(گز شتہ سے پیوستہ)
نوٹ :گزشتہ قسط میں گوربا چوف کی بجائے خروشچیف لکھا گیا اس طرح میں نے لکھا تھا اوسلو میں سات مساجد ہیں مگر لکھا گیا ناروے میں سات سو مساجد ہیں۔
پورے یورپ کی طرح ناروے میں بھی شادی سے انکاری لوگ آہستہ آہستہ تعداد میں بڑھتے جا رہے ہیں اسی طرح بچوں کی پیدائش میں بھی نمایاں کمی نظر آتی ہے تاہم یہ کمی پاکستانی نارویجن پورا کرنے میں مشغول ہیں۔ اوسلو میں ایک پاکستانی کی کریانے کی دکان تھی اس نےسولہ بچے پیدا کرکے ناروے کی آبادی میں اضافے کی پرخلوص کوشش کی ،ہر بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی ریاست اس کا وظیفہ مقرر کر دیتی تھی اور اگر بچے کی ماں کہیں ملازمت کرتی تھی تو اسے کچھ عرصے کی چھٹی مع تنخواہ کی سہولت حاصل تھی ۔سیکس پورے یورپ میں کسی کا مسئلہ نہیں ان ملکوں میں بلوغت پر پہنچتے ہی بچے بچیاں اس کام میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ناروے میں ایک فرق جو نظر آتا ہے وہ یہ کہ اوسلو میں صرف دو ایک نائٹ کلب موجود ہیں مگر ان میں بھی وہ حدود کراس نہیں کی جاتیں جو یورپ اور امریکہ میں کی جاتی ہیں اس کے علاوہ سڑکوں پر گاہکوں کے انتظار میں کھڑی یہ مظلوم مخلوق آپ کو نظر آئے گی تاہم یہ کاروبار جہاں غیر قانونی ہے پولیس کئی مرتبہ ان کو اٹھا کر لے جاتی ہے ۔میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ عورتیں یا تو بہت بدصورت ہوں گی اسکے علاوہ ’’ہڈحرام‘‘ بھی ہوسکتی ہیں ویسے بھی یہ خواتین مجھے احمق لگتی ہیں جہاں سیکس کے فری مواقع وافر تعداد میں موجود ہوں وہاں کوئی ذہنی مریض ہی جاتا ہو گا یا وہ جسکی قسمت میں کوئی ’’دوست‘‘ نہ لکھی ہو۔ اسکے علاوہ نہایت شریفانہ کلب ہی اوسلو میں موجود ہیں جو جمعہ اور ہفتہ کی شام کو لبالب بھرے ہوتے ہیں ، ان دو دنوں میں سڑکوں پر نشے میں دُھت لڑکے اور لڑکیاں گیت گاتیں گھروں کو جاتی نظر آتی ہیں انکے علاوہ کام کرنے والی ویٹرسس بھی دکھائی دیتی ہیں جو دن بھر کی تھکی ماندی واپس گھروں کو جا رہی ہوتی ہیں۔ ایک بات یہ بھی سننے میں آئی کہ بہت زیادہ ڈرنک کرنیوالی خواتین واپسی کیلئے کوئی ٹیکسی ہائر کرتیں تو دروازہ کھولتے ہی دھرام سے سیٹ پر لیٹ جاتیں اور ٹیکسی ڈرائیور انکی بے ہوشی سے فائدہ اٹھاتے!
جیسا کہ میں نے آپ کو شروع میں بتایا کہ یہاں شاذو نادر ہی شادی شدہ لوگ نظر آتے ہیں چنانچہ انہیں اس طرف راغب کرنے کیلئے کنگ ہر سال بہت دھوم دھام سے اپنی شادی کی سالگرہ مناتے ہیں تاکہ لوگ اس طرف راغب ہوسکیں، ہوسکتا ہے کہ لوگ راغب ہو جاتے ہوں اور کچھ سوچتے ہوں گے شادی صرف ’باوفا‘لوگ ہی کرسکتے ہیں اور وہاں بیرون ملک سے تعلیم کیلئے ناروے آنے والی لڑکیاں ماہانہ مشاہرےپر بھی آپ کی گرل فرینڈ بن سکتی ہیں اس ’’سہولت‘‘سے وہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو چارمنگ گفتگو نہ کرسکتے ہوں یا جن میں حوصلہ ہی نہ ہویا شکل وصورت کے حوالے سے ان سے ’’ناانصافی‘‘ کی گئی ہو ہم لوگوں کو یہ سب باتیں بہت عجیب لگیں گی۔الحمدللہ ہمارے ملک میں اتنی کھلم کھلا بےحیائی نہیں اس کی بجائے بھوک ننگ ہے، اللہ کرے کوئی ایسا حکمران بھی آئے جو فلاحی نظام قائم کرے اور ہمارے ہاں اس غیر اخلاقی نظام کا خاتمہ کرے ۔پہلے یہ کام صرف ’’خاندانی ‘‘طوائفیں کرتی تھیں آپ یقین کریں کہ اب اس پیشے میںمال وزر کے حصول کی دوڑ میں وہ خاندان بھی شامل ہو گئے ہیں جن کے بارے میں آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ان کی لڑکیاں جسم فروشی کرتی ہوں گی ۔
آخر میں مجھے ایک بات یاد آگئی کہ اوسلو کے میئر کی دوستی کے نتیجے میں مجھے وہ اس ہال میںلے گیا جہاں گوربا چوف کے اعزاز میں بھرپور محفل سجائی گئی تھی میں نے یوم پاکستان کے موقع پر اس ٹاؤن ہال میں ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا جس میں پاکستان سے بھی مقررین کو مدعو کیا گیا تھا اس موقع پر ایک ناگوار سی صورت پیدا ہو گئی مشاعرہ ختم ہوتے ہی پاکستان سے آئے ہوئے ایک معروف شاعر میرے پاس آئے اور کہا مجھے مشاعرے کا معاوضہ ادا کریں میں نے عرض کی برادر میں شعراء کو پورے احترام کے ساتھ ایک ہی وقت میں معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ہوٹل میں سفارتخانے کا ایک اہلکار آئے گا اور وہ لفافے میں آپ کو ہدیہ پیش کرے گا مگر انہوں نے کہا نہیں مجھے ابھی دیں میں چونکہ انہیں بہت عرصے سے جانتا تھا چنانچہ میں نے اپنی اور اپنےسٹاف کی جیبوںسے پیسے نکلوائے اور شاعر صاحب کے سپرد کرتے ہوئے کہا اب کسی کونے میں جاکر گن بھی لیں اگر کچھ کم ہوں تو میں کسی سے آپ کے سائز کا کوٹ اتروا کر آپ کو پیش کردوں گا۔
ایک بات اتنی قسطیں لکھنےکے باوجود رہ گئی تھی اوروہ یہ کہ جب میں نے چارج سنبھالا تو ایک کمرے کو بند پایا وہ کمرہ کھلوایا گیا تو اس میں پاکستان کے محکمہ اطلاعات کے اس لٹریچر کے ڈھیر برآمد ہوئے جو پاکستان کے بارے میں اہم معلومات پر مبنی تھے اور یہ تقسیم کیلئے تھے میں نے وہ ساری ’’ردی‘‘ نکلوائی اس کا ایک حصہ اس کمرے میں نمایاں جگہ پر رکھوایا جہاں لوگ ویزا لینے آتے تھے اور باقی جو اس میں سے تازہ ترین تھا مختلف سفارتخانوں کو بھجوا دیئے۔(جاری ہے)