سالِ گزشتہ بھی دنیا بھر میں کھیل کے میدانوں میں بڑے بڑے ایونٹس منعقد ہوئے، جن میں کرکٹ، فٹ بال، ٹینس، ہاکی اور کامن ویلتھ گیمز سمیت کھیلوں کے کئی مقابلے شامل تھے۔ ان مقابلوں میں کھلاڑیوں نے کیا کیا جوہر دکھائے، احوال پیشِ خدمت ہے۔ تو آئیے، سب سے پہلے چلتے ہیں، مقبول ِعام کھیل کرکٹ کی طرف۔ سالِ رفتہ پاکستان نے29سال بعد آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کی۔
بعدازاں، ایشیا کپ کرکٹ بھی کھیلا گیا، لیکن بھارت کی ازلی نفرت اور ڈھٹائی نے کھیل کو بھی سیاست سے داغ دار کردیا۔ پہلے تو چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے پاکستان آنے سے انکار کیا، پھر متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں وہ تماشا کیا کہ جس کی کھیل کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
اگرچہ بھارتی ٹیم ایونٹ جیت گئی، لیکن اس دوران پاکستان سے ہونے والے ہر میچ میں بھارتی کپتان اور ٹیم کے طرزِ عمل سے دنیا نے جنگ کے میدان میں گرائے گئے بھارتی طیاروں کی راکھ اُڑتی دیکھی۔ کھیل، حریفوں کے درمیان محبّت بڑھانے کا سبب بنتا ہے، مگر ایشیا کپ میں بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کی رُوح بھی مسخ ہوگئی۔
بہرحال، 2025ءپاکستان میں کرکٹ کے لیے بہت اہم اور یادگار ثابت ہوا۔1996ء کے بعد پہلی مرتبہ انٹرنیشنل کرکٹ کائونسل کا کوئی بڑا ٹورنامنٹ پاکستان میں منعقد ہوا۔ میچز، کراچی، لاہور اور راول پنڈی میں کھیلے گئے، لیکن بھارتی ٹیم کے میچز دبئی میں ہوئے۔ پی سی بی کی میزبانی میں چیمپئنز ٹرافی کا آغاز 19فروری کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ سے نیشنل اسٹیڈیم،کراچی میں ہوا۔
گو کہ ایونٹ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی مایوس کُن رہی، نیوزی لینڈ نے 60رنز سے ہرایا، پھر بھارت نے دبئی میں شکست دی، جب کہ بنگلادیش کے خلاف راول پنڈی میں ہونے والا میچ بارش کے باعث نہ ہوسکا۔ ایونٹ میں شریک سات ٹیموں نے تو اپنے میچز مختلف شہروں میں کھیلے، لیکن بھارت نے چیمپئنز ٹرافی کے گروپ میچزکے علاوہ سیمی فائنل اور فائنل بھی دبئی میں کھیلا۔ ایونٹ میں آسٹریلیا، بھارت،نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا نے سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔
دبئی میں پہلے سیمی فائنل میں بھارت نے آسٹریلیا کو چار وکٹس سے ہرا کر فائنل میں جگہ بنائی ۔ لاہور میں دوسرے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقا کو پچاس رنز سے ہرا کر فائنل کھیلنے کا عزاز حاصل کیا، لیکن فائنل میں کیوی ٹیم بھارت کے خلاف اچھا کھیل پیش نہ کر سکی ،سات وکٹ پر251رنز بنائے، جو بھارتی ٹیم نے چھے وکٹ پر بنا کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
ایک بڑا ایونٹ ایشین کرکٹ کائونسل کے تحت ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی8سے28ستمبر، متحدہ عرب امارات میں کھیلا گیا۔آٹھ ٹیمز کے ایونٹ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمزکا فائنل سمیت تین مرتبہ ٹکراؤ ہوا، تینوں میچز میں بھارت کوکام یابی ملی، لیکن بھارتیوں کے طرزِ عمل سے ’’جینٹل مینز گیم‘‘ سے اسپورٹس مین اسپرٹ ختم ہوتی نظر آئی۔
پہلے تو پاک، بھارت میچ کے ٹاس کے وقت کپتانوں کے ہاتھ ملانے کی روایت کو بھارتی کپتان نے زِک پہنچائی اور پھر میچ کے اختتام پر دونوں ٹیمز کا میدان میں آکر ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا اور جیتنے والوں کو مبارک باد دینا جیسی خوب صورت روایات بھی بھارتی ہٹ دھرمی کی نذر ہو گئیں ۔ مزید برآں،بھارتی ٹیم تمام حدیں اُس وقت پارکرگئیں، جب فائنل جیتنے کے بعد ایشین کرکٹ کائونسل کے صدر، محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے میدان میں آنے سے انکار کردیا۔
اختتامی تقریب کےلیے تقریباً دو گھنٹے تک دبئی اسٹیڈیم میں بھارتی ٹیم کا انتظار ہوتا رہا ، لیکن وہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتی رہی۔ بالآخر ایشیا کپ کی ٹرافی واپس ایشین کرکٹ کائونسل کے دفتر پہنچا دی گئی اور جیت کے باوجود بھارتی ٹیم خالی ہاتھ وطن لوٹی۔ پھر چند روز بعد بھارتیوں کو ٹرافی کی یاد ستانے لگی، تو بھارتی کرکٹ بورڈ نے اے سی سی سے ٹرافی کا تقاضا کیا، جس پر انہیں اے سی سی کی جانب سے اصولی جواب دیا گیا کہ فاتح ٹیم کے کپتان یا پلیئر اے سی سی کے دفتر خودآئیں اور اپنی جیتی ہوئی ٹرافی لے جائیں ۔
انٹرنیشنل ٹورنامنٹس کے علاوہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے سال بھر میں پانچ ٹیسٹ کھیلے، جن میں اسے دو میں کام یابی، جب کہ تین میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ افسوس کہ ہوم گراؤنڈز پر پہلے ویسٹ انڈیز سے شکست ہوئی۔ اُس کے بعد جنوبی افریقا نے مات دی، دونوں ممالک کے خلاف دو دو ٹیسٹ میچز کی سیریز ایک ایک سے برابر رہی، جب کہ ایک ٹیسٹ سال کے شروع ہی میں جنوبی افریقا میں ہارچکی تھی۔ اگر ون ڈے کرکٹ کی بات کی جائے، تو چیمپئنز ٹرافی کے میچز سمیت گرین شرٹس نے 17میں سے صرف 7میچز جیتے ، دس میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹی ٹوئنٹی میں قومی ٹیم کی کارکردگی بہتر رہی۔مجموعی طور پر 34 میچ کھیلے ، اکیس جیتے اور تیرہ میں شکست ہوئی ۔ کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی پر نظر ڈالیں، تو ٹیسٹ کرکٹ میں شان مسعود رنز بنانے والوں میں ٹاپ پر رہے۔انہوں نے چالیس کی اوسط سے397رنز بنائے۔ رضوان360رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ باؤلر، نعمان علی نے چار ٹیسٹ میں سب سے زیادہ تیس وکٹس حاصل کیں۔ ساجد خان 21وکٹس کے ساتھ دوسرے نمبرپر رہے۔ ون ڈے میں سلمان علی آغا 667رنز بنا کر سب سے آگے رہے، جب کہ رضوان نے 569رنز اسکور کیے۔
یہاں بابر اعظم کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ انہوں نے سری لنکا کے خلاف راول پنڈی میں ہونے والے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں کیریئر کی بیسویں سنچری بنا کر سعید انور کا قومی ریکارڈ برابر کر دیا ۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں 30اگست 2023ء کے بعدبابر اعظم کی یہ پہلی سنچری تھی۔ ابرار احمد اور نسیم شاہ اٹھارہ اٹھارہ وکٹس کے ساتھ نمایاں رہے۔
