(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان سے آئے ہوئے شاعر دوستوں اور فیملی کی وجہ سے یکسانیت کم ہوئی جو ایک ہی طرح کے کام مسلسل کرنے کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے۔ ان دنوں دوستوں سے گپ شپ کا موقع بھی ملا اور فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کا بھی۔ ناروے میں میں نے افتخار عارف کو بھی مدعو کیا تھا۔ اس نے دوستوں کو بتایا کہ وہ فجر کی نماز کے لئے گراؤنڈ فلور پر آئے تو دیکھا مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے محترم سفیر صاحب (یعنی راقم الحروف) صوفے پر گہری نیند سو رہے ہیں۔ بہرحال میں اپنی فیملی کو تھائی لینڈ کے سیاحتی مرکز تپایا لے کر گیا اور دو راتیں وہاں گزاریں۔ تھائی لینڈ میں بہادر کے علاوہ سفارت خانے کا ایک الگ ڈرائیور بھی تھا میں نے اسے کہا بچوں کو شاپنگ کرانی ہے، یہاں جو بہترین شاپنگ سنٹر ہو وہاں لے چلو۔ وہ ہمیں ایک چھوٹی سی سڑک پر لے گیا جہاں مختلف اشیاء کی چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں۔ بس آپ یوں سمجھیں کہ وہ ہمیں شاہ عالمی لے آیا تھا۔ بائیں جانب کی دکانوں پر اچٹتی سی نظر ڈالتے ہوئے میں نے جونہی دائیں جانب دیکھا تو میں نے گھبراہٹ کے عالم میں ڈرائیور سے کہا کہ جتنی جلدی ممکن ہو ہمیں یہاں سے لے چلو۔ دائیں جانب چھوٹی چھوٹی دکانوں یا گھروں کے باہر نیم برہنہ لڑکیاں کھڑی گاہکوں کا انتظار کر رہی تھیں۔ ڈرائیور کے نزدیک یہ بہترین شاپنگ سنٹر تھا۔
پھر وہ لمحہ آگیا جب شاعر دوستوں کو الوداع کہنا تھا۔ میں انہیں خدا حافظ کہنے کے لئے ان کے ساتھ ایئر پورٹ گیا، صرف حسن رضوی میرے ساتھ رہا۔ وہ کچھ دن مزید یہاں رہنا چاہتا تھا۔ آج ان میں سے کوئی ایک بھی اس دنیا میں نہیں ہے۔ رات کو میں اور حسن رضوی ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ چلتا پروگرام ایک دم بند ہو گیا اور کچھ دیر بعد اناؤنسر اسکرین پر نمودار ہوئی اور اس طرح کا اعلان کیا کہ کرپٹ سیاست دانوں کی وجہ سے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا ہے اور ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے، وزیر اعظم نواز شریف کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔ یہ خبر سن کر مجھے ایک بار پھر اپنے ملک کی بدقسمتی پر رونا آیا، یہ جب بھی پٹری پر چلنے لگتا ہے کوئی ’’عزیز ہم وطنو‘‘ کی گردان کرتا ٹی وی اسکرین پر نمو دار ہو جاتا ہے۔ میں یہ خبر سنتے ہی اٹھا کاغذ قلم سنبھالا اور استعفیٰ لکھ کر سوگیا۔ حسن رضوی حیرانی کا اظہار کیا کرتاتھا کہ عطا کو مارشل لا لگنے کا تو شدید صدمہ ہوا مگر اتنے بڑے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اسے کوئی ملال نہیں تھا۔ مجھے خبر نشر ہوتے ہی فرسٹ سیکرٹری نے فون پر یہ خبر سنائی میں نے انہیں بتایا کہ میں سن چکا ہوں اور استعفیٰ بھی لکھ دیا ہے۔ جس پر انہوں نے اصرار کیا کہ میں یہ کام نہ کروں، صبح آفس گیا تو کیپٹن صاحب نے ایک بار پھر اپنے موقف سے قائل کرنے کی کوشش کی مگر میں نے ایک ہی بات کی کہ جس حکومت نے مجھے اس عہدے پر فائز کیا تھا اس کے جانے کے بعد میرا اس عہدےسے چمٹے رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ چنانچہ میری ضد کے آگے انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور میرا استعفیٰ پاکستان کی وزارت خارجہ کو بھیج دیا۔
اس سے آگے ایک مرحلہ یہ آیا کہ جس جہاز پر ہم نے اپنے مہمان شعرا کو سوار کرایا تھا اسے لینڈنگ کی اجازت نہ ملی اور جہاز واپس بنکاک پہنچ گیا۔ ان مہمانوں کے دوبارہ قیام کا اہتمام کیا اس دوران کرنل بشیر نے بھی مجھے یہی مشورہ دیا کہ میں اپنا استعفیٰ واپس لے لوں کہ نئی حکومت کو آپ کی سفارت پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور اس حوالے سے اپنا موقف دہرا دیا۔ میں یہ بھول چلا تھا کہ درمیانی عرصے میں تھائی باشندوں پر مشتمل ایک جلوس نے انڈین ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرہ کیا انہوں نے بینر اٹھائے ہوئے تھے کہ کشمیر کے مسئلہ کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں کیا جائے۔ پاکستان میں مارشل لا لگنے کے چار دن بعد سفارت خانے نے ایک اور مذاکرے کا اہتمام کیا تھا اور میں سامعین میں بیٹھا تھا، مجھے کہاگیا کہ آپ اسٹیج پر ’’تشریف‘‘ لائیں میں اگرچہ جانتا تھا کہ استعفیٰ کی منظوری تک میں سفارت کے عہدے پر قائم ہوں مگر میرا جی نہ چاہا کہ ایسی کرسی پر بیٹھوں جو اب عوام کی نمائندگی نہیں کرتی تاہم تمام مقررین اپنی تقریر کا آغاز ’’مسٹر ایمبیسڈر‘‘ کہہ کر کرتے۔ ابھی تک میرا استعفیٰ منظور نہیں ہوا تھا مگر میں نے پاکستان کے لئے رخت سفر باندھا اور میں اپنے کولیگز کی اس محبت کو تاعمر فراموش نہیں کروں گا کہ ان سب نے فرداً فرداً اپنے گھروں میں میرے اعزاز میں ڈنر یا لنچ کا اہتمام کیا اور سارا عملہ مجھے ایئر پورٹ پر الوداع کہنے آیا۔
میں نے اپنے گھر فیکس کردیا تھا کہ میں اگر کافی دیر تک جہاز سے اتر کر لاؤنج میں نہ آؤں تو پلیز کسی گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں تاہم ایسی کوئی صورت حال پیش نہ آئی اور میں بخیر و عافیت اپنے گھر پہنچ گیا، میں کالج سے چھٹی لے کر گیا تھا مگر واپسی پر مجھے جوائننگ کی اجازت نہ ملی اور میں آٹھ مہینے تک او ایس ڈی لگا رہا۔ اس دوران میں نے نوائے وقت میں کالم کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا اور مارشل لا کی حکومت کے خلاف پے در پے کالم لکھے۔ حالانکہ اس وقت مصلحت کا تقاضا خاموشی اور بے غیرتی کا تقاضا ان کی حمایت میں کالم لکھنا تھا، مگر الحمد للہ میں نے یہ دونوں کام نہ کئے۔ مارشل لا چونکہ بارہ اکتوبر کو لگایاگیا تھا چنانچہ اس عرصے میں لکھے اپنے کالموں کی کتاب کا نام میں نے ’’بارہ سنگھے‘‘رکھا اور تقریب رونمائی کی صدارت نوابزادہ نصر اللہ خان نے کی۔ ناروے اور تھائی لینڈ میں آڈٹ ٹیموں نے سارے کھاتے کھنگال ڈالے مگر ان میں سے انہیں کچھ نہ ملا۔ میرے ایک دوست نے بتایا کہ آڈٹ ٹیم میں اسکا ایک دوست بھی تھا جس نے اسے بتایا کہ میںنے دو دو تین تین دفعہ چھان بین کی کہ شاید کچھ مل جائے اور یہ اس لئے کیا کہ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ شخص جو لکھتا ہے اس کا اپنا کردار کیا ہے، اس نے میرے دوست سے کہا کہ وہ اس کا پیغام انہیں پہنچائے کہ وہ اس امتحان میں سرخرو نکلے ہیں۔ (جاری ہے)