• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ بات ہم جانتے ہیں کہ بچوں کو سماجی مہارتیں (سوشل اِسکلز) سیکھانا ایک مشکل ہدف ہے۔ یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اس میں بچوں کی کم عمری سے زیادہ والدین کی اپنے بچوں کے رویہ کے بارے میں خواہشات (کہ انھیں ایک خاص صورتِ حال میں خاص طرح سے ردِ عمل دینا چاہیے وغیرہ) اور تحفظات کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے۔

بطور والدین آپ کے ذہن میں کئی باتیں چل رہی ہوتی ہیں۔ کیا کوئی بچہ آپ کے بچے سے اس کا کھلونا تو نہیں چھین لے گا؟ اس سے پہلے کہ کوئی اور بچہ پسندیدہ ٹرک اُٹھالے، کیا آپ کا بچہ سب سے پہلے اُسے اپنے پاس لے لے گا؟آپ کا بچہ کسی دوسرے بچے کو تین پہیوں والی بائیک سے دھکا دے کر خود بیٹھ جائے گا تو سامنے والے والدین کا کیا ردِ عمل ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ۔

بتانے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ والدین کو ان باتوں پر پریشان ہونے کے بجائے، اپنی اولاد کی بہتر پرورش پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کو یہ سیکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے جذبات کو کس طرح کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔ کسی بھی باہمی تعلق میں جذبات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری اہم ترین بات اپنے بچوں میں ہم احساسی کے جذبات پیدا کرنا ہے۔ تیسری بات یہ سیکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی ضروریات اور جذبات کا اظہار جسمانی طور پر جارح ہوئے بغیر بھی کرسکتے ہیں۔

جب آپ کا بچہ یہ چیزیں سیکھ لے گا، تو یقین کریں یہ چیزیں، تعلیمی اور مالی میدان یا کسی بھی دیگر روایتی کامیابی کے مقابلے میں، اس کو زندگی سے زیادہ مطمئن رہنے اور خوش رکھنے کے لیےزیادہ اہم کردار ادا کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ سماجی سائنسدان، جذباتی ذہانت کو روایتی آئی کیوکے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے ہیں، کیونکہ اپنے جذبات کو اپنی ذہانت کے تابع رکھنے اور خوشگوار باہمی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت رکھنے والے بچے بالآخر اپنی تعلیمی اور عملی زندگی میں زیادہ کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔

ذیل میں کچھ مفید مشورے پیش کیے جارہے ہیں، جو والدین کے ان کے بچوں کی پرورش میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

ہم احساسی کا یقین دِلانا

وہ بچے جو اپنے جذبات کے لیے اپنے والدین، سرپرست اور ساتھ رہنے والے خاندان کے دیگر افراد سے زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں، ان بچوں میں دوسروں کے لیے سب سے پہلے ہم احساسی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کامیابی باہمی تعلقات قائم کرنے میں ہم احساسی کا جذبہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

کھیل کود کے دوران بچوں کے قریب رہیں

کھیل کود کے وقت کئی بچوں پر دیگر بچوں کے ساتھ باہمی بات چیت کے دوران جذبات حاوی ہوجاتے ہیں اور وہ جسمانی جارحیت پر اُتر آتے ہیں۔ اگر ایسے مواقع پر آپ اپنے بچوں کے قریب رہیں گے تو آپ ان کی رہنمائی کرسکتے ہیں، جیسے ’یس بیٹا، اِز دیٹ اوکے وِدھ یو؟ نو؟‘‘جب آپ کے بچے کو احساس ہوگا کہ پسِ پردہ آپ موجود ہیں تو ایسے بچے میں جسمانی طور پر جارحیت اختیار کرنے کی عادت پروان نہیں چڑھے گی۔

بچوں کی باری کا دورانیہ انھیں منتخب کرنے دیں 

عموماً یہ ہوتا ہے کہ بچوں کی باری کا دورانیہ بڑے متعین کرتے ہیں، جس کے باعث بچے کو ڈر لگا رہتا ہے۔ مثلاً اگر وہ کرکٹ کھیل رہے ہیں تو انھیں یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ اب اس سے بلہ چھین کر اگلے بچے کو دے دیا جائے گا۔ دراصل، اس سے بچوں میں دوسرے بچوں سے چیزیں چھیننے کی عادت پیدا ہوتی ہے اور وہ کھلونوں یا کسی بھی چیز پر زیادہ حقِ ملکیت جتلانے لگتے ہیں۔ 

اگر بچے میں آپ نے ہم احساسی کی عادت ڈالی ہوگی تو آپ کا بچہ اپنی مرضی اور تسکین کے مطابق کچھ دیر تک وہ کھلونا استعمال کرے گا اور پھر خوشی خوشی اگلے بچے کے حوالے کردے گا۔ اگر کوئی کھلونا آپ کے بچے کو بہت ہی زیادہ پسند ہے تو پھر اس کے لیے ویسا ایک اور کھلونا لے آئیں۔

شیئرنگ کے لیے دباؤ نہ ڈالیں

دراصل دباؤ ڈالنے سے بچوں میں شیئرنگ کی عادت پروان چڑھنے کے بجائے ضد کی خصلت پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے ۔ اس کے بجائے، بچوں میں اپنی اپنی باری لینے کا تصور پروان چڑھائیں۔ ’’ابھی (بچے کا نام لے کر بتائیں) کی باری ہے، اس کے بعد آپ کا نمبر آئے گا‘‘وغیرہ وغیرہ۔

تعریف کریں اور اس کی وجہ بھی بتائیں 

تحقیق بتاتی ہے کہ جب والدین شیئرنگ پر اپنے بچوں کی تعریف کرتے ہیں تو وہ اپنے چیزیں دوسروں کے ساتھ زیادہ شیئر کرنے لگتے ہیں، لیکن صرف اس وقت جب وہ والدین کے سامنے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک اس تعریف کا مطلب والدین کی توجہ حاصل کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لیکن جب آپ انھیں بتائیں گےکہ، ’’دیکھو بیٹا، وہ بچہ (نام لیں) ٹرین میں اپنی باری لے کر کتنا خوش ہورہا ہے‘۔ اس طرح انھیں احساس ہوگا کہ باری دینے میں بچے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ خوشی کا یہ احساس بچوں میں شیئرنگ اور سخاوت کی خصوصیات پیدا کرے گا۔

خود اعتمادی سیکھائیں

اگر آپ کا بچہ ہر بار اپنا کھلونا کسی اور بچے کو دے دیتا ہے اور پھر اس کے بعد ناخوش معلوم ہوتا ہے، تو پھر اس میں سامنے والے بچے کو ’ناں‘ کہنے کی خود اعتمادی پیدا کریں اور مداخلت کرتے ہوئے کہیں، ’’تم فی الحال یہ کھلونا نہیں دینا چاہتے؟ رائٹ؟‘‘ پھر اپنے بچے سے کہیں کہ اگلی بار کوئی بچہ اس سے یہ کھلونا لینا چاہے تو وہ اسے بتائے، ’’میں ابھی کھیل رہا ہوں اس کھلونے کے ساتھ‘‘۔ جب تک آپ کا بچہ مکمل طور پر بولنا نہ سیکھ لے، گروپ کھیل کے وقت آپ کو اس کی آواز بننا ہے۔

بچوں کو جذبات کی زبان سیکھائیں

جذبات کو نام دینا بچوں کی دماغی کیفیات کو جسمانی کے بجائے زبانی طور پر فروغ دینے کے عمل میں اہمیت کا حامل ہے۔ جیسے چڑیا گھر میں کُتے کے بھونکنے پر آپ کا بچہ خوف کھا کر اُچھل جاتا ہے۔ وہ اپنے خوف کا اظہار جسمانی کیفیت کے ذریعے کرتا ہے۔ لیکن آپ اس کی اس کیفیت کو الفاظ میں ڈھالنے کی کچھ اس طرح کوشش کر سکتے ہیں، ’’کُتے کا بھونکنا کافی خوفناک ہے لیکن آپ دیوار کی اس طرف میرے ساتھ بالکل محفوظ ہیں۔ آپ کو بالکل بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ تاہم اگر بچہ رونے لگے تو ایسے میں آپ اپنے الفاظ بعد کے لیے محفوظ کرلیں اور اسے صرف تسلی دیکر آرام دہ محسوس کرنے کی کوشش کریں۔

پُرسکون رہیں

بچے اپنے جذبا ت پر اسی وقت بہتر طور پر قابو پانا سیکھتے ہیں، جب کسی بھی صورتِ حال میں والدین خود پُرسکون رہتے ہیں۔ بچے جب مشکل صورتِ حال سے دوچار ہوں تو اس وقت والدین کو پریشان ہونے کے بجائے پُرسکون انداز میں انھیں تحفظ کا احساس دلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب آپ پرسکون رہ کر اپنے بچے کو پرسکون بنائیں گے، تبھی بچے آپ سے جذبات پر قابو پانے کا ہنر سیکھیں گے۔ یہ بات ہرگز مت بھولیں کہ وہ بچے ہیں۔