• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہیموفیلیا کے شکار افراد کے خون میں (Factor viii) نامی کیمیکل کی کمی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں’’ بلڈ کلاٹنگ ‘‘کا مسئلہ رہتا ہے اور جسم سے خون بہنے لگتا ہے۔ خون بہنے والے مرض کو ’ہیموفیلیا ‘ کہتے ہیں جب کہ اس بیماری کی دوسری قسمیں بھی ہیں۔ابھی تک دنیا بھر میں اس کے شکار مریضوں کو ہر دوسرے یا تیسرے دن (Factor viii) نامی کیمیکل کےانجکشن لگوانے پڑتے ہیں، جن سے ان کے جگر کو تقویت ملتی ہے اور عارضی طور پر بلڈ کلاٹنگ سے نجات ملتی ہے۔

یہ انجکشن زندگی بھر لگوانے پڑتے ہیں اور اس کی پابندی کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔ اس سے دوچار مریضوں میں عام طور پر خون جم نہیں پاتا، کیوں کہ ان میں خون جمنے والے پروٹین (جمنے کے عوامل) کی کمی ہوجاتی ہے۔ اگر آپ ہیموفیلیا کے مریض ہیں، تو آپ کا خون عام طور پرنا جمنے کی صورت میں زیادہ وقت تک بہہ سکتا ہے۔

چھوٹے زخم عام طور پر بہت زیادہ پریشانی کا سبب نہیں بنتے ہیں۔ بڑی تشویش اس وقت ہوتی ہے جب کسی بھی بیماری کی وجہ سے خون بہہ رہا ہو۔عام طور پر ہیموفیلیا موروثی ہوتا ہے۔ ہیموفیلیا خون کی ایک جینیاتی بیماری ہے،اس بیماری میں مبتلا مریض کو کوئی زخم لگ جائے تو خون رکنے یا جمنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ اس مرض کی ابتدائی تشخیص اسی وقت ہو جاتی ہے جب کوئی نوزائیدہ بچہ دنیا میں آتا ہے، جب اس کی نا ف کاٹی جاتی ہے۔علاوہ ازیں بچے کی ناک سے مسلسل خون کا بہنا،پیشاب میں خون آنا،مسوڑھوں سے خون رسنااور جوڑوں میں سوجن ہونا اس مرض کی ممکنہ علامات ہو سکتی ہیں۔

ہیمو فیلیا کے علاج کے لیے عموماً انجکشن لگایا جاتا ہے جو خون جمانے والے اْن فیکٹرز پر مشتمل ہوتا ہے جو مریض بچے کے خون میں قدرتی طور پر نہیں پایا جاتا۔ مگر چونکہ پاکستان میں یہ فیکٹر انجکشن دستیاب نہیں ہیں چنانچہ ہمارے یہاں مریضوں کو ایف ایف پی(FFP) یعنی منجمد پلازما لگایا جاتا ہے۔ صحت مند خون میں سے لال خون کے خلیے یا پلیٹلٹس (Platelets) نکالنے کے بعد جو کچھ باقی بچتا ہے وہی دراصل ایف ایف پی ہے۔

بہترین صورت تو یہ ہے کہ ہیمو فیلیا کے مریضوں کے جسم میں صرف خون جمانے والے وہ فیکٹر داخل کیے جائیں جسم میں جن کی کمی ہے، مگر پاکستان میں ایسا نہیں کیا جاتا ،کیونکہ مذکورہ فیکٹر بہت مہنگا ہے۔ اس فیکٹر کے صرف ایک وائل کی قیمت نو ہزار روپے ہے ،اور ہر ہفتے تین بار ٹرانسفیوژن کی ضرورت پڑتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں مریض کو مطلوبہ فیکٹر کی جگہ ایف ایف پی لگایا جاتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اکثر خون اور پلازما اسکرین شدہ یعنی محفوظ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہیمو فیلیا کے مریض بچے ہیپاٹائٹس بی ،سی اور ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہو نے کے خطرات سے دوچار سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ہیمو فیلیا کا کوئی مستقل علاج نہیں، جس میں اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے اور نہ ہی ایسا ہے کہ والدین کا علاج کر دیا جائے تو بچے کو کوئی بیماری نہیں ہوگی اور ایک بار بچے کو بیماری ہو جائے تو ایسا ممکن نہیں ہے کہ اس بیماری کو جڑ سے ختم کر سکیں بلکہ دنیا بھر میں ہیمو فیلیا کے مریضوں کو اڑتالیس گھنٹے کے فرق سے تین بار فیکٹرVIII یا IX لگایا جاتا ہے۔

اقسام

اس کی تین اقسام ہیں: ۔اے، بی اور ریئرفیکٹر ڈیفیشنسیز (Rare Factor Deficiencies)۔ ان میں سب سے عام اے ہے۔ ہر پانچ ہزار نو زائیدہ بچوں میں سے ایک بچہ’’ ہیموفیلیا اے ‘‘کا شکار ہوتا ہے۔ اس قسم میں فیکٹر viii کی کمی ہوتی ہے۔ اس مرض کی شدّت کے اعتبار سے درجہ بندی کی گئی ہے، جس کے مطابق پہلا درجہ مائلڈ ہیموفیلیا (Mild Hemophillia) ہے، جس میں کلاٹنگ فیکٹرز کی تعداد5 فی صد سے زائد پائی جاتی ہے۔دوسرا درجہ،معتدل ہیموفیلیا (Moderate Hemophillia) کہلا تا ہے ،اس میں فیکٹرز کی تعداد ایک سے 5فی صد اورجب کہ تیسرے درجے شدید ہیموفیلیا (Severe Hemophillia) میں کلاٹنگ فیکٹرز کی مقدار ایک فی صد سے بھی کم پائی جاتی ہے۔

علامات

ہیموفیلیا کی علامات ہر ایک کی مختلف ہوتی ہیں ۔یہ جمنے کے عوامل کی مقدار پر منحصر ہے، اگر آپ کو صرف سرجری یا چوٹ کے بعد خون آتا ہے، تو آپ کے جمنے کے عنصر کی سطح ہلکی سے کم ہو سکتی ہے۔ اگر آپ میں کسی اور چیز کی کمی ہے توبغیر کسی وجہ کے بھی خون بہہ سکتا ہے۔عام طور پر خون بہنے کی وجوہ کٹ یا چوٹ لگنے سے بہت زیادہ خون بہنا،سر جری یا دانتوں کے کام کے بعد بغیر کسی وجہ کے خون بہنا ،انجکیشن لگتے وقت غیر معمولی طور پر خون بہنا،جوڑوں کی تکلیف، ورم، یا سختی، چھوٹے بچوں میں چڑچڑاپن، گہرے زخم وغیرہ ہوتی ہیں۔ 

ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا کچھ مریضوں کے سر میں معمولی چوٹ کے بعد دماغ میں خون بہنے لگتا ہے، اگرچہ ایسا اکثر نہیں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس مرض میں مبتلا مریضوں کے شدید سر درد ،بار بار قے آنا، سستی غنودگی اور اچانک کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ ہیموفیلیا جین میں تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے، جو خون کے جمنے کو بنانے کے لیے درکار جمنے والے عنصر کے پروٹین کو بنانے کے لیے ہدایات فراہم کرتا ہے۔

جسم عام طور پر خون کے خلیات کو جمع کرتا ہے، تاکہ خون بہنے پر اس کو روکا جا سکے۔ خون کے پروٹین جو جمنے کے عوامل کہلاتے ہیں ،وہ پلیٹلیٹ جیسے خلیوں کے ساتھ مل کر خون جمانے کا کام کرتے ہیں۔ جب جمنے کا عنصر نہ ہو یا ناکافی مقدار میں موجود ہو تو ہیموفیلیا کا مرض لاحق ہوتا ہے۔

پیدائشی ہیموفیلیا

عام طور پر، ہیموفیلیا وراثت میں ملتا ہے۔ پیدائشی ہیموفیلیا کی مختلف اقسام کی درجہ بندی کرنے کے لیے کم جمنے والے عوامل استعمال کیے جاتے ہیں۔ہیموفیلیا اے سب سے زیادہ عام قسم ہے اور عنصر 8 کی کم سطح سے منسلک ہے۔ جب کہ ہیموفیلیا بی، دوسری سب سے عام قسم، عنصر 9 کی کم سطح سے منسلک ہے۔

غیر معروف ہیموفیلیا

یہ ان لوگوں میں بھی ہوسکتا ہے جن کے خاندان میں اس کی کوئی تاریخ یا مثال نہ ہو ۔جب خون میں جمنے کا عنصر 8 یا عنصر 9 مدافعتی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے، تو ایک بیماری ہوجاتی ہے جسے ایکوائرڈ ہیموفیلیا کہا جاتا ہے۔ اگر خاندان میں کسی کو ہیموفیلیا کا مرض ہے تو گھر کے دیگر افراد کو ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ مرض عورتوں کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ عام ہے۔

پیچیدگیاں

پٹھوں میں درد، سوزش جو اعصاب پر دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔گردن یا گلے میں خون بہنا کسی شخص کی سانس لینے کی صلاحیت، اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ جوڑوں میں چوٹ اندرونی خون بہنے سے مشترکہ دباؤ کے نتیجے میں تکلیف ہوسکتی ہے۔ بار بار خون بہنا، اگر علاج نہ کیا جائے تو جوڑوں کے درد یا انحطاط کا باعث بن سکتا ہے۔ انفیکشن ہیموفیلیا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے خون کے جمنے کے عوامل ہیپاٹائٹس سی جیسے وائرل انفیکشن کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ 

ڈونر کی اسکریننگ کے طریقہ کار کی وجہ سے خطرہ محدود ہے۔کلٹنگ فیکٹر تھراپی کا منفی ردعمل بھی ہوتا ہے ،اُس وقت مدافعتی نظام ایسے پروٹین پیدا کرتا ہے جو خون جمنے کے عوامل کو کام کرنے سے روکتا ہے، یہ علاج کی تاثیر کو کم کر دیتا ہے۔ہیمو فیلیا کا مرض بچوں کی نفسیات پر بھی اثرات ڈالتا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں میں بے چینی، پژمردگی (ڈپریشن)، کسی کام کو بار بار دہرانے کی نفسیاتی بیماری (او سی ٹی)، احساس کمتری جس کے نتیجے میں دواؤں پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مرض کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کی جائے، تاکہ اس مرض کے بارے میں لوگوں کو معلومات ہوں اوروہ اچھے طریقے سے علاج کرا سکیں۔

صحت سے مزید