موجودہ معاشی و سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعدادکے بیرونِ ملک منتقل ہونے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک طرف امیر اور طبقہ اشرافیہ اپنی جائیدادیں اور اثاثے فروخت کرکے دنیا کے دیگر ممالک میں منتقل ہورہا ہے تو دوسری طرف روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث بہتر مستقبل کی تلاش میں ہنر مند نوجوان بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں اور اس طرح پاکستان کیپٹل ڈرین کے ساتھ ساتھ برین ڈرین کا شکار بھی ہورہا ہے جو یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے اخبارات میں آئے دن ایسے اشتہارات شائع ہورہے ہیں جس میں پاکستانیوں کو بیرون ملک منتقل ہونے کی پرکشش ترغیب دی جارہی ہے کہ وہ بیرون ملک سرمایہ کاری کرکے وہاں کی شہریت یا مستقل رہائش حاصل کرسکتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل تک غیر ملکی شہریت کے حصول کے حوالے سے ترکی سرفہرست رہا جہاں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے سکونت اور کچھ ہی عرصے میں ترکش شہریت کی پیشکش کی گئی تھی جس سے صاحب حیثیت پاکستانیوں نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرکے فائدہ اٹھایا۔ بعد ازاں اس اسکیم کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ترکش حکومت نے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی حد بڑھاکر 4 لاکھ ڈالر کردی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکی کے قانون کے مطابق ترکش شہریت کے حامل افراد دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تاہم اطلاعات ہیں کہ ترک حکومت اب ایسی قانون سازی کررہی ہے جس کے تحت پاکستانیوں کو دہری شہریت رکھنے کی اجازت ہوگی اور وہ بیک وقت ترکی اور پاکستان کی شہریت رکھ سکیں گے۔
دنیا میں شہریت اور رہائش دینے کی پرکشش پیشکش کے حوالے سے یو اے ای حکومت بھی کسی سے پیچھے نہیں اور یو اے ای نے دنیا بھر کے طبقہ اشرافیہ اور امیر طبقے کو راغب کرنے کیلئے نئی اسکیمیں متعارف کرائی ہیں جن کے تحت 2 ملین درہم یا 5.5 لاکھ ڈالر دو سال کیلئے یو اے ای کے کسی بینک میں فکس ڈپازٹ کروانے پر یو اے ای کا 10 سالہ گولڈ ن اقامہ حاصل کرکے اپنی فیملی اور ملازمین کے ساتھ یو اے ای میں رہائش اختیارکی جا سکتی ہے اور یہ اقامہ قابل تجدید ہے۔ اسی طرح یو اے ای کی ایک اور اسکیم کے تحت یو اے ای کی پراپرٹی میں 2 ملین درہم یا 5.5 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری پر 5 سالہ اقامہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ان دونوں اسکیموں سے پاکستان کے طبقہ اشرافیہ اور امیر طبقے نے بھرپور فائدہ اٹھایا ۔
موجودہ حالات میں طبقہ اشرافیہ کے ساتھ ساتھ ملک کا تعلیم یافتہ نوجوان جس میں اکثریت آئی ٹی کے ہنرمند افراد، ڈاکٹرز، انجینئرز، ٹیکنیشن اور نرسز شامل ہیں، بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ اور یورپ سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں منتقل ہورہے ہیں جہاں ان شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی ڈیمانڈ ہے اور اس طرح پاکستان سے بڑے پیمانے پر برین ڈرین ہورہا ہے لیکن افسوس کہ حکومت اس اہم مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ پاکستان کے برعکس پڑوسی ملک بھارت کا تعلیم یافتہ طبقہ معاشی خوشحالی اور سیاسی استحکام کے باعث اپنے وطن میں رہنے کو ترجیح دے رہاہے جہاں روزگار کے بہتر مواقع میسر ہیں۔
حکومت کو چاہئے کہ ایسے اقدامات کرے جس سے پاکستانی سرمایہ کاروں اور بزنس مینوں کے ساتھ ساتھ تعلیم یافتہ ہنر مند نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو اور وہ بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے، غیر ملکی شہریت حاصل کرنے اور بہتر مستقبل اور روزگار کی خاطر کینیڈا، آسٹریلیا، یورپ اور دیگر ممالک جانے کے بجائے اپنے ہی ملک میں سرمایہ کاری اور رہائش اختیار کرکے ملکی ترقی میں کردار ادا کریں ۔ اگر حکومت نے اس اہم مسئلے پر توجہ نہ دی اور خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہی تو وہ دن دور نہیں جب ملک کا طبقہ اشرافیہ، امیر لوگ اور تعلیم یافتہ افراد کسی دوسرے ملک منتقل ہوکر اُس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہونگے جبکہ پاکستان برین اور کیپٹل ڈرین ہونے کے باعث ترقی کی دوڑ میں خطے کے دیگر ممالک سے بہت پیچھے رہ جائے گا۔