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں صاحب زادہ فرحان نے سب سے زیادہ 771رنز بنائے، جب کہ محمد نواز 26میچز میں 36وکٹس کے ساتھ سرِفہرست رہے ۔ سالِ رفتہ کے آخر میں آئی سی سی اکیڈمی گراؤنڈ دبئی میں کھیلے گئے انڈر 19ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستانی ٹیم نے شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے روایتی حریف بھارت کو 191 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ اوپنر سمیر منہاس نے172رنز بنائے، جو انڈر19ایشیا کپ فائنل کی تاریخ میں کسی بھی کھلاڑی کا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔
سالِ گزشتہ کرکٹ میں خواتین کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ، ورلڈ کپ کھیلا گیا۔جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا نے کی۔ میگا ایونٹ میں پاکستان سمیت دنیا کی آٹھ بہترین ٹیمز نےحصّہ لیا، پاکستان کے تمام میچز سری لنکا میں ہوئے۔ میگا ایونٹ تک رسائی کےلیے پاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ کوالیفائر ایونٹ میں شان دار پرفارمینس کا مظاہرہ کیا تھا۔ لاہور میں ہونے والے کوالیفائر ایونٹ میں شریک تمام ٹیمز کو شکست دی اور ٹاپ پوزیشن کے ساتھ سری لنکا کا سفر کیا۔
لاہور میں چھے ٹیمز کے ایونٹ میں گرین شرٹس نے بنگلا دیش، ویسٹ انڈیز، اسکاٹ لینڈ، آئرلینڈ اور تھائی لینڈ کو مات دی۔ پاکستان کے ساتھ دوسری ٹیم بنگلادیش نے ورلڈ کپ کےلیے کوالیفائی کیا، لیکن ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں کی پرفارمینس مایوس کُن رہی اور ایک میچ بھی نہ جیت پائیں۔ ورلڈ کپ میں بنگلادیش، بھارت ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا نے گرین شرٹس کو شکست سے دوچار کیا، جب کہ انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے خلاف میچز بارش کے باعث مکمل نہ ہو سکے اور پاکستانی ٹیم ایونٹ میں بغیر کسی کام یابی کے تین پوائنٹس کے ساتھ وطن لوٹ آئی۔
آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقا اور بھارت نے سیمی فائنل کےلیے کوالیفائی کیا، جہاں جنوبی افریقا نے انگلینڈ کو اور بھارت نے آسٹریلیا کو ہرا کر فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا، لیکن پورے ٹورنامنٹ میں شان دار کھیل کا مظاہرہ کرنے والی جنوبی افریقا کی ٹیم، فائنل میں بہتر کھیل پیش نہ کر سکی اور بھارت نے 52رنز سے فتح حاصل کرکے ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
جنوبی افریقا کی ٹیم کو کرکٹ کی دنیا میں ’’چوکر‘‘ کہا جاتا ہے ، اس کی وجہ ان کی بڑے ٹورنامینٹس میں سیمی فائنل یا فائنل تک رسائی کے بعد شکست رہی ہے، لیکن آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں ٹمبا باوما کی قیادت میں جنوبی افریقا کی ٹیم نے ’’چوکرز‘‘ کا داغ بھی دھو ڈالا۔ لارڈز، لندن میں کھیلے گئے ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف جنوبی افریقا نے تاریخی کام یابی حاصل کی ،11سے 14جون تک ہونے والے فائنل میں آسٹریلیا نے282رنز کا ہدف دیا، جسے جنوبی افریقا نے ایڈن مارکرم کی سنچری کی بدولت پانچ وکٹس ہی پر حاصل کر کے ٹیسٹ کے عالمی چیمپئن ہونے کا عزاز اپنے نام کیا ۔ یہ جنوبی افریقا کا مجموعی طور پر دوسرا آئی سی سی ٹائٹل تھا۔
اب کچھ ذکر، پی ایس ایل کا۔ پاکستان سپرلیگ جس کا آغاز 2016ء میں پانچ ٹیمز سے ہوا تھا، ابتدائی دو ایڈیشنز میں اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے درمیان مقابلے ہوئے ، پھر2018ء میں چھٹی ٹیم، ملتان سلطانز شامل کی گئی اب پی ایس ایل کے دس سال مکمل ہونے کے بعد مزید دو ٹیمز کا اضافہ ہو رہا ہے، یعنی پی ایس ایل کا گیارہواں ایڈیشن آٹھ ٹیمز پر مشتمل ہوگا۔ جس میں لاہور قلندرز اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی کہ جس نے25مئی 2025ء کو قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چھے وکٹس سے ہرا کر تیسری مرتبہ پی ایس ایل ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
سالِ گزشتہ، پاکستان کے قومی کھیل، ہاکی کے لیے بہتری کا سال ثابت ہوا۔قومی ٹیم نے ایف آئی ایچ نیشنز کپ میں سلور میڈل حاصل کیا۔ سیمی فائنل میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد فرانس کو پینالٹی شوٹ آئوٹ پر ہرا کر فائنل میں جگہ بنائی۔ اگرچہ فیصلہ کن معرکے میں نیوزی لینڈ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا،لیکن اس ایونٹ کی بدولت قومی ٹیم کے لیے ایف آئی ایچ پرو ہاکی لیگ کی راہ ہم وار ہوئی۔
نیوزی لینڈ نے پروہاکی لیگ سے دست بردارہونے کا اعلان کیا، تو پاکستان کو دوسری پوزیشن کی وجہ سے پرو لیگ کا ٹکٹ مل گیا ۔ہاکی فیڈریشن اور حکومت کے درمیان اخراجات کے معاملے پر مذاکرات کے کئی دَور ہوئے، جس کے بعد حکومت نے پرو لیگ کےلیے پچیس کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کر لی۔
دوسری جانب بھارت میں سنگین خطرات کے باعث پاکستانی ہاکی ٹیم کو دو ایونٹس سے دست بردار ہونا پڑا۔ قومی ٹیم نے ایشیاکپ اور جونیئر ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کی۔ ایشیا کپ سے دست برداری کے باعث پاکستان کے لیے ورلڈ کپ کوالیفائر میں کھیلنا، آزمائش بن گیا، لیکن انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان کو موقع فراہم کیا اور ایشیا کپ میں چھٹے نمبر کی ٹیم بنگلادیش کے خلاف تین میچز کی سیریز کروائی، جسے ورلڈ کپ پری کوالیفائر کا درجہ دیا، جس کے بعد پاکستان نے سیریز تین صفر سے جیت کر ورلڈ کپ کوالیفائنگ رائونڈ میں جگہ بنالی۔
فٹ بال کے حوالے سے بات کی جائے تو پاکستان فٹ بال ٹیم، جس پر گزشتہ سال پابندی اٹھائی گئی تھی، ایک بار پھر انٹرنیشنل ایونٹ میں ایکشن میں دکھائی دی، ایشین کپ کوالیفائر میں پانچ میچز کھیلے۔ شام سے دو میچز میں شکست ہوئی، ایک میچ میانمار نے ہرایا، البتہ افغانستان سے دونوں میچز برابری پر ختم ہوئے۔ فٹ بال ورلڈ کپ کا 23واں ایڈیشن اگلےسال جون، جولائی میں نارتھ امریکا کے تین ممالک میں کھیلاجائے گا۔
فٹ بال کے میگا ایونٹ میں کئی چیزیں پہلی بار ہوں گی، جیسے پہلی مرتبہ تین ممالک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میزبانی کریں گے، پہلی مرتبہ اڑتالیس ٹیمز ورلڈ کپ کھیلیں گی، لیکن اس ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ مرحلے میں بہت بڑا ریکارڈ بن گیا کہ صرف ایک لاکھ 55ہزار آبادی والے ملک، کریکاؤ( Curacao )نے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرلیا۔ اگلے سال ہونے والے ورلڈ کپ میں Cape Verde نے بھی پہلی مرتبہ کوالیفائی کیا ہے۔ ان کے علاوہ ازبکستان اور اردن بھی پہلی بار ورلڈ کپ کھیلیں گے۔
کرکٹ، ہاکی اور فٹ بال کے بعد اب کچھ ذکر دیگر ایونٹس کا،جن میں پاکستان نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔مثلاً پہلی کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپین شپ میں پاکستانی ٹیم نے فتح کے جھنڈے گاڑے اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ مالدیپ میں ہونے والےایونٹ کے فائنل میں قومی ٹیم نے سری لنکا کو شکست دی اور تاریخ رقم کی، پاکستانی ٹیم نے ایشین بیچ ہینڈ بال چیمپئن شپ میں بھی تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اسنوکر میں پاکستانی کھلاڑی چھائے رہے۔
محمد آصف اور اسجد اقبال کی جوڑی نے آئی بی ایس ایف اسنوکر ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا۔ ٹورنامنٹ میں پاکستان نے بھارتی جوڑی کو شکست سے دوچار کیااور فائنل میں ہانگ کانگ کے پیئر کو بھی ہرایا۔انفرادی مقابلوں میں اسجد اقبال نے دوسری پوزیشن حاصل کی، جب کہ محمد آصف نے ورلڈ ماسٹرز اسنوکر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اسلام آباد میں ہونے والی چیف آف ائراسٹاف انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ پاکستان کے نور زمان نے جیت لی، فائنل میں انہوں نے اپنے کزن حمزہ خان کو شکست دی۔ لاہور میں انٹرنیشنل باکسنگ کا میلہ بھی سجا، جس میں 38غیرملکی باکسرز سمیت مجموعی طور پر 44باکسرز شریک ہوئے۔
ایونٹ کا سب سے بڑا مقابلہ پاکستان کے محمد وسیم نے جیتا، جنہوں نے تھائی لینڈ کے باکسر کو ہرا کر گولڈ بینٹم ویٹ ٹائٹل کا کام یابی سے دفاع کیا ۔پاکستان کی والی بال ٹیم نے بحرین میں ہونے والے ایشیا نیشنز کپ میں شرکت کی، ایونٹ میں قومی ٹیم ناقابل شکست رہتے ہونے فائنل میں پہنچی، لیکن ٹائٹل میچ میں میزبان بحرین نے پاکستان کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا اور قومی ٹیم سلور میڈل کی حق دارٹھہری۔
ازبکستان میں ہونے والی سینٹرل ایشین نیشنز لیگ والی بال چیمپین شپ میں پاکستان نے کانسی کا تمغا جیتا اسلامک سالیڈیریٹی گیمز میں پاکستان کے ارشد ندیم نے رنگ جمایا، جیولن تھرو کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ نے 83.04میٹر دور نیزا پھینک کر طلائی تمغا سینے پر سجایا۔ ایونٹ میں یاسر سلطان نے چاندی کا میڈل جیتا، گیمز میں پاکستان کے ایتھلیٹس نے تین کانسی کے تمغے بھی اپنے نام کیے۔
ریسلنگ میں گلزار احمد ، باکسنگ میں فاطمہ زہرہ اور عنایت اللہ نے تمغے اپنے نام کیے، لیکن بد قسمتی سے ورلڈ ایتھیلیٹک چیمپیئن شپ میں پاکستان کے ارشد ندیم کی پرفارمینس مایوس کُن رہی، وہ دسویں نمبر پر رہے۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ سرجری کے بعد یہ ان کا پہلا ایونٹ تھا۔
دنیائے ٹینس میں برسوں تک پاکستان کی پہچان بنے رہنے والے اعصام الحق ریٹائر ہو گئے ،کیرئیر کے آخری ایونٹ میں بھی اعصام الحق ڈبلز کا فائنل کھیلے۔پروفیشنل ٹینس میں اسپین کے کارلوس الکاریز نےسب سے زیادہ آٹھ ٹائٹل جیتے، خواتین میں ارینا سبالینکا چار ٹائٹلز کے ساتھ نمایاں رہیں۔
گرینڈ سلیم ایونٹس کی بات کریں تو آسٹریلین اوپن کا مینز سنگلز یانک سنراور ویمنز ٹائٹل میڈیسن کیئر نے جیتا۔ فرینچ اوپن کارلوس الکاریز، جب کہ ویمنز ٹائٹل کوکوگف کے نام رہا ۔ومبلڈن چیمپئن شپ، مینز سنگلز میں یانک سنر اور ویمنز سنگلزمیں ایگا شواٹک چیمپئن بنے، جب کہ یو ایس اوپن میں کارلوس الکاریز اور ویمنز مین سبالینکا کام یاب رہے۔