(گزشتہ سے پیوستہ)
میرا باورچی ریاض سرگودھا کا تھا اور بہادر ساہیوال سےمگر اس کی ساری عمر لاہور ہی میں بسر ہوئی تھی ۔ناروے جانے سے پہلے ریاض کا انتخاب میرے چند دوستوں نے ’’کثرت رائے ‘‘ سے کیا تھا میں نے پنجاب ہاؤس میں چند دوستوں کو کھانے پر مدعو کیا تھا جو کھانے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے ان میں سے ہر ایک نے اپنی کسی پسندیدہ ڈش کا انتخاب کیا۔ ریاض اس وقت پنجاب ہاؤس میں باورچی تھا اس کے متعلق پتہ چلا کہ وہ کھانا بہت اچھا بناتا ہے کھانے کے بعد سب نے ریاض کو بہت اچھے نمبروں سے پاس کر دیا چنانچہ اس کا پاسپورٹ بننے کیلئے دے دیا گیا۔ بہادر میرے ایک دوست کے ساتھ کام کرتا تھا میں نے اس سے بہادر ادھار لے لیا یہ دونوں میرے ساتھ پہلے ناروے اور پھر تھائی لینڈ چلے آئے بہادر کا اصلی نام تو مجھے یاد نہیں بس اتنا یاد ہے کہ وہ پان بے حد کھاتا تھا اور یوں اس کے ہونٹ اور زبان لالوں لال ہوتے تھے جو باقی چہرے سے لگانہیں کھاتے تھے اسے کالا تو نہیں کہا جاسکتا تھا اور نہ گورا بلکہ سانولا کہنے کےلئے بھی خاصے اضافی نمبر دینا پڑتے تھے قد درمیانہ، چٹا ان پڑھ مگر بلا کا ذہین ،ریاض سانولا تھا دبلا پتلا اتنا کہ اسے پھونک مارنے سے پہلے سوچنا پڑتا تھا، چہرے پر شائد دس نمبر عینک ،مگر کھانا پکانے میں طاق تھا یہ دونوں پاکستان سے ناروے اور پھر ناروے سے تھائی لینڈ میرے ساتھ چلے آئے تھے ۔دریں اثنا میری فیملی بھی کچھ دنوں کیلئے تھائی لینڈ چلی آئی تھی ۔بہادر کو میں نے لاہور ہی سے اپنے ساتھ رکھ لیا تھا میں نے پہلے دن اسے مال روڈ چلنے کیلئے کہا جس پر وہ میرا منہ دیکھنےلگا میں نے پوچھا کیا مسئلہ ہے بولا سر مال روڈ کدھر ہے یہ سن کر میرا دماغ گھوم گیا میں نے صبر سے کام لیتے ہوئے مال روڈ کےقرب وجوار میں واقع کئی مشہور مقامات کا نام لیا مگر اس نے ہر بار پوچھا سر وہ کہاں ہے بالآخر میں نے اس سے پوچھا ’’مولا بخش پان والے کی دکان کا پتہ ہے ’’اس کا چہرہ کھل اٹھا اور بولا ’’جی سر‘‘ میں نے کہا مجھے وہاں لے چلو کہ مولا بخش کی دکان مال روڈ سے ملحق ہے بہادر جتنا عرصہ میرے ساتھ رہا ہر دفعہ وہ مقام بھی بھول جاتا تھا جہاں وہ میرے ساتھ پہلے بھی کئی دفعہ جا چکا ہوتا تھا۔ ریاض جب سیر کیلئے باہر نکلتا تو ناروے کی حسیناؤں کیلئے ہینٹ سٹریٹ پہنچتا اور عینک اتار کر جیب میں ڈال لیتا جس کے نتیجے میں سامنے آنے والے کسی شخص سے جاٹکراتا ۔بہادرر کا بیان تھا کہ جن سے وہ ٹکراتا وہ عموماً خواتین ہوتیں واللہ ا علم بالصواب۔
بہادر جیسا کہ پہلے بتایا ان پڑھ ہونے کے باوجود بہت ذہین تھا مجھے لاہور میں رہتے ہوئے مال روڈ کا پتہ نہیں تھا وہ مجھے ناروے میں دفتر خارجہ اور اسی طرح کے دوسرے مقامات پر بروقت پہنچا دیتا تھا۔ ناروے میں وہ پہلے سے موجود ڈرائیور کےساتھ وہ مقام دیکھ آتا تھا جہا ں میں نےاسے جانے کیلئے کہا ہوتا تھا اور یہی تکنیک اس نے تھائی لینڈ میں بھی استعمال کی۔
بہرحال جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا میری فیملی بھی چند روز کیلئےمیرے پاس آ گئی تھی میں تھوڑا وقت انہیں دیتا اور اپنے فرائض منصبی بھی ادا کرتا رہتا۔ میں نے ان دنوں اقبال پر ایک مذاکرہ بھی منعقد کیا جس میں شرکت کیلئے دوسرے ممالک کے سفیروں کو بھی خصوصی دعوت نامے بھیجے اس تقریب میں شرکت کیلئے پاکستان سے اسکالر مدعو کئے گئے تھے یہ تقریب بھی بہت کامیاب رہی کہ اس کے اشتہارات میں نے ان تمام ریستورانوں کے کاؤنٹر پر بھی رکھوائے تھے جہاں پاکستان سے آئے ہوئے سیاح کھانا کھانے آتےتھے ۔علاوہ ازیں ایک زبردست کل پاکستان مشاعرے کا بھی انعقاد کیا ان میں ایک نوجوان شاعر بھی تھا اس نے آتے ہی ہوٹل کے کاؤنٹر پر موجود ایک پاکستانی اہلکار سے کہا کہ وہ بہت سخت تھکا ہوا ہے اور مساج کروانا چاہتا ہے اس نے مسکراتے ہوئے کہا آپ سڑک پر کھڑے ہو کر دائیں بائیں سامنے پیچھے جدھر بھی نظر دوڑائیں گے آپ کو مساج ہاؤسز مل جائیں گے۔
پاکستان کے صف اول کے ایک شاعر نے جو میر ےدوست بھی تھے مجھے مسکراتے ہوئے کہا سفیر صاحب آپ شاعر بھی ہیں اور آپ جانتے ہیں میں مشاعرہ بقائمی ہوش وحواس نہیں پڑھ سکتا اور مجھے یہاں ایسا کوئی انتظام نظر نہیں آتا میں نے جواب دیا برادر یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سفارتخانہ ہے ہم یہاں یہ سہولت فراہم نہیں کرتے پھر میں نے ایک پاکستانی کو بلایا اور معقول تھائی کرنسی اس کے سپرد کی اور کہا انہیں لے جاؤ مگر جب واپس لاؤ تو یہ مشاعرہ پڑھنے کے قابل ضرور ہوں۔موضوع سے ہٹ کر ریاض کی بابت ایک واقعہ۔ بہادر گھر کے تالاب میں نہا رہا تھا ریاض کو بھی جوش آیا اور دھوتی سمیت تالاب میں چھلانگ لگا دی مگر کچھ ہی دیر بعد دھوتی تالاب میں تیرتی نظر آئی اور ریاض دھوتی کے پیچھے بھاگتا دکھائی دیا۔(جاری ہے)