• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماں باپ غیر مشروط محبت، خلوص، اپنائیت اور کڑی دھوپ میںچھائوں کا استعارہ ہوتے ہیں۔ انسان ہوں یا حیوان والدین سے محبت کی فطری اسیری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ میری طرح کے ایسے لوگ بھی ہونگے جنہوں نے اپنے والدین میں سے باپ یا ماں کو دیکھا تک نہیں ہو تا (میں دو ماہ کا تھا جب میرے والد کی ائیر کریش میںوفات ہوئی) لیکن انکی محبت کے گرفتار پھر بھی ہوتے ہیں۔ میں جب چھوٹا تھا تو میری والدہ مجھے محمد رفیع بٹ کے بارے میں اکثر باتیں بتایا کرتیں۔ ان کے نزدیک رفیع بٹ دنیا کا عظیم ترین انسان تھا (اور تب تک میں سمجھتا تھا کہ وہ ایک روایتی مشرقی بیوی ہونے کے ناطے میرے والد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں)۔ وہ مجھے رفیع بٹ کی کاروباری کامیابیوں اور اوائل عمری میں ذمہ دارانہ حساس کردار کے حوالے سے داستانیں سنایا کرتیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے الگ ریاست کے حصول کی جدوجہد کیلئے اپنا سرمایہ، تعلقات، وقت اور صلاحیتیں وقف کر ڈالیں۔ وہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کو مسلمانوں کا نجات دہندہ سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنا آئیڈیل بھی سمجھتے، ان پر بھرپور اعتماد کرتے اور ان کی ہر طرح سے معاونت کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے۔ دوسری طرف یہی عالم قائدِ اعظم محمد علی جناح کا تھا کہ وہ عمروں کے واضح فرق کے باوجود محمد رفیع بٹ کی ترقی پسند سوچ، کمٹمنٹ، مسلمانوں کیلئے جذبہ ایثار اور کاروباری حکمتِ عملی کے نہ صرف مداح تھے بلکہ مختلف معاملات میں ان سے آرا لیتے اور ان آرا پر عمل بھی کرتے۔ والدہ بتاتیں کہ بہت بڑے بڑے سیاستدان ، کاروباری ، صنعتکار، صحافی اور حکومتی عہدیداران رفیع بٹ سے میل جول رکھتے اور قائدِ اعظم تک رسائی کیلئے رفیع بٹ سے درخواست گزار ہوتے۔ مجھے شعوری منازل طے کرنے تک ماں نے یہی باور کروایا کہ میرے والد کاروباری مجبوریوں کے باعث امریکہ میں مقیم ہیں ۔ میں حیران ہوتا کہ آخر آج تک وہ ہم سے ملنے کیوں نہ آئے ایسی بھی کیا کاروباری مجبوریاں۔ شاید ماں مجھے یتیمی کے دکھ میں مبتلا نہ کرنا چاہتی تھیں جبھی گیارہ سال کی عمر تک مجھ سے یہ حقیقت چھپاتی آئیں۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہاعملی زندگی میں ،میں نے بے شمار کاروباری کامیابیاں سمیٹیں، میں اپنی معاشی حیثیت دیکھتا تو ماں کی باتیں مجھے افسانہ محسوس ہوتیں اور بڑی حد تک میں یہ سمجھتا کہ والدہ محض ایک باوفا بیوی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے میرے والد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں۔ مرحوم عارف نظامی کی ترغیب پر چالیس سال والد سے بے نیاز زندگی گزارنے کے بعد جب میں نے والد کی قائدِ اعظم سمیت اہم شخصیات کیساتھ تصاویر اور خطوط کے متعلق تحقیق شروع کی تو مجھے قومی آرکائیوز سے قائد اور رفیع بٹ کے درمیان ہونے والی خط وکتابت کے کچھ خطوط اورنادر تصاویر میسر آئیں تو میں جو ہمیشہ اپنے والدکی کمی کو کسک کی طرح محسوس کرتا اس کو شدید کرب کے طور پر محسوس کرنے لگا۔ میں نے جب محمد رفیع بٹ کو انتہائی کم عمری میںناقابلِ یقین کامیابیوں پر کامیابیاں سمیٹتے دیکھا تو مجھے اپنی کامیابیاں ہیچ نظر آنے لگیں۔ مجھے تو شاید اس کاروباری مسابقت،چیلنجز اور منفی رویوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن سے نبر د آزما ہوتے ہوئے محمد رفیع بٹ نے صرف 24سال کی عمر میں ہندوستان کی سب سے بڑی آلاتِ جراحی کی صنعت لگائی، 29سال کی عمر میں1936ء میں مسلمانوں کا پہلا بینک قائم کیاجبکہ دوسرا مسلم بینک حبیب بینک تھا جو 1942ء میں قائم ہوا ، نئی صنعتوں کو ہندوستان میں متعارف کروایا اور سب سے بڑھکر جنہوں نے قیامِ پاکستان کیلئے قائدِ اعظم کی رفاقت میں اپنا سب کچھ وقف کر دیا۔ وہ آنسو جوسالوں سے میری آنکھوں میں کہیں منجمد تھے برسنے لگے ۔میں اپنے والد سے محرومی کی اذیت کو اس عمر میں آکر اتنی شدت سے محسوس کر رہا تھا جب اپنی اولاد ہر خوشی اور غم سے بے غرض بنا دیتی ہے۔ مجھے ماں کی کہی ایک ایک بات یاد آنے لگی میں نے دستاویزی ثبوتوں کے آئینے میں والدہ کی باتوں کا موازنہ کیا تو محمد رفیع بٹ کو کہیں عظیم ، فراخ دل ، پیش بین اورقائدِ اعظم کا انتہائی معتمد پایا ۔ پاکستان کے قیام کے لیے رفیع بٹ کی خدمات سامنے آئیں تو مجھے احساسِ طمانیت ہوا۔ وہ احساسِ تفاخر جو مجھے میری کامیابیاں نہ دے سکیں میرے والد کی دریافت نے بخش دیا۔ والد کے متعلق تحقیق کے دوران ہی میری قائدِ اعظم سے آشنائی ہوئی ، انکی شخصیت کا بغور جائزہ لیا تو میں پاکستان کے قیام کے مقاصد اور ضرورت سے آشنا اور پاکستانیت کے گداز میں مبتلا ہوا۔میں ان کی کھوج میں لگا تو کاروبار سے بالکل بے نیاز ہی ہو گیا، کاروباری نقصانات اس کے نتیجے میں ہونا ہی تھے لیکن والد کی دریافت ایسی سرشار ی تھی کہ اس نے مجھے کچھ اور سوچنے ہی نہ دیا۔ میں رفیع بٹ اور قائدِ اعظم کے متعلق کھوج میں لگا رہا۔ ایک مرتبہ سابق وزیرِ اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھ سے سوال کیا کہ بٹ صاحب کبھی آپ کو ایسا لگا کہ آپ کے والد آپ کے ساتھ ہوں تو میں نے محترمہ کو ترنت جواب دیا کہ محترمہ مجھے تو یہ بھی لگتا ہے کہ وہ مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔ محمد رفیع بٹ نے سولہ سال کی عمر میں اپنے والد کی وفات کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھا اور انتہائی قلیل عرصے میں حیران کن منازل طے کیں۔ بد قسمتی سے قائد کی رحلت کے محض دو ماہ بعد رفیع بٹ صرف 39سال کی عمر میں 26نومبر 1948کو کراچی سے لاہور آتے ہوئے فضائی حادثے میں شہید ہوئے۔ میں سوچتا ہوں قدرت کی جانے کیا مصلحت تھی لیکن اگر زندگی انہیں کچھ مہلت اور دے دیتی تو شاید پاکستان کی معاشی حالت سنوارنے میں وہ اپنا کچھ کردار ادا کر پاتے کیونکہ قائدِ اعظم نے انہیں یہ ٹاسک سونپا تھا۔ اگر کوئی مجھ سے میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی پوچھے تو وہ صرف محمد رفیع بٹ کی دریافت ہے جس نے میری شخصیت کو مکمل کر دیا۔

تازہ ترین