• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دھمکیاں ملیں یا یہ کچھ بھی کر لیں، کیس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، والدین فاطمہ

رانی پور میں تشدد سے کمسن ملازمہ کی ہلاکت کے کیس میں بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ انہیں ملزمان نے دھمکیاں دی ہیں، لیکن وہ دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔

عدالت کے باہر مقتولہ بچی فاطمہ کے والد ندیم اور والدہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیر اسد شاہ کی حویلی میں بچی فاطمہ کا قتل ظلم ہے، ہمیں بچی کے قتل کا انصاف کھپے، انصاف کھپے، سرعام انصاف کھپے۔

مقتولہ فاطمہ کے والدین نے کہا کہ ہماری بچی بےدردی سے ماری گئی ہے۔ پورا سندھ ہمارا ساتھ دے رہا ہے ہم انصاف لے کر رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انسان دوست وکلاء گھر تعزیت کرنے آئے اور مفت مقدمہ لڑنے کا یقین دلایا، وکلاء نے مفت مقدمہ لڑنے کی یقین دہانی کروائی تو حوصلے بلند ہوئے۔

واضح رہے کہ 14 اگست کو رانی پور کی حویلی میں ملازمہ 10 سالہ بچی کی مبینہ تشدد سے ہلاکت ہوئی تھی۔

جیو نیوز پر معاملہ سامنے آنے کے بعد مرکزی ملزم اسد شاہ کو گرفتار کرلیا گیا تھا، بچی کی موت سے قبل اس کی تڑپنے کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی۔

بچی کی ماں نے ابتدائی بیان دیا تھا کہ بچی کی موت طبعی ہے۔ پولیس نے اسی بیان پر اکتفا کر کے نہ بچی کا میڈیکل کروایا، نہ پوسٹمارٹم کروایا۔ الٹا بچی کو تدفین کےلیے والدین کے حوالے کردیا۔

بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات کی ویڈیوز سامنے آئیں تو پولیس کے اعلیٰ حکام نے نوٹس لیا اور اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) رانی پور کو لاپرواہی پر معطل کردیا گیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید