پر پاکستان اور بھارت میچ کے بارے میں میڈیا نے ایک ہفتہ بہت تذکرہ کیا۔ میچ کے بعد پاکستان میں سوگ کی کیفیت رہی جبکہ بھارت میں جشن منایا گیا۔

ویرات کوہلی نے 82 رنز کی ناقابل شکست باری کھیلی اور ٹیم کو آخری گیند پر چار وکٹ کی جیت سے ہمکنار کرایا۔بھارت کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے 160 رنز کا ہدف دیا۔ارشدیپ اور پانڈیا کی تین، تین وکٹوں کے باوجود افتخار احمد اور شان مسعود کی نصف سنچریوں نے پاکستانی بیٹنگ کا سہارا دیا۔ سنسنی خیز میچ کو شائقین مدتوں یا د رکھیں گے لیکن پاک بھارت میچ سے قبل بھارتی بورڈ کے سیکریٹری اور ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ کے بیان پر پاکستان میں شائقین شدید ناراض ہیں انہوں نے دعوی کیا کہ اگلے سال پاکستان میں ایشیا کپ کھیلنے بھارتی ٹیم نہیں آئے گی۔ایشیا کپ نیوٹرل وینیو پر ہوگا۔بظاہر جے شاہ کے بیان سے بی جے پی کی سیاست کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سلسلے میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے جس سے پاکستانی شائقین خوش ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی تناؤ کی وجہ سے دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان گذشتہ کئی برسوں سے دوطرفہ کوئی سیریز نہیں ہو رہی اور دونوں ممالک صرف ایشیا کپ اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہیں۔ گذشتہ ماہ کھیلے گئے ایشیا کپ میں دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کے خلاف دو میچ کھیلے تھے جبکہ آسٹریلیا میں جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دونوں ممالک 23 اکتوبر کو میلبورن میں مدمقابل ہوئیں۔

بھارت نے 2008 کے ایشیا کپ کے بعد سے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ پاکستانی ٹیم آخری بار دو طرفہ سیریز کے لیے 2012 میں وائٹ بال سیریز کھیلنے بھارت آئی تھی۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس جانب اشارہ دیا ہے لیکن شائقین بھی یہی چاہتے ہیں کہ اگر بھارت ایشیا کپ کے لیے نہیں آ رہا تو پاکستان کو بھی کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہیں جانا چاہیے۔ دونوں ٹورنامنٹ غیر جانبدار مقامات پر منعقد ہونے چاہییں۔

پاکستان ٹیسٹ والا بڑا ملک ہے اس لئے ایشین کرکٹ کونسل اور انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کو پاکستان کے ساتھ مساوی سلوک کرنا ہوگا۔ کرکٹ بورڈ نے ایشیئن کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ کے ایشیا کپ کو پاکستان سے منتقل کرنے کے بیان کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان سے 2023 میں انڈیا میں شیڈول ورلڈکپ اور 2024 سے 2031 کے دوران بھارت میں شیڈول متعدد کرکٹ ایونٹس میں پاکستان کی شرکت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ترجمان پی سی بی کا کہنا ہے کہ جے شاہ کی جانب سے سوچے سمجھے بغیر دیے گئے اس بیان کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ایشیئن کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ
ایشیئن کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ

جے شاہ نے کہا تھا کہ انڈیا ایشیا کپ غیر جانبدار مقام پر کھیلے گا۔ واضح رہے کہ طے شدہ شیڈول کے مطابق اگلا ایشیا کپ پاکستان میں ہونا ہے اور یہ فیصلہ ایشیئن کرکٹ کونسل (اے سی سی) کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے کیا تھا۔ جے شاہ ایشیئن کرکٹ کونسل کے بھی صدر بھی ہیں۔ بی سی سی آئی کی سالانہ جنرل میٹنگ میں دوسری مدت کے لیے سیکریٹری منتخب کیا گيا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ بیان ایشیئن کرکٹ کونسل یا پاکستان کرکٹ بورڈ کی مشاورت کے بغیر دیا گیا ہے۔ 

شیڈول ایشیا کپ کی پاکستان سے منتقلی کا بیان آئی سی سی اور اے سی سی کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ ایشیا کپ پاکستان میں ہوگا اور اگر پاکستان سے باہر ہوگا تو پاکستانی ٹیم اس میں شرکت نہیں کرے گی ۔ٹورنامنٹ نیوٹرل وینیو پر ہوا توپی سی بی ، ایشین کرکٹ کونسل سے الگ ہوجائے گا۔پاکستان کے شرکت نہ کرنے پر ایشین کرکٹ کونسل کو ایشیا کپ سے75فیصد کمرشل حقوق سے محروم ہونا پڑے گا۔ 2023میں بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شرکت کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو حکومت کی اجازت درکار ہوگی۔

اگر حکومت پاکستان ،پاکستانی ٹیم کو بھارت جانے کی اجازت نہیں دیتی تو آئی سی سی پاکستان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کرسکے گا۔ کسی کے پاس اختیار نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے بارے میں فیصلہ کرے۔اگر ایک بار پاکستان میں ہونے والا ٹورنامنٹ بیرون ملک منتقل ہوگیا تو پاکستان کرکٹ بورڈ2016 سے انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کی جو کوششیں کررہا ہے اس کو دھچکا لگے گا۔ پاکستان کا ایونٹ پاکستان سے باہر جانے کا مطلب یہی ہے کہ پاکستان میںا نٹر نیشنل ٹیموں کی آمد پر پھر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی کوئی مسلہ نہیں ہےاگر بھارت کو پاکستان میں سیکیورٹی خدشات ہیں تو وہ اپنے اطمینان کے لئے سیکیورٹی کنسلٹنٹ کو پاکستان بھیج سکتے ہیں۔

گذشتہ چند سالوں میں آسٹریلیا، انگلینڈ، ورلڈ الیون سمیت تمام ٹیمیں پاکستان آچکی ہیں اور پی ایس ایل کے بعد اب جونیئرلیگ کے میچ بھی پاکستان میں کامیابی سے ختم ہوئے۔آئر لینڈ کی خواتین ٹیم بھی پاکستان آنے والی ہے۔رمیز راجا کو ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس بلانے کے لئے فوری ایک اور خط لکھنا چاہیے کیوں کہ پاکستان کی سالمیت پر کوئی سودے بازی برداشت نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کی کرکٹ13سال سے بھارت کے بغیر چل رہی ہے اور آئندہ اس سے بھی بہتر چلے گی۔بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر ہی ہم کرکٹ میں بھی برابری پر آسکتے ہیں۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید