• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذکیہ مشہدی

دانیال جب ناراض ہوتا تو منہ پھُلا کر کونے میں کھڑا ہوجاتا۔ آج کل وہ چھٹیوں میں اپنی دادی کے پاس آیا ہوا تھا۔ برسات کا موسم شروع ہوگیا تھا۔ بادل خوب امنڈ کر آئے پھر بارش ہونے لگی۔ دانیال باہر جاکر بارش میں بھیگنا چاہتا تھا۔ دادی نے منع کردیا۔ موسم کچھ ایسا ہورہا تھا کہ لوگوں کو کھانسی نزلہ ہورہا تھا۔ دادی نے کہا،’’بھیگنے سے بیمار پڑگئے تو چھٹیاں غارت ہوجائیں گی‘‘۔ بس دانیال منہ پھلا کر ایک طرف کھڑا ہوگیا۔

دوپہر کے کھانے کا وقت تھا۔ کھانا میز پرلگ گیا۔ دادی نے آواز لگائی۔ ”آؤ بیٹا دانیال کھانا کھالو۔ دیکھو نسیمہ آپا نے گرم گرم پھولی ہوئی روٹیاں پکائی ہیں۔“

”ایسی گول اور پھولی ہوئی ہیں جیسے دانیال کا منہ۔“ نسیمہ نے انھیں چھیڑا۔

دانیال کو بھوک لگی تھی۔ گرم گرم پھولی پھولی روٹیوں کی بات سن کر وہ غصہ بھول گئے اور ٹیبل پر آگئے۔

”پہلے جاکر ہاتھ دھوئیے۔ دادی نے تنبیہ کی۔ کھانے سے پہلے ہاتھ خوب اچھی طرح دھو لینے چاہئیں۔‘‘ دانیال بھاگ کر واش بیسن پر گیا اور صابن لگا کر ہاتھ اچھی طرح دھوئے، تولیہ سے پونچھ کر واپس آگئے۔ تب نسیمہ نے ان کی پلیٹ میں توے سے اتاری پھولی ہوئی روٹی لاکر رکھی۔ دانیال کی پسند کا انڈے آلو کا سالن بھی تھا۔

”بہت گرم ہے۔“ دانیال نے پھولی ہوئی روٹی میں انگلی ماری۔ بھاپ سے انگلی میں جلن محسوس ہوئی۔ جلدی سے اسے منہ میں ڈال لیا۔ اب روٹی پچک چکی تھی۔

”دادی ،روٹی کیوں پھولتی ہے؟“

”یہ اچھا سوال پوچھا تم نے۔ “ دادی نے کہا ”پہلے کھانا کھالو، پھر بتاتے ہیں۔ “

کھانا کھا لینے کے بعد دادی نے بتایا: ”تمہیں معلوم ہے روٹی عام طور پر گیہوں کے آٹے سے بنتی ہے۔“

”معلوم ہے دادی۔“

” روٹی پکانے سے پہلے آٹے کو گوندھا جاتا ہے۔‘‘

”جی جی“ دانیال نے سر ہلایا۔

”گیہوں میں ایک چیز ہوتی ہے، جسے گلوٹن (Gluten) کہتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا پروٹین ہوتا ہے۔ تم ابھی چوتھے اسٹینڈرڈ میں ہو۔ اگلے سال شاید تمہیں پروٹین کے بارے میں کلاس میں بتایا جائے۔ بہرحال اس پروٹین کی وجہ سے آٹے میں لچک پیدا ہوتی ہے اور وہ کھینچا جاسکتا ہے۔ تم نے نسیمہ آپا کو یا اپنی امی کو روٹی بیلتے دیکھا ہوگا۔ لچک کی وجہ سے ہی روٹی بڑھتی ہے۔ بہت سے لوگ تو بہت بڑی بڑی روٹیاں بنا لیتے ہیں۔“

”آٹے کو لوچ دار بنانے کے علاوہ یہ پروٹین اس میں ایک جال سا بنا دیتا ہے۔ اس کے ننھے ننھے خانوں میں گیس کے بلبلے پھنس جاتے ہیں۔ روٹی جب توے پر ڈالی جاتی ہے تو گرمی سے بھاپ بنتی ہے۔ یہ بھاپ گلوٹین کے ننھے ننھے خانوں کو پھلا کر اوپر کی طرف دھکیلتی ہے اور روٹی پھول جاتی ہے۔“

دانیال نے سر ہلایا۔ جیسے وہ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں۔ ”گرمی سے روٹی کے اندر بھاپ بنتی ہے۔ وہ آٹے میں موجود گلوٹین کے جال کو اوپر کی طرف دھکا دیتی ہے۔ اسی سے روٹی پھول جاتی ہے۔“

”ارے دادی پوریاں بھی تو پھولتی ہیں اور گول گپّے بھی۔“

”وہ بھی اسی اصول کے تحت پھولتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ انھیں گرم تیل سے گرمی ملتی ہے۔ وہ تیل میں تلے جاتے ہیں۔“

”رات کے کھانے میں پوری کھلائیں گی دادی؟“ دانیال نے کہا۔

”ضرور۔ بشرطیکہ تم ساتھ میں ہری سبزی بھی کھاؤ۔ ہری سبزی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اسے کھانے کو کہا جائے تو روٹی کی طرح منہ مت پھلانا۔“ دادی نے پیار سے سر پر چپت لگاتے ہوئے کہا۔