سندھ کے بعد بلوچستان اسمبلی بھی تحلیل ہوگئی، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
گورنر ملک عبدالولی کاکڑ نے وزیر اعلیٰ میر عبد القدوس بزنجو کی ایڈوائز پر اسمبلی تحلیل کیے جانے کی سمری پر دستخط کیے۔
بلوچستان اسمبلی اپنی پانچ سال کی مدت پوری کرکے تحلیل ہو گئی ساتھ ہی صوبائی کابینہ کے ارکان کی بھی چھٹی ہوگئی۔
نگراں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی تک عبدالقدوس بزنجو وزیر اعلیٰ کے فرائض انجام دیں گے۔
وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے اسلام آباد سے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری منظوری کیلئے گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ کو بھجوائی، جنہوں نے سمری پر دستخط کردیے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی تحلیل اور صوبائی کابینہ ختم کردی گئی۔
12 اگست 2018 کو وجود میں آنے والی بلوچستان کی گیارویں اسمبلی نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی۔
اس سے قبل بلوچستان میں 2003, 2008 , 2013, میں تین اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی ہے، بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ کے اعدادوشمار کے مطابق پانچ برسوں میں ایوان کی کارروائی کے 474روز جاری رہی۔
اس دوران 96 مسودہ قانون اور 198 قراردادیں منظور کیں۔ جن میں 61 سرکاری اور 137پرائیویٹ قرار دادیں شامل ہیں، اسمبلی اجلاسوں میں 521 سوالات ،87 توجہ دلاؤ نوٹسز اور 36 تحریک التوا نمٹائیں۔
2018 کے عام انتخابات کے بعد بلوچستان میں دو وزراء اعلیٰ اور دو ہی اسپیکرز رہے۔ جبکہ ایک رکن اسمبلی سید فضل آغا علالت کے باعث انتقال کرگئے تھے۔
بلوچستان اسمبلی کی تحلیل کے تین روز تک نگراں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کیلئے وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر میں مشاورت ہوگی، اگر اتفاق نہیں ہوا تو یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی اور پھر الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا۔