• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ایک سیریز کیلئے کپتان کی تبدیلی دانشمندی نہیں

محسن رضا نقوی تین سال کے لئے پی سی بی چیئرمین کی ہاٹ سیٹ پر بیٹھ کر اب فیصلہ سازی کررہےہیں۔ کچھ فیصلے ہوچکے ہیں ،دو ڈائریکٹر ملازمتوں سے مستعفی ہو گئے۔ بعض سخت فیصلےجلد دکھائی دیں گے، کام نہ کرنے والے افسران کو گھر جانا ہوگا۔ بظاہر یہ عہدہ پھولوں کی سیج ہے لیکن اس کا مزہ اسی وقت آتا ہے جب پاکستانی ٹیم جیتے اور میڈیا ٹیم کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکےمحسن نقوی کو سنبھل کر آگے بڑھنا ہوگا۔نگراں وزیر اعلی پنجاب کی حیثیت سے محسن نقوی نے کئی اچھے کام کئےاب ان کے پاس وزیر داخلہ اور پی سی بی چیئرمین کی اہم ترین ذمے داریاں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ میں اس عہدے پر رہ کر اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے نبھانا چاہتا ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈکے چیئرمین محسن نقوی چارج سنبھالنے کے بعدپی سی بی کے معاملات پوری طرح سنبھال لئے ہیں، وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر مزید کئی بڑے اور اہم فیصلے کرنے والے ہیں۔ پی سی بی کے ہر چیئرمین کی طرح ان کے لئے اس وقت بڑا چیلنج پاکستان ٹیم کے معاملات کو ٹھیک کرنا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نےوہاب ریاض کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی کو تحلیل کرتے سات رکنی نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کیا،جس میں وہاب ریاض سمیت سابق کپتان محمد یوسف،عبدالرزاق، اسد شفیق کو شامل کیا ہے۔چند ماہ پہلے ریٹائرمنٹ لینے والے اسد شفیق پہلی بار سلیکشن کمیٹی کے رکن بنے ہیں۔

نئی سلیکشن کمیٹی کا کوئی بھی چیئرمین نہیں ہوگا، ٹیم کپتان اور ہیڈ کوچ بھی سلیکشن کمیٹی کے ممبر ہوں گے۔ چیئرمین پی سی بی کا ٹیم کی سلیکشن میں کوئی کردار نہیں ہوگانئی سلیکشن کمیٹی ،جونیئرٹیم بھی منتخب کرے گی ساتوں اراکین میں سے اکثریت پر فیصلہ ہوگا۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کے لئے ہار جیت مسئلہ یا فرق نہیں ، محنت نظر آنی چاہیے محنت صرف مجھے نہیں سب کو نظر آنی چاہیے۔اگر ٹیم ہارے تو عزت سے ہارے۔پاکستان ٹیم کے ممکنہ کھلاڑیوں نے کاکول اکیڈمی میں آرمی ٹرینر کی زیر نگرانی ٹریننگ شروع کردی ،کاکول اکیڈمی میں کرکٹرز کی فٹنس کو مزید بہتر بنانے کےلیے مختلف ڈریلز کرائی جارہی ہیں۔

کاکول کے آرمی اسکول آف فزیکل ٹریننگ سینٹر میں پاکستان ٹیم کے ممکنہ کھلاڑی دو سیشن میں ٹریننگ کررہے ہیں۔ دوسری جانب چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ میں کسی کا نام نہیں لوں گا ،پہلے لوگ پیسے جمع کرکے بینک میں ڈالتے تھے اب وہ پیسے کرکٹ کے اوپر لگیں گے میرے پاس جادو کا چراغ نہیں ، ٹیم کی محنت نظر آنی چاہیے ہاریں بھی تو عزت سے ہاریں۔ خواتین کرکٹ لیگ پر کام شروع ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ حارث روف اچھا کھلاڑی ہے لیکن ٹیم کی ترجیح پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ 

میں پی سی بی میں ری اسٹرکچرنگ اور انفرا اسٹرکچر کے بڑے منصوبوں پر کام کروں گا۔پی سی بی میں ملازمین کی بہت بڑی تعداد ہے۔ ذکاء اشرف دور میں ایک سو سے زائد بھرتیاں کی گئیں ان ملازمین کو برطرفی کے پروانے دینا آسان کام نہیں ہوگا۔ پاکستان میں عام طور پر روایت ہے کہ نیا چیئرمین ،پرانے چیئرمین کی پالیسیوں کو تبدیل کردیتا ہے لیکن پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے وہ صرف وہ پرانے کام ختم کریں گے جو ضروری ہوں گے۔غیر ضروری طور پر سابق دور کے منصوبوں کو ختم نہیں کیا جائے گا۔ 

ٹیم کے 11 کھلاڑی ہیں اور بورڈ میں 900 بندے ہیں کسی کو نوکری سے نہیں نکالنا چاہتا لیکن ہم پیسے بھی بچانا چاہتے ہیں اب ایسا نہیں ہوگا، پی سی بی کے سب پیسے خرچ ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک پالیسی ہوگی جوپی سی بی میں کام کررہاہے وہ صرف پی سی بی میں کام کرےگا، پاکستان کی بہتری کے لیے ہرممکن کام کرنے کی کوشش کریں گے ، میں ایک ساتھ دونوں عہدوں کو رکھنے کو تیار ہوں، بورڈ کے چیئر مین پی ایس ایل فائنل والے نیشنل اسٹیڈیم آئے۔

ماضی کے چیئرمینوں کے برعکس انہوں نے ہر صحافی کے ساتھ مصافحہ کیا اور پریس کانفرنس میں نپی تلی گفتگو میں مختصر جواب دیئے لیکن نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ گئے۔ محسن نقوی نے کہا کہ لاہور میں 4،5 وکٹیں تیار کر رہے ہیں جس میں آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسی پچز ہوں گی اس کے لئے انگلینڈ اورآسٹریلیا سے مٹی منگوائی جارہی ہے۔

حارث رؤف اچھا کھلاڑی ہے لیکن ٹیم کی ترجیح پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، جو ملک سے نہیں کھیلے گا اس کے لیے یہی پالیسی ہے۔ پی ایس ایل کے علاوہ دو غیر ملکی لیگز کھیلنے کی پالیسی پر قائم ہے۔ قوانین پر عمل درآمد کریں گے اور کسی کو اس کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ جلدکوچز کے نام فائنل کرلیں گے، ملکی ہو یا غیر ملکی جو بھی بہتر کوچ ہوگا وہ آئے گا، کپتان کا فیصلہ سلیکشن کمیٹی کرے گی، سلیکشن کمیٹی کو پاورفل بنانا ہے، میں مداخلت نہیں کروں گا۔ ٹورنامنٹ کی پوری تیاری ہے اللہ سے امید ہے چیمپئینز ٹرافی پاکستان میں ہوگی۔

میں اس وقت کئی مافیاز کے خلاف جنگ کررہا ہوں۔محسن نقوی دعوی کرتے ہیں کہ اگلے سال چیمپنز ٹرافی پاکستان میں ہوگی اور بھارت بھی اس میں شرکت کرے گا دبئی میں میری جے شاہ سے اچھی ملاقات ہوئی اس لئے میں ہائی برڈ ماڈل کے بارے میں سوچ ہی نہیں رہا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ سال ملک کے تین سینٹرزقذافی اسٹیڈیم لاہور، نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور پنڈی اسٹیڈیم میں آئی سی سی چیمپنز ٹرافی کرانے کی تیاری کررہا ہے۔ میگا ایونٹ کے لئے تینوں سینٹرز میں جدید سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ 

ٹرافی سے قبل 3 بڑےاسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن ہو گی، آئی سی سی میٹنگ میں ایجنڈے میں تھا میری بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری جے شاہ سے ملاقات ہوئی لیکن میں بہت سارے حساس معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتا، سب باتیں سامنے نہیں لا جاسکتی۔ لیکن آئی سی سی چیمپنز ٹرافی کے موقع پر کراچی،لاہور اور پنڈی کے گراونڈز کو اسٹیٹ آف دی آرٹ بنایا جائے گا۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی، قذافی سٹیڈیم لاہور اور راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کےابتدائی ڈیزائن اعلی سطحی میٹنگ میں چیئرمین کو پیش کئے گئے پی سی بی محسن نقوی نے پی سی بی حکام کے ساتھ ابتدائی ڈیزائن کا تفصیلی جائزہ لیا۔ 

محسن نقوی نے تینوں اسٹیڈیم میں شائقین کرکٹ کے لئے سہولتوں کی بہتری کیلئے نیسپاک حکام کو ضروری ہدایات دیں اور اپ گریڈیشن کا حتمی پلان جلد تیار کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی۔محسن نقوی نے کہا کہ تینوں اسٹیڈیم میں سہولتوں کو بہتر بنایا جائے گا۔ سہولتوں کی بہتری کے ساتھ میچ ویو کو بہتر بنانے کا پلان بھی تیار کیا جائے۔ ہاسپٹلٹز باکس میں اضافے اور تماشائیوں کے لئے نشستوں کو آرام دہ بنانے کی ہدایت دی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ تاریخ میں پہلی بار انٹر کالجیٹ رمضان ٹی ٹونٹی کپ کا ان دنوں انعقاد کررہا ہے۔ ٹورنامنٹ تین شہروں لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں 8 اپریل تک کھیلے جائیں گے۔ 

انٹر کالجیٹ رمضان ٹی ٹوئنٹی کپ میں 30 کالجز حصہ لے رہے ہیں ،انٹر کالجیٹ رمضان ٹی ٹونٹی کپ سے نچلی سطح پر ٹیلنٹ سامنے آئے گا۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا ہے کہ کرکٹ کے فروغ کیلئے اس طرح کے ٹورنامنٹ کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ مہارت اور جذبے کا عملی مظاہرے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے سے ہی حقیقی ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آتا ہے۔

محسن نقوی کو پاکستان ٹیم کے لئے کوچنگ اسٹاف کا تقرر کرنا ہے۔ ہیڈ کوچ کی تقرری بہت اہم ہوگی۔ کپتان کی تبدیلی کی بازگشت بھی ہورہی ہے۔ ایک سیریز کے لئے کپتان کی تبدیلی دانشمندی نہیں ہوگی۔ محسن نقوی کی نیت پر شک نہیں ہے لیکن انہیں حسا س اور مشکل فیصلے سو چ سمجھ کر کرنا ہوں گےخاص طور پر اپنے مشیروں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